ہفتہ , 8 مئی 2021

روز معلم۔۔۔۔۔ اساتذہ کی قدردانی کا دن

(تحریر: محمد حسن جمالی)

دو دوست تهے، ایک کا نام دلاور تها اور دوسرے کا نام یاور، وہ ہمیشہ ساتھ رہتے تهے، دونوں ایک ہی محلے کے تهے، دلاور یاور سے دو سال بڑا تها، دلاور نویں جماعت میں پڑهتا تها جبکہ یاور آٹھویں جماعت کا طالب علم تها۔ دلاور بڑے شوق سے پڑهتا تها، تعلیم کی اہمیت سے واقف تها اور اپنے اسکول میں وہ دوسروں کے لئے نمونہ تها۔ اسکول کے اساتذہ اس سے خوش تهے، وہ اس پر پوری توجہ دیتے تھے، بڑے پیار سے اسے پڑهاتے تهے، اس کی صلاحیت کے معترف تھے اور ہر وقت اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں دلاور بهی اپنے اساتذہ کا بےحد احترام کرتا تھا، ان کی نصیحتوں پر عمل کرتا تھاـ مگر اس کا پیارا دوست یاور تعلیم کی اہمیت سے بیگانہ تها، وہ تعلیم میں کم دلچسپی لیتا تها۔ دلاور نے کئی بار اپنے دوست کو سمجهایا، تعلیم کی اہمیت بتائی، اس کو اپنی طرح کا محنتی طالب علم بنانے کی کوشش کی، اسے مسلسل سمجهاتا رہا، لیکن نتیجہ صفر نکلا، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس کی سعی لاحاصل گئی، دلاور کو بڑا دکھ ہوا۔ وہ دونوں روزانہ ساتھ اسکول جایا کرتے تهے، چنانچہ کافی سوچ و بچار کے بعد دلاور نے اپنے دوست یاور کی تعلیم سے عدم دلچسپی کی وجہ جاننے کا سوچا، وہ مناسب موقع کا منتظر تها، وقت گزرتا گیا، لیکن یاور کو کوئی مناسب موقع نہیں ملا۔

ایک دن دلاور کے استاد نے کلاس میں لیکچر دینے کے بعد طلباء سے مخاطب ہوکر کہا؛ "بچو” کیا تم جانتے ہو کل کا دن کونسا دن ہے؟ سب نے نفی میں سر ہلایاـ استاد دوبارہ گویا ہوئے اور کہا "عزیز بچو” کل کا دن بڑی اہمیت کا حامل دن ہے، کل دو مئی ہے۔ جس دن ہمارے پڑوسی ملک ایران میں یوم معلم منایا جاتا ہے، بچوں نے سوال کیا "سر” اس دن کو ایران میں روز معلم کس مناسبت سے منایا جاتا ہے۔؟ استاد نے کہا "پیارے بچو” دو مئی کو ایران کی عظیم شخصیت، خطیب بے بدیل، مائہ ناز مفکر، عظیم فلاسفر، معلم بزرگ آیت اللہ ڈاکٹر مرتضیٰ مطہری کو اسلام کے دشمنوں نے درجہ شہادت پر پہنچا دیا ہے۔ اسی مناسبت سے ایران میں دو مئی کو روز معلم منایا جاتا ہےـ

عزیز بچو!، شہید مرتضیٰ مطہری نے اپنے گهر سے ہی حصول تعلیم کی ابتداء کی، 12 سال کی عمر میں حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں قدم رکها، کچھ مدت کے بعد عازم حوزہ علمیہ قم ہوئے، وہاں تحصیل کرتے رہے اور پورے 25 سال قم میں رہ کر انہوں نے علمی شخصیات سے بهرپور استفادہ کیا۔ ان کے اساتذہ میں سر فہرست امام خمینی، آیت اللہ بروجردی اور علامہ طباطبائی کا نام آتا ہے۔ شہید مرتضیٰ مطہری ظاہری طور پر ایک انسان تهے، لیکن درحقیقت وہ ایک پوری ملت تهے، جن کی علمی تقریروں اور لیکچرز نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ استاد اپنی گفتکو ختم کرکے جانے والے ہی تهے کہ دلاور فوراً اپنی جگہ سے اٹها اور استاد کی طرف بڑھ کر تقاضا کیا کہ "استاد محترم” میں ان کی حالات زندگی پوری تفصیل سے جاننے کا متمنی ہوں آپ میری رہنمائی فرمایئے۔

استاد بہت خوش ہوئے اور اس کو آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی زندگی کے بارے میں لکهے گئے کچھ مقالے پکڑا دیئے۔ اس کے ساتھ جہان بینی کے بارے میں استاد مطہری کی لکھی ہوئی شہرہ آفاق کتاب دیتے ہوئے کہا بیٹے "آپ ان کا دقت سے مطالعہ کیجئے گا، آپ جیسوں کے لئے ان کی زندگی نمونہ ہے اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیئے گا کہ انہیں پڑهنے کے بعد آپ ضرور اپنے اندر تبدیلی محسوس کریں گے۔ دلاور نے استاد کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور استاد سے مقالے لیکر لائبریری میں چلا گیا، اسے اپنی جگہ بے انتہا خوشی ہو رہی تهی۔ کتابخانے میں داخل ہوتے ہی آذان کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی، وہ صوم و صلوة کا پابند تھا، چنانچہ وضو کرکے وہ فریضہ نماز ادا کرنے کے لئے لائبریری کے پاس مسجد میں پہنچ گیا اور ایک نورانی شیخ کی اقتداء میں نماز ظہر باجماعت پڑهی، اسے آخری صف سے پہلے والی صف میں جگہ ملی تهی، تعقیبات کے بعد وہ عصر کی نماز فرادا پڑھنے کی غرض سے اٹها ہی تها کہ اچانک دیکها کہ امام جماعت ممبر پر ہے، اس نے سوچا مولانا صاحب شاید کوئی شرعی مسئلہ سناتے ہوں گے، کیونکہ نماز ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے سے استفادہ کرتے ہوئے مساجد میں اکثر امام جماعت کا کسی شرعی مبتلابہ مسئلے کی وضاحت کرنا معمول تھا” مگر توقع کے برخلاف امام جماعت نے خطبہ شروع کر دیا۔

وہ کہتا ہے کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ جلدی نماز فرادا پڑھ کر نکل جاوں یا انتظار کروں اور امام جماعت کی گفتگو سے پہلے استفادہ کر لوں، اندر سے اسکے ضمیر نے جھنجوڑ کر کہا "تجھے بیٹھ کر اس عالم کی گفتگو سے استفادہ کرنا چاہیئے، ایسا موقع بار بار میسر نہیں آتا، چنانچہ وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا اور محو سماعت ہوگیا۔ اس نوارانی شخصیت نے میری سوچ کے برخلاف خطبہ پڑهنے کے بعد شہید مطہری کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی، کیونکہ یکم مئی کی تاریخ نزدیک تھی، میں بہت خوش ہوا، ان کی گفتگو پوری توجہ سے سنی، بڑا لطف آیا، اس لئے کہ ان کی گفتگو نے میرے اندر ایک عجیب تاثیر چهوڑی تھی۔ نماز عصر سے فراغت پانے کے بعد میں لائبریری کے اندر گیا اور استاد سے لئے ہوئے مقالوں کا سرسری مطالعہ کیا، فہرست پڑھی۔ کیا مقالے تهے "سبحان اللہ” فقط ایک چھوٹے مقالے کو تین مرتبہ اول سے آخر تک پڑها، اس کے بعد استاد مطہری کی مایہ ناز کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا، جب اسے پڑھ کر ختم کیا تو واقعی استاد کی پیشنگوئی سچ ثابت ہوئی، یعنی مجھے اپنے اندر انقلاب برپا ہوتا محسوس ہوا، میرے ذہن کے دریچے کھل گئےـ انسان، خدا اور جہاں کے بارے میں میرا ایمان مضبوط ہوا، مجھے علم کی عظمت اور اہمیت کے بارے میں بہت سارا علمی اور استدلالی مواد مل گیا اور شام کو خوشی خوشی اپنے گهر لوٹا۔

دوسرے دن اسکول میں اتوار کی چهٹی تهی، علی الصبح ناشتہ سے فراغت پانے کے بعد اس نے اپنے دوست یاور کا فون نمبر ملایا، بڑی مشکل سے اس نے کال اٹهائی، سلام و دعا کے بعد اس نے کہا آج ہم دونوں پارک ملت سیروتفریح کے لئے چلتے ہیں، کیا خیال ہے آپ کا جاوگے؟ دلاور کو گهومنے پهرنے کا بڑا شوق تها فوراً قہقہ لگاتے ہوئے ہوئے کہا کیوں نہیں، آج ویسے بهی اسکول کی چهٹی ہے، ہم ضرور جائیں گے۔ دلاور نے کہا پهر آپ تیاری کرکے جلدی ہمارے گهر پہنچ جائیں، میں آپ کا منتظر رہوں گا۔ وہ 15 منٹ کے بعد اپنی موٹر سائکل پر دوست کے گهر پہنچ گیا، ایک ایک کپ چائے پی کر دونوں پارک ملت کی طرف نکل گئے۔ پارک زیادہ دور نہیں تها، ایک گھنٹے کے بعد وہ پارک ملت پہنچ گئے۔ کافی ادهر ادهر چکر لگانے کے بعد دلاور نے کہا "یار تهک چکے ہیں، چلو کسی سائے کے نیچے استراحت کرتے ہیں، یاور نے حامی بهر لی۔

دور ایک جگہ پر سایہ دکهائی دیا، وہ چلے اور اس سائے کے نیچے بیٹھ گئے۔ دلاور نے کہا: "اچها آپ یہیں بیٹهے رہو، میں دکان سے کھانے کے لئے کچھ لیکر آتا ہوں، وہ چلا اور دکان سے پیپسی کی ایک ایک بوتل اور بسکوٹ کا ایک ڈبہ خرید کر لے آیا۔ دونوں کهانے پینے میں مصروف ہوگئے، ادهر ادهر کی باتوں کا تبادلہ شروع ہوا، اچانک دلاور نے اپنے دوست سے کہا، یاور آپ یہ بتاو ٔکہ کیا آپ کو مجھ پر اعتماد ہے؟ یاور نے زوردار قہقہہ لگایا، پهر کہا یار یہ بهی کوئی پوچهنے والی بات ہے کیوں؟ آخر کیا آپ کو اس میں شک ہے؟ یار اتنے عرصے سے ہم ساتھ رہ رہے ہیں، مجهے آپ پر اعتماد نہیں ہوگا تو پهر کس پر ہوگا؟ مجهے جتنا آپ پر اعتماد ہے، اتنا اعتماد اپنے خونی، سگے بهائیوں پر نہیں۔ باور کروگے یا نہ؟ کیوں آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا؟ دلاور نے مسکراتے ہوئے کہا، شاباش آپ سے اسی جواب کی توقع تهی۔ اب جبکہ مجھ پر آپکو اتنا اعتماد ہے تو ایک بات بهی آپ سے پوچهنے کی مجهے اجازت دو؟ کیا اجازت ہے۔؟ یاور نے کہا کیوں نہیں، آپ جو کچھ مجھ سے پوچهنا چاہتے ہو پوچھ سکتے ہو۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا "ایک بات کیا؟ آپ دس باتیں پوچھ سکتے ہو بھائی۔

دلاور نے کہا "اچها پهر آپ یہ بتاؤ کہ تعلیم سے آپ کو دلچسپی کیوں نہیں؟ میں آپ سے آج اس کی وجہ دریافت کرنا چاہتا ہوں، یقین کیجئے تعلیم سے آپ کی عدم دلچسپی دیکھ کر مجهے بہت اذیت ہو رہی ہے، اگر آپ مجهے اس اذیت میں دیکهنا نہیں چاہتے ہو تو ابهی آپ اس کی وجہ میرے سامنے شیئر کیجئے۔ یاور نے مسکراتے ہوئے اپنی زبان کو جنبش دی اور کہا "میرے پیارے بهائی مجهے شروع شروع میں تعلیم کا بڑا شوق تها، میں دو سال مسلسل اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا رہا ہوں، پهر جب ساتویں جماعت میں پہنچا تو تعلیم سے میرا پورا شوق یکسر ختم ہوگیا، تعلیم سے میری دلچسپی نہ رہی، جس کی وجہ ہماری کلاس میں تازہ وارد ہونے والے ایک استاد بنے، وہ کلین شو کرکے کلاس میں آتے تهے، ان میں قابلیت اور صلاحیت کی کمی تهی، وہ تھے تو ہماری ریاضی کے استاد! مگر یقین جانیئے وہ نہ ہمیں کچھ سمجها سکتے تهے اور نہ پڑها سکتے تهے۔

جب ہمارے پلے کچھ نہیں پڑتا تها تو ہم ان سے سوالات کرتے تهے، پوچهتے تهے، لیکن وہ ہمارے سوالات کے جوابات ڈنڈے سے دیا کرتے تهے، ہماری بہت پٹائی کرتے تهے۔ ان میں اخلاق کی بو تک نہ تهی، یوں آہستہ آہستہ مجھے تعلیمی شعبے سے نفرت ہونے لگی۔ یار باور کرو، ابهی تو بالکل پڑهنے کو ہی فضول سمجهتا ہوں، باپ کے خوف سے برای نام سکول جا رہا ہوں۔ دلاور نے ایک سرد آہ بھری، پهر کہا دیکهو "میری جان میں آپ کو بہت چاہتا ہوں، میں ہرگز نہیں چاہونگا کہ میرا دوست تعلیم سے بیگانہ رہے۔ دیکهو عقلمند کی نگاہ ہمیشہ نتیجے پر ہوتی ہے، علم اور مال بالکل قابل مقایسہ نہیں، میرے دوست علم بہتر ہے مال سے، کیونکہ مال آپ کو قبر تک فائدہ دے گا جبکہ علم دنیا، قبر، برزخ غرض ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ رہنے والی چیز ہے۔ دیکهو میرے بھائی "دنیا میں نہ سارے معلمیں اچهے ہوتے ہیں اور نہ سارے برے، بلکہ کچھ اچهے ہوتے ہیں، تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور کچھ تربیت سے تہی دست ہوتے ہیں تو سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکهنا ہرگز دانشمندی نہیں۔

پهر دلاور نے استاد مطہری کی شخصیت کے بارے میں جو مواد جمع کیا تها، بڑے اچهے اسلوب میں دوست تک پہنچایا۔ دلاور کو یاور کے چہرے سے معلوم ہو رہا تها کہ جیسے جیسے وہ استاد مطہری کے بارے میں بتاتا جاتا، اس پر عمیق و گہرا اثر ہوتا جا رہا ہے۔ دلاور نے اسے شہید مرتضیٰ مطہری کے بارے میں استاد کا لیکچر، مسجد کے امام کی گفتگو سنائی اور جس مقالے کا اس نے خود مطالعہ کیا تها، اس کا خلاصہ بهی سنایا۔ شہید کی کتاب کے کچھ اقتباسات کا نچوڑ اپنے الفاظ میں بیان کیا، وہ منقلب ہوا، وہ شہید مطہری کی شخصیت اور ان کے علمی و عملی کارنامے سن کر بہت متاثر ہوا اور دلاور سے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آج کے بعد آپ کی طرح میں بھی تعلیمی میدان میں بھرپور جدوجہد کروں گا۔ شہید مرتضیٰ مطہری جیسی علمی شخصیات کے علمی آثار کا مطالعہ کروں گا، بہت شکریہ آپ نے پوری دلسوزی سے میری رہنمائی کی اور جہالت کی تاریک وادی سے نکل کر علم کی نورانی راہ پر دوبارہ چلنے میں میری مدد کی۔ دلاور نے دل سے خدا کی بارگاہ میں ہزار بار شکر ادا کیا کہ جس نے مجهے اپنے ہدف میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دوستو! ہمیں بهی اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے کے لئے عظیم شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کرنا ضروری ہے، خصوصاً آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کے حالات زندگی اور ان کے آثار کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …