جمعہ , 14 مئی 2021

چین: پاکستانی تاجروں کی 40 ایغور ازواج کو حراستی کیمپ سے ’مشروط‘ رہائی مل گئی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے صوبے سنکیانگ سے 2017 میں لاپتہ ہونے والی پاکستانیوں کی 40 ایغور ازواج کو ’کمیونسٹ رویہ‘ اختیار کرنے کی شرط پر حراستی کیمپ سے رہا کردیا۔خبررساں ادارے ’اےا یف پی‘ کے مطابق چین کے حراستی کیمپ سے رہا کی گئی تمام مسلم خواتین صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھتی ہیں جہنوں نے پڑوسی ملک پاکستان میں تاجروں سے شادی کی تھیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’ تمام 40 ایغور ازواج کو اپنے (پاکستانی) شوہروں کوچھوڑنے اور چینی (کیمونسٹ)سوسائٹی کو اپنانے کی یقین دہانی پر چھوڑا گیا‘۔دوسری جانب ایغور بیگمات کے شوہروں نے بتایا کہ ’چینی حکام نے ان کی شریک حیات کو حراستی کیمپ میں ایسے اعمال پر مجبور کیا جو اسلام میں حرام ہیں‘۔

ایک تاجر نے سنکیانگ میں اپنے سسرال کے دورے پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان کی بیوی نے بتایا کہ چینی حکام نے حراستی کیمپ میں سور کا کاشت کھانے اور شراب پینے پر مجبور کیا اور ایسا جاری رکھنے پر زور دیا‘۔بعض تاجروں نے بتایا کہ ان کی بیویوں کو پاکستان سے تعلق کی بنیاد پر حراستی کیمپ میں جبراً رکھا جاتا ہے۔

اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی کہ ’بیشتر‘ کو رہائی مل چکی ہے۔رہائی پانے والی خواتین کے 9 شوہروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان کی شریک حیات کو رہائی مل گئی لیکن وہ کم ازکم 3 ماہ تک سنکیانگ کی حدود پار نہیں کر سکیں گی اور اس دوران چینی حکام ان کی نگرانی کریں گے‘۔

ایک تاجر نے بتایا کہ ’چینی حکام خواتین کی نقل وحرکت کا جائزہ لیں گے اور اگر ان میں چین (کے کیمونسٹ) معاشرے کی عکاسی نظر نہیں آئی تو خواتین کو دوبارہ حراستی کیمپ میں رکھ جائےگا‘۔ایک تاجر نے اپنی بیوی کی زبانی بتایا کہ ’انہیں ڈانس کرنے، مختصر لباس پہنے، سور کا گوشت کھانے اور شراب پینے کے لیے زبردستی کی جاتی تھی‘۔تاجر کا کہنا تھا کہ ’اب ان کی بیوی کے پاس ایک کتاب ہے جس میں مسجد پر سرخ رنگ میں کراس کا نشان ہے اور اس میں ہدایات پر مشتمل تحریریں ہیں‘۔

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں پاکستانی تاجروں کی چین سے تعلق رکھنے والی ایغور ازواج کو زبرداستی ’وکیشنل ایجوکیشن سینٹرز‘ میں ڈال دیا تھا۔ایک شخص نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایغور سے تعلق رکھنے والی اس کی بیوی باقاعدگی سے نماز پڑھتی تھی لیکن حراستی کیمپ سے واپس کر اس نے شراب پینا شروع کردی‘۔

اے ایف پی کو انٹرویو دینے والے تمام افراد نے نام ظاہر نہیں کیے، ان کا کہنا تھا کہ ’چینی حکام ہرہفتے ان کی اہلیہ کے گھر کسی بھی وقت بتائے بغیر جانچ کے لیے آسکتے ہیں‘۔دیگر 7 تاجروں نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی بیگمات سے بذریعہ فون پر رابطہ ہے تاہم انہوں نے بھی حراستی کیمپ سے متعلق انہی خدشات کا اظہار کیا۔

خیال ہے کہ بیجنگ میں چین کے وزارت خارجہ نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کے افراد چین کے صوبے سنکیانگ میں جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں قید ہیں۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے رپورٹ میں اس تعصب کو ’خطرناک’ قرار دیا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے افراد طویل عرصے سے ان کیمپوں میں قید ہیں یا کتنے افراد کو سیاسی تعلیمی سینٹر میں مختلف وقت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چین نے سنکیانگ صوبے میں اسلام کی تعلیمات اور ایغور زبان پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، جس سے متعلق چین کا موقف ہے کہ ان سے سنکیانگ میں رہائش پذیر غریب افراد کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔چین کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جارہی بلکہ انتہا پسندی کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے کچھ لوگوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …