منگل , 18 مئی 2021

فیس بک نے خاموشی سے بڑی تبدیلی کردی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک کو دنیا بھر میں روزانہ ڈیڑھ ارب کے قریب افراد استعمال کرتے ہیں مگر ان میں سے بیشتر کو اس مقبول ترین سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا علم نہیں ہوسکا۔جی ہاں فیس بک نے خاموشی سے اپنے اہم ترین فیچر میں تبدیلی کردی مگر کروڑوں افراد کو اس کا علم بھی نہیں ہوسکا حالانکہ یہ تبدیلی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔اگر آپ کو بھی علم نہیں ہوا تو اپنے ماؤس ایرو کو لائیک بٹن پر رکھیں اور بس۔

جی ہاں فیس بک نے اپنے لائیک بٹن یا ری ایکشنز کو تھری ڈی ایموجیز سے بدل دیا ہے، ان کی رنگت اور اینیمیشن کو بہتر کیا گیا ہے۔یہ تبدیلی گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی سافٹ وئیر انجنیئر جین مین چون وونگ نے ایک ٹوئیٹ میں بتائی تھی۔

مگر اب کمپنی نے اس پر عملدرآمد کردیا ہے اور اس طرح اپنے لائیک بٹن کو لگ بھگ ساڑھے 3 سال بعد پھر بدل دیا ہے۔اب بھی فیس بک ری ایکشنز میں 6 ایموجیز ہیں یعنی تھمب، ہارٹ، ہاہا، واؤ، سیڈ اور اینگری۔

فیس بک الگورتھم میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد ری ایکشنز کو زیادہ بہتر بنایا گیا ہے جبکہ کمپنی اب میسنجر کے ری ایکشنز میں بھی تبدیلیاں لانے والی ہے۔ویسے تو فیس بک کے نئے ایموجیز بہت زیادہ بڑی نہیں مگر فیس بک صارفین کے لیے کافی پرلطف تجربہ ضرور ثابت ہوگا۔

اس سے قبل یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ فیس بک نیوز فیڈ اور اسٹوریز کو ایک سوائپ ایبل ہائیبرڈ بنانے جارہی ہے۔اگر فیس بک اس تبدیلی پر عملدرآمد کرتی ہے تو صارفین اوپر سے نیچے اسکرول کی بجائے دائیں یا بائیں سوائپ یا کلک کرکے نیوز فیڈ کا مواد دیکھ سکیں گے۔

فیس بک میں یہ بہت بڑی تبدیلی ہے مگر زیادہ حیران کن نہیں کیونکہ فیس بک اسٹوریز پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔اسی طرح فیس بک کی جانب سے موبائل ایپ پر میسنجر کا آپشن بھی ایک بار پھر مرکزی ایپ کے اندر مدغم کیا جارہا ہے۔

فیس بک نے 2011 میں میسنجر کو خودمختار ایپ کے طور پر متعارف کرایا تھا اور 2014 میں فیس بک ایپ میں چیٹ کا آپشن ختم کرکے میسنجر کو لازمی بنادیا گیا تھا۔اب 5 سال بعد فیس بک میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو اکھٹا کرنے پر کام کررہی ہے، تو مرکزی ایپ پر چیٹ کی سہولت بھی واپس آرہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سمندری طوفان تاؤتے بھارت کے ساحل سے ٹکرا گیا

نئی دہلی: تیز ہواؤں اور تباہ کن سمندری طوفان تاؤتے مغربی بھارت کے ساحل سے …