جمعہ , 7 مئی 2021

اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دلوانے کیلئے امریکی صدر کی کوششیں تیز

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈٹرمپ نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ کی فہرست میں ڈالنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مذکورہ اقدام کی کامیابی سے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہوجائےگی۔وائٹ ہاؤس کی پرس سیکریٹری سارہ سینڈر نے بتایا کہ ’امریکی صدر نے سلامتی کونسل کی ٹیم اور خطے کے دیگر رہنماؤں سے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور مذکورہ وفد اندورنی عمل کے ذریعے کام کررہا ہے۔

یاد رہے کہ 2013 میں مصر کے اس وقت کے صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے حکومت سے باہر کردیا گیا تھا اور مصر نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا تھا۔مصر کی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد ان کے خلاف بے دردی سے کارروائیاں کیں اور کئی رہنماؤں سمیت ہزاروں کارکنوں کو جیل میں ڈالا اور سزائے موت دی۔خیال رہے کہ اگر اخوان المسلمون کو واشنگٹن کی غیرملکی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کرلیا گیا تو امریکی شہری یا امریکی اتحادی ممالک مذکورہ تنظیم سے کوئی اقتصادی یا سفارتی تعلقات نہیں کرسکے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خوان المسلمون پر پابندی کی بات کی جارہی جبکہ تین ہفتے قبل ہی انہوں نے امریکی حمایتی یافتہ مصری صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات کی تھی۔وائٹ ہاؤس میں دوران ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کے صدر کی تعریف میں کہا تھا کہ ’وہ بہت زبرداست کام کررہے ہیں اور امریکا اور مصر کے مابین اس سے قبل کبھی اتنے بہتر سفارتی تعلقات نہیں رہے‘۔

خیال رہے کہ مصر کی ایک عدالت کے جج نے 2014 میں محمد مرسی کے 529 حامیوں کو سزائے موت سنائی تھی۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مصری حکومت کے ان اقدامات پر شدید تنقید کی گئی اور گرفتار افراد کے خلاف آزادانہ ٹرائل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

2013 میں دھرنے میں عوام کو نشانہ بنانے کی مذمت دنیا بھر کے انسانی حقوق کی تنظمیوں کی جانب سے کی گئی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ ماہ اپنی ایک رپورٹ میں ان فیصلوں کو ‘مضحکہ خیز انصاف ’قرار دیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والے تمام گرفتار افراد کے خلاف مقدمات کو ختم کر دیا جائے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …