پیر , 10 مئی 2021

پھانسیوں سے قافلے کب رکے؟

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

جبر، ظلم، تشدد، جیلیں اور آخری حربے کے طور پر قتل کرنا ہر ظالم و جابر قوت کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ لیبیا پر قابض قوتوں نے لیبیا کی تحریک آزادی کے عظیم رہنما عمر مختار کو گرفتار کر لیا اور کہا کہ اب تمہارے پاس کیا راستہ ہے؟ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ میرے بعد میری نسل لڑے گی، اس کے بعد آنے والی نسل لڑے گی، یہ سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ تم یہاں سے جانے پر مجبور ہو جاؤ گے۔ طاقت کے نشے میں قابض جابر استعمار نے عمر مختار کو پھانسی لگا دی، آج عمر مختار آزادی پسندوں کا ہیرو ہے اور اس کو پھانسی دینے والے تاریخ کے کوڑا دان کا حصہ بن چکے ہیں، ان کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔

قطیف، عوامیہ اور احساء کے علاقے، سعودی عرب پر مسلط آمر خاندان کا جبر برداشت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ انسانی حقوق کے حصول کے لیے جب بھی پرامن احتجاج کرتے ہیں، انہیں قید کیا جاتا ہے، ان کے جوانوں کو کنگرو کورسٹس کے ذریعے سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ ان شہروں اور باقی سعودی شہروں میں ترقی کی رفتار میں بہت فرق ہے، جو انہی جابرانہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس بار آل سعود کی بربریت کا شکار بے گناہ افراد میں معروف شیعہ عالم دین شیخ محمد العطیہ عبدالغنی سمیت 37 افراد شامل ہیں۔ ان افراد کو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سزا دی گئی۔ سزا کی بنیاد حکومت کے خلاف مظاہرے کرنا اور آل سعود کے خلاف نعرے لگانا ہیں، جس کو بے بنیاد طور پر بغاوت اور نہ جانے کن کن جرائم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انصاف کا پورا پروسس ہی مشکوک، تعصب پر مبنی، حقائق کے خلاف اور ہر صورت میں سزا دینے والا تھا۔ ان مظلوموں پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ مجبور ہوگئے کہ جو حکام کہیں اسے قبول کر لیں، بصورت دیگر انسانیت سوز سزاوں کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

سعودی عرب میں شاہی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے خلاف عدلیہ کا کردار شفاف نہیں ہے، بالخصوص قطیف، احساء اور عوامیہ کی آزادی پسند عوام کے خلاف یہ غیر منصفانہ رویہ مزید تعصب پر مبنی ہو جاتا ہے۔ وہ قوتیں جو ترکی میں جا کر ایک عام صحافی جو شاہی خاندان سے اختلاف رائے رکھتا ہے، اسے قتل کر دیتی ہیں، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں اور یہ کام کرنے کے لیے وہ اوزار بھی سعودی عرب سے لے کر نکلتے ہیں۔ ان سے انصاف کی امید رکھنا ہی نادرست ہے کہ وہ سعودیہ میں موجود کسی ایسی آواز کے ساتھ انصاف کریں گے، جو ان کے جابرانہ اقدامات کو چیلنج کر رہی ہے۔ اس مسئلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کو فرقہ کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے، شیعہ رہنماوں کو شہید کیا گیا تو اس پر شیعہ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، دیگر لوگ اس سے لاتعلق رہتے ہیں بلکہ بعض فرقہ پرست تو اس ظلم پر بھی جشن مناتے ہیں۔

سعودی عرب میں آل سعود کے خلاف ہونے والے مظاہرے اور اسی طرح تقریر و تحریر سے ان کی مخالفت کرنے والے فقط شیعہ نہیں ہیں۔ بہت سے آزادی پسند سلفی علماء بھی سعودی جیلوں میں ہیں اور کچھ کو تو پھانسیاں بھی دی گئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہ خبر خاصی گرم ہوئی تھی کہ آل سعود پر تنقید کے جرم میں امام کعبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اس سے آپ انداز لگا سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے، وہاں کوئی شیعہ کسی سنی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنے بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس میں تمام مظلوموں کی حمایت ہے، آل سعود کے جبر کے شکار ہر انسان کے لیے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔ ابوالاعلی سید مودودی، سید قطب سمیت کئی اخوانی علماء کی تصانیف پر باقاعدہ پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں ہے۔

حریت و آزادی کی یہ شمع اس مقدس سززمین پر آیت اللہ شہید نمر نے روشن کی تھی، انہوں نے لوگوں کو بات کرنا سکھایا تھا، انہی کا عملی کردار تھا کہ کسی ظالم کے آگے نہیں جھکنا چاہیئے۔ انہوں نے تو اپنی اس بات پر عمل بھی کر دیا اور کسی بھی حال میں جھکنے سے انکار دیا۔ وہ اپنا عہد پورا کر گئے اور ایک تحریک کی صورت میں حریت پسندوں کے دلوں میں یہ شمع روشن کر گئے۔ یہ لوگ قرآن مجید کی اس آیت کی عملی تفسیر ہیں: "مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا” مومنین میں ایسے بھی مردُ میدان ہیں، جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے، ان میں بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی ہے۔

37 افراد کو انتہائی ظالمانہ انداز میں شہید کیا گیا اور حقوقِ انسانی کی تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا، ان میں سے ایک عبدالکریم الحوائج ہیں، جنھیں 16 برس کی عمر میں گرفتار کیا گیا اور حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ اسی طرح خالد بن عبدالکریم التوارجی کی لاش کو کئی گھنٹوں تک درخت پر لٹکایا گیا۔ یعنی ہر وہ ظالمانہ طریقہ اختیار کیا گیا، جو لوگوں کو خوفزدہ کر دے۔ تمام شہداء کے خاندان والے شکوہ کناں ہیں کہ ہمیں آخری وقت تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا کب سر قلم کیا جائے گا؟ اس وقت یہ شعر سعودی حالات کی درست ترجمانی کرتا ہے:
رائج ہے میرے دیس میں نفرت کا قاعدہ
ہو جس سے اختلاف، اُسے مار ڈالیے!

اہل قطیف و عوامیہ پر یہ مظالم نئے نہیں ہیں بلکہ کافی عرصے سے یہ لوگ اس جبر کا شکار ہیں۔ 2017ء میں حکام عوامیہ کے پرانے حصے کو منہدم کرنے کے لیے کرینیں اور بلڈوزر لے کر پہنچ گئے اور کئی روز تک عوامیہ کے پرانے حصے کا محاصرہ کیے رکھا، جس سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہوئے اور سینکڑوں لوگوں نے نقل مکانی کی۔ شہید نمر نے علم کی جو شمع روشن کی تھی وہ، اب پوری آب و تاب کے ساتھ ارض حرمین کی رہنمائی کر رہی ہے، وہ سب کچھ چھین سکتے ہیں مگر نور علم کو دلوں سے نہیں نکال سکتے۔ شہید چلے جاتے ہیں مگر قوموں کی رگوں میں جان ڈال جاتے ہیں اور بدن کی موت سے انسان کہاں مرتا ہے؟ بقول شاعر:
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مرنہیں سکتا

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …