ہفتہ , 8 مئی 2021

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مانیٹری پالیسی پر ڈیڈ لاک برقرار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے کئی نکات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مانیٹری پالیسی پر ڈیڈ لاک ہے، آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کو کنٹرول نہ کرنے اور شرح سود بڑھانے کی شرائط رکھی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف توانائی اور دوسرے شعبوں پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے ٹیکسوں میں اضافے پر بھی اختلاف ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4600 ارب روپے مقرر کرنے کا کہا ہے لیکن آئی ایم ایف ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5200 ارب روپے سے 5300 ارب روپے کے درمیان چاہتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اختلافی نکات پر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم قرض پروگرام پر مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے اور آج مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کامیابی کے لیے پرامید ہونے کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …