جمعہ , 7 مئی 2021

بارڈر اخراجات کیلئے اضافی 4 ارب50 کروڑ ڈالر منظور کئے جائیں،ٹرمپ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ نے جنوبی سرحد میں وسطی امریکا سے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سیکیورٹی اور دیگر اخراجات کے لیے کانگریس سے اضافی 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کی منظوری کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کو امدادی اخراجات کے لیے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جو مہاجر خاندانوں اور بچوں کے لیے پناگاہوں کی تعمیر میں خرچ ہوں گے۔ٹرمپ انتظامیہ کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی اضافی ضرورت ہے جو انتظامی سطح پر درکار ہیں جس میں ذاتی اخراجات سمیت، قیدیوں اور اسمگلنگ کی تفتیش کے لیے درکار ہیں۔کانگریس کو دی گئی درخواست میں شامل 17 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ٹیکنالوجی کی بہتری سمیت مشن کے تعاون کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے کہا ہے کہ ‘ڈی ایچ ایس منصوبے کے تمام وسائل مالی سال کے اختتام سے قبل ہی خرچ ہوں گے اور اضافی وسائل کے بغیر صورت حال سے نمٹنا خطرناک ہوگا’۔صحت کے محکمے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مہاجرین کے بچوں کا خیال محکمہ صحت رکھتا ہے جس کو مخصوص حالات کے باعث ڈی ایچ ایس سے الگ کیا گیا ہے تاہم اس کے وسائل جون تک اختتام پذیر ہوں گے۔

قبل ازیں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قائم مقام سیکریٹری کیون مک الینان نے کانگریس کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ جنوبی بارڈر میں مہاجرین کی نقل و حرکت میں اضافے کے باعث محکمہ پیسوں کے بغیر چل رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حاصل ہونے والی رقم عارضی طور پر اور مہاجر خاندانوں اور ان کے بچوں کو نیم عارضی سہولیات کے لیے استعمال ہوں گے تاہم انہوں نے اعداد وشمار کی وضاحت نہیں کی۔

خیال رہے کہ امریکا میں رواں سال مارچ میں ایک لاکھ مہاجرین داخل ہوئے تھے جو 12 سال کے دوران سب سے بڑی تعداد ہے۔امریکا کے محکمہ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا کہنا تھا کہ اب تک سب سے بڑا گروہ 424 افراد کا تھا جو نیو میکسیکو کے مضافات میں داخل ہوا۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو پینٹاگون کے قائم مقام سربراہ پیٹرک شناہان نےمیکسکو سے ملحقہ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔پینٹاگون سےجاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پیٹرک شناہان نے امریکی آرمی انجینئرز کمانڈر کو ہوم لینڈ سیکیورٹی اور کسٹمز اینڈ بارڈر پیٹرول سے تعاون کے لیے ارب ڈالر سے متعلق منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کی اجازت دی ہے‘۔

یاد رہے کہ دسمبر 2018 میں کانگریس نے امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جس کی پاداش میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اداروں کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔

بجٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے۔بعد ازاں امریکی صدر نے جنوری کے آخر میں شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ وفاقی حکومت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سمجھوتے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

کانگریس کی جانب سے حکومت کو دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈز استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد گزشتہ ماہ امریکی صدر نے کانگریس کی جانب سے فنڈز منظور نہ کیے جانے پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …