جمعرات , 13 مئی 2021

ریاست ماں ہوتی ہے!

(تحریر: نذر حافی)

ریاست عوام کی حفاظت کرتی ہے، لوگ ریاست کی اولاد ہوتے ہیں، اچھی اولاد ماں کی فرمانبردار ہوتی ہے، ماں کبھی بھی اپنے بچوں کا برا نہیں سوچتی، چنانچہ اب ریاست نے دینی مدارس کو بھی اپنی تحویل میں لینے کا سوچ لیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دینی مدارس میں شدت پسند پروان چڑھتے ہیں، دہشتگردوں کے سرپرست اور سہولت کار پناہ لیتے ہیں، دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے، دینی طالب علموں کے اندر ریاست سے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے اور یہ نفرت عوام کے لئے خطرات کا باعث ہے، البتہ اب یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا عوام کی جان کو صرف دینی مدارس سے خطرہ ہے اور کیا صرف دینی مدارس ہی ریاست کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں؟! گذشتہ روز سلام آباد ٹول پلازے کے قریب سرگودھا سے راولپنڈی آنے والی مسافر گاڑی تیز رفتاری کے باعث ٹول پلازے کی دیوار سے جا ٹکرائی۔ جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی، اس حادثے میں بارہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کی وجہ تیز رفتاری کو قرار دے کر مسافروں کے خون پر مٹی ڈال دی گئی ہے۔

ریاستی اداروں سے پوچھئے کہ یہ خون کس کے سر ہے!؟ یہی جواب ملے گا کہ کسی کے سر نہیں۔ یہ خون اس لئے بھی کسی کے سر نہیں چونکہ عام لوگوں کا خون ہے۔ کیا ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ ریاستی ادارے کچھ فاصلے کے بعد ہر گاڑی کی رفتار چیک کریں اور مقررہ مدت کے بعد سال میں ایک یا دو مرتبہ گاڑی کا مکینیکل ٹیسٹ کرایا جائے؟ کیا عوام کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے گاڑیوں میں ایمرجنسی دروازوں کو یقینی بنانا اور وقتاً فوقتاً چیک کرنا ریاست کا فرض نہیں!؟ کیا ہماری ریاست کو معلوم نہیں کہ ڈرائیونگ کے پیشے سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ نشہ کرتے ہیں، لہذا انہیں ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے اور لائسنس کی تجدید کرتے وقت ان کا میڈیکل ٹیسٹ کروایا جانا ضروری قرار دیا جائے!؟ کیا ہماری ریاست نہیں جانتی کہ ہمارے ہاں ٹوٹی ہوئی سڑکوں، پرانے پُلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہر سال کتنے ہی انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، کیا اس حوالے سے ریاست کی کوئی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں!؟

اب پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک طرف رکھیئے اور ملاحظہ کیجئے کہ محکمہ صحت عوام کے ساتھ کیا کر رہا ہے! ہسپتالوں میں ڈاکٹر مختلف انداز میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، کہیں لوگوں کو بے ہوش کرکے گردے نکال دیئے جاتے ہیں، کہیں میڈیکل سٹوروں اور کمپنیوں سے مل کر لوگوں کو گھٹیا، جعلی اور مہنگی دوائیاں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور کہیں غلط دوائیوں اور غلط ٹیکوں کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں، صرف کراچی میں ماہ اپریل میں غلط دوائیوں اور انجکشنز کی وجہ سے کتنی ہی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ گلی کوچوں اور سرکاری ہسپتالوں میں موجود غیر مستند معالجوں اور غیر تربیت یافتہ عملے کا متبادل ڈھونڈنا کس کی ذمہ داری ہے۱؟ مقامِ فکر ہے کہ کیا یہ ہلاک ہونے والے ریاستی باشندے نہیں ہیں! کیا محکمہ صحت کے طرز عمل سے لوگوں میں ریاست سے محبت پیدا ہو رہی ہے!؟

اس کے بعد تھانے اور کچہری کی طرف آجایئے اور کسی عقلمند سے پوچھیئے کہ گلوبٹ، عابد باکسر، راؤ انوار جیسے پہلوان کس کی چھتری تلے پروان چڑھتے ہیں اور ساہیوال جیسے سانحات کیوں رونما ہوتے ہیں!؟ کیا اس کینسر کو ختم کرنے کی کوئی ویکسین ریاست کے پاس ہے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری فقط پولیس والوں کی وردی تبدیل کرنا ہی رہ گئی ہے!؟ سوال یہ ہے کہ اگر پولیس والوں کی وردی کا رنگ تبدیل کرنے کے بجائے، انہیں احرام ہی پہنا دیا جائے تو کیا اس سے تھانہ کلچر تبدیل ہو جائے گا!؟ اور کیا یہ مروجہ تھانہ و کچہری سسٹم ریاست سے محبت کا باعث ہے!؟ موصولہ اطلاعات کے مطابق لاپتہ افراد کے لواحقین نے صدر مملکت عارف علوی کے گھر کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے، لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ہمارے عزیزوں کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کس حال میں ہیں! لاپتہ افراد کے حوالے سے بلوچستان کی قومی اسمبلی کے رکن اختر مینگل کی گذشتہ دنوں اسمبلی میں وہ تقریر آپ نے سنی ہی ہوگی، جس کے بعد کچھ کہنے اور سننے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

ریاست میں لوگ لاپتہ ہورہے ہیں، نامعلوم مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں، اذیت خانوں اور عقوبت خانوں میں گل سڑ رہے ہیں، لاپتہ افراد کے بچے تعلیم و تربیت سے محروم ہیں اور ایدھی سنٹر جیسے ادارے لاپتہ لوگوں کو دفنا رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ ریاست سے پوشیدہ ہے!؟ کیا لاپتہ افراد کے یہ بچے، ذلت و رسوائی کے ساتھ جوان ہونے کے بعد ریاست سے محبت کریں گے!؟ ہے کوئی جو سوچے اور غور و فکر کرے کہ ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کا یہ عمل کیوں جاری ہے اور اس کے مستقبل میں کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے! جہاں تک بات ہے کہ ریاست دینی مدارس کو اپنی تحویل میں لینا چاہتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پبلک ٹرانسپورٹ، محکمہ صحت، محکمہ پولیس اور لاپتہ افراد کے مسائل، ریاستی تحویل سے باہر ہیں!؟

دینی مدارس کی مالی سرپرستی، آمد و رفت کی نگرانی، نصابِ تعلیم پر نظرِثانی یہ سب ہونا چاہیئے، لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ دینی مدارس پر اضافی وسائل صرف کرنے کے بجائے ریاست اگر اپنے بنیادی اداروں کو ٹھیک کر دے، اپنی پالیسیوں میں قاطعیت اختیار کرے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بلا امتیاز کیفرِکردار تک پہنچائے، اپنے پروفیشنلز کے نصاب تعلیم کو معیاری بنائے، تمام سرکاری دفاتر میں میرٹ اور چیک اینڈ بیلنس قائم کرے، اس کے علاوہ ریاست لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرے، ان کے حوالے سے اسمبلیوں میں قانون سازی کرے، ان کی تفتیش کے دوران ان کے بچوں کے اخراجات اور معیاری تعلیم و تربیت کا انتظام کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست یہ تسلیم کرے کہ اگر ریاستی ادارے ٹھیک ہو جائیں تو دینی مدارس سمیت باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ چونکہ دینی مدارس کو بھی پٹڑی سے اتارنے والے کوئی اور نہیں یہی ریاستی ادارے ہیں۔ ریاستی ادارے کسی بھی درخت کی جڑوں کی مانند ہوتے ہیں، اگر جڑیں تروتازہ اور شاداب رہیں تو درخت سرسبز رہتا ہے، لیکن اگر جڑیں سوکھ جائیں تو پھر درخت سرسبز نہیں رہ سکتا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …