اتوار , 9 مئی 2021

سعودی عرب اور ڈونلڈ ٹرمپ کا تحقیر آمیز رویہ

(تحریر: علی احمدی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات اپنے حامیوں کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے ایک بار پھر سعودی فرمانروا ملک سلمان سے اپنی ٹیلیفونک گفتگو کی وضاحت کی جس میں انہوں نے سعودی عرب سے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اخبار رای الیوم کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں کہا: "سعودی عرب کو دیکھیں، ایسا ملک جو بہت دولت مند ہے۔ ہم اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ہم سعودی عرب کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے پاس پیسے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ صحیح کہا میں نے؟ لیکن ہم ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ ہم سے بہت زیادہ خریداری کرتے ہیں۔ انہوں نے ہم سے 450 ارب ڈالر کی خریداری کی ہے۔” امریکی صدر نے اپنی بات جاری رکھے ہوئے کہا: "آپ سب جانتے ہیں امریکہ میں کچھ افراد ایسے ہیں جو ہم سے سعودی عرب سے تعلقات ختم کر دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن سعودی عرب نے 450 ارب ڈالر ہمیں دیے ہیں اور میں یہ پیسہ گنوانا نہیں چاہتا۔ فوج کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ہم سعودی عرب کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ میں ملک سلمان کو پسند کرتا ہوں لیکن میں نے اسے کہا فرمانروا، ہم آپ کی حفاظت کرتے ہیں اور ہمارے بغیر آپ دو ہفتے بھی برسراقتدار نہیں رہ سکتے۔”

یہ پہلی بار نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس قدر تحقیر آمیز انداز میں سعودی عرب اور سعودی حکام کے بارے میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار سعودی حکام کو "دودھ دینے والی گائے” کے علاوہ اور بہت سے القابات سے نواز چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تاجرانہ پالیسیوں کے حوالے سے اچھے خاصے معروف ہو چکے ہیں۔ سعودی حکومت کی بھرپور حمایت کی اصلی وجہ بھی یہ ہے کہ سعودی حکام نے امریکہ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ سعودی عرب امریکہ سے اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مدت صدارت کے دوران اب تک کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ کی فوجی اور سیاسی مدد نہ ہو تو آل سعود رژیم ایک ہفتے سے بھی زیادہ ملک میں برسراقتدار نہیں رہ سکتی۔ دوسری طرف سعودی سلطنتی خاندان میں عوامی حمایت کے نہ ہونے اور عوام میں جڑیں نہ ہونے کے باعث ایک بیرونی طاقت کی حمایت کا محتاج ہے اور امریکہ اس کی اس مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مصروف ہے۔ اسی طرح سعودی حکومت نے خطے میں امریکی اور صہیونی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا ٹھیکہ بھی لے رکھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شدید پروپیگنڈہ اور نفرت پھیلانا، یمن کے مظلوم عوام کا قتل عام، تکفیری دہشت گردی کو فروغ دینا، اپنے شہریوں پر شدید ترین دباو برقرار رکھنا اور انہیں تمام بنیادی حقوق سے محروم کرنا آل سعود رژیم کی چند کارستانیاں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس خدشے کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ اگر وہ سعودی عرب سے تعلقات کم کرتے ہیں تو ان کی جگہ روس اور چین لے لیں گے۔ ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں معترض سعودی صحافی جمال خاشگی کے وحشیانہ قتل کے بعد دنیا بھر میں سعودی حکام کے خلاف شدید احتجاجی لہر معرض وجود میں آ گئی تھی جس کے نتیجے میں سب یہی توقع کر رہے تھے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا جائے گا لیکن ایسے موقع پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی حکمرانوں کی بھرپور حمایت جاری رکھی۔ تقریباً دو برس پہلے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے کئی سو ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کا معاہدہ بھی انجام دیا تھا۔ گذشتہ دو برس کے دوران امریکہ نے سعودی عرب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر کے اپنی اقتصاد مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایک عرصے سے ایران فوبیا پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے عرب ممالک کو نچوڑنے کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں اور اسی بہانے وسیع پیمانے پر اسلحہ بھی عرب ممالک کو بیچ چکے ہیں۔ اگرچہ امریکی کانگریس نے یمن کے خلاف جاری جنگ سے دستبردار ہونے کیلئے کئی بل منظور کئے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیل کے ڈالرز کی لالچ میں انہیں پس پشت ڈالتے آئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ سعودی عرب سے آنے والی کئی سو ارب ڈالرز پر مبنی سرمایہ کاری ملک میں بے روزگاری کم ہونے میں موثر ثابت ہوئی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ امریکہ مشرق وسطی خطے میں ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے آل سعود رژیم کا محتاج ہے لہذا سعودی حکام پر کسی قسم کا دباو نہیں ڈالنا چاہئے۔ دوسری طرف سعودی حکام نے بھی امریکی حمایت گنوا دینے کے خوف سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے تحقیر آمیز رویے پر چپ سادھ رکھی ہے۔ امریکی صدر کے تحقیر آمیز رویے کے مقابلے میں سعودی حکام کی ذلت آمیز خاموشی ایسی حالت میں جاری ہے جب وہ کینیڈا کی جانب سے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں اس سے سفارتی تعلقات منقطع کر چکے ہیں۔ سعودی حکمران دیگر ممالک کی جانب سے تنقید کا فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں لیکن امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …