جمعہ , 14 مئی 2021

ایک سادھو کی دلچسپ باتیں

(تحریر: سید اسد عباس)

2015ء میں ذات سے متعلق ایک مسئلہ پر تحقیق کے دوران میں یوٹیوب کی ایک ویڈیو کا عنوان میری نظر سےگزرا، یہ عنوان میرے مسئلے کے حل سے متعلق تھا۔ ویڈیو ایک سادھو کی تھی، میں ان کو جان بوجھ کر ہندو سادھو نہیں لکھ رہا، کیونکہ ان کے نظریات معروف ہندو نظریات سے قطعاً مطابقت نہ رکھتے تھے۔ میں نے ضروری سمجھا کہ اس ویڈیو کو سنوں۔ سادھو کی باتیں مجھے عقلی اور منطقی لگیں، جس نے میرے ذہن کو متوجہ کیا اور پھر میں نے اس سادھو کی نیٹ پر دستیاب بہت سی ویڈیوز سن ڈالیں۔ اس سادھو کی ایک بات جو مجھے اچھی لگی، وہ کائنات کی مجرد حقیقتوں کے حوالے سے تھی۔ سادھو سے کسی نے سوال کیا کہ روح کیا ہے۔ انھوں نے بڑا خوبصورت اور مدلل جواب دیا، جس سے کم از کم میرے ذہن کی تو بہت سی گرہیں کھل گئیں۔ سدھ گرو کا کہنا تھا کہ ہم ہر چیز کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ذہن کا استعمال کرتے ہیں جو کہ غلط ہے۔

ذہن یا دماغ چیزوں کو تجزیہ و تحلیل سے سمجھتا ہے، اس کے اپنے مقاصد اور کام ہیں، لیکن ہر چیز ذہن سے نہیں سمجھی جاسکتی ہے۔ سدھ گرو نے کہا کہ دماغ کے پاس چیزوں کا علم مختلف چھوٹے علوم سے اکٹھا ہوتا ہے، مثلاً کالا، پیلا، سرخ۔ چھوٹا، بڑا، گرم، سرد، نرم، سخت وغیرہ وغیرہ۔ انسانی ذہن بچپن سے چیزوں کے بارے میں علم حاصل کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ علم چیزوں کے فرق پر مشتمل ہوتا ہے، یعنی لمبی اور چھوٹی چیز کے فرق، گرم اور ٹھنڈی چیز کا فرق، نرم اور سخت چیز کا فرق۔ انسان اسی علم کو استعمال کرتے ہوئے نئی چیزوں کے بارے میں جانتا اور سمجھتا ہے۔ سدھ گرو کے مطابق جب کوئی بھی نئی چیز انسانی ذہن کے علم میں حواس کے ذریعے آتی ہے تو انسانی ذہن خودکار طریقے سے اس کا تجزیہ کرنا شروع کر دیتا ہے اور اپنی معلومات سے اس چیز کے بارے میں کوئی حکم لگاتا ہے۔ سدھ گرو نے کہا کہ انسانی ذہن کا یہ کام بہت ہی پیچیدہ حد تک منعقد ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام تر تجرباتی علوم جو حواس کے علم میں آسکتے ہیں، ذہن ان پر قطع و برید کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ذہن مجرد حقیقتوں کا تجزیہ و تحلیل کرنے سے قاصر ہے۔ روح کیا ہے، فرشتہ کیا ہوتا ہے، وحی کیسے ہوتی ہے، محبت کی حقیقت اور ایسی ہی سب باتیں ذہن کے علم میں براہ راست طور پر نہیں آسکتی ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے انسانی وجود میں دیگر ذرائع ہیں، جس کو معاشرے نے مکمل طور پر فراموش کر دیا ہے۔ اسی نکتے سے میری توجہ لفظ قلب اور فواد کی جانب گئی۔ قرآن کریم میں خداوند رکریم نے دل کے لیے متعدد الفاظ کا استعمال کیا ہے، کہیں اسے خون کا لوتھڑا کہا گیا ہے اور کہیں قلب کا عنوان دیا گیا ہے۔ ان کے قلوب پر مہریں ہیں، ان کے قلوب دیکھتے اور سنتے نہیں، روشن قلوب اور اسی طرح کی کئی باتیں نئے معنوں کے ساتھ میرے سامنے آنے لگیں۔

بہرحال سدھ گرو نے اپنی بات کو سمجھانے کے لیے ماں کی مثال دی کہ کوئی آپ سے پوچھے کہ ماں کیا ہے تو آپ یہ نہیں بتاتے کہ دو کانوں، ایک ناک، لمبے بالوں والی، چھوٹی یا بڑی، بوڑھی یا جوان عورت بلکہ ماں کو بیان کرنے کے لیے آپ کے پاس دیگر الفاظ ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ مہربان، کریم، محبت کرنے والی، قربانی دینے والی ایک ہستی۔ یہ حقیقتیں آپ نے ذہن کے علاوہ دیگر ذرائع سے سیکھی ہیں، جو کہ آپ کا انفرادی تجربہ ہے، کسی مکتب یا کتاب سے آپ کو ماں کا علم حاصل نہیں ہوا ہے۔ ایسے ہی کائنات کی دیگر مجرد حقیقتوں کا حال ہے، جب تک انسان اس کیفیت و حالت سے خود نہ گزرے اور اسے تجربہ نہ کرے، اس چیز کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ لیکن ہم عموماً یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ایسی مجرد حقیقتوں کے بارے میں اتنے وثوق سے اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہوتے ہیں، جیسے خود ان حقیقتوں کا حق الیقین رکھتے ہوں۔

وحی کیا ہے؟ کیسے ہوتی ہے؟ ملک کیسے آتا ہے؟ کلام کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ اور اسی قسم کے دیگر حقائق۔ ذاتی تجربہ حق الیقین کا مقام ہے، جو کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا جبکہ سمعی و کسبی علم دلائل کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ سدھ گرو کی بات سے جو بات مجھ پر منکشف ہوئی یہ ہے کہ دین کے بہت سے موضوعات جن کا تعلق ذاتی تجربہ اور کیف سے ہے، کو ذہنی کاوش سے سمجھنے کی کوشش و کاوش کی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کا نظریہ اور عقیدہ دوسرے سے مختلف ہے۔ سدھ گرو نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ ہاں کائنات کا خالق ایک ہے، انسان کی تخلیق کا مقصد بھی ایک ہی ہے، ادیان و مذاہب کے اختلاف کا بنیادی سبب حقائق کو سمجھنے کے لیے غلط ذریعے کا استعمال ہے۔ روح، وحی، موت، حیات بعد الموت، ملک، روحانی سفر، ایشوران سب حقائق کو انسان نے ذہنی کاوش سے سمجھنے کی کوشش کی اور پھر اختلافات میں پڑ گیا۔ تقسیم در تقسیم کا یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ چیزوں کے مابین فرق کرنے والی مشین انسانوں کو دھڑوں میں تقسیم کرنے اور فرقہ سازی میں مصروف عمل ہے۔ قصور مشین کا نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کا ہے۔

کائنات کا خالق تو جابجا یہ کہ رہا ہے کہ ہم نے انسان کو آدم و حوا سے پیدا کیا، اس کی نظر میں دین ایک ہی ہے۔ تمام الہیٰ نمائندے اسی دین کی جانب لوگوں کو بلاتے رہے۔ یہی سبب ہے کہ ادیان میں ظاہراً نظر آنے والے اختلاف کے باوجود مشترکات بے انتہا ہیں۔ اخلاقیات تقریباً تمام ادیان میں ایک ہی ہے۔ سچ پورے عالم انسانیت میں سچ ہی ہے، جھوٹ کو کوئی بھی سچ نہیں کہتا۔ ایسے ہی عدل، ظلم، شفقت، ہمدردی کا معاملہ ہے۔ اولیاء اللہ اور صوفیاء کے مشرب میں ہمیں یہی چیز دکھائی دیتی ہے کہ وہ انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے، انھیں ایک نوع سمجھنے اور ان کا ایک نوع کے طور پر احترام کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ دین اور مذہب کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ جب دین ایک ہے، رب ایک ہے، اس کی رضا ایک ہے تو یہ دومتضاد رویے کیوں۔؟؟

شعور!
عقل کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ وہ فقط تجزیہ و تحلیل ہی نہیں کرتی بلکہ حکم بھی لگاتی ہے اور فیصلہ دے دیتی ہے۔ Black or White,Either with us or Against us، یعنی بیچ کی کوئی راہ نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھ آتی ہے کہ بیچ کی راہ دینا ضروری ہے اور کالے اور سفید کے مابین رنگوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ خدا کرے کہ انسانوں کے مابین یہ شعور جلد از جلد پیدا ہو جائے اور وہ انسانوں کو ایک ہی نوع سمجھنے لگیں، دوسرے کو اختلاف رائے حق دیں اور اختلافی نقطہ نظر کو بھی احترام کی نظر سے دیکھیں۔ تبھی انسانی معاشرہ وہ عادلانہ معاشرہ بن سکے گا، جس کے قیام کے لیے ہزاروں ہادی اور پیشوا بھیجے گئے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …