پیر , 10 مئی 2021

خالی خزانہ اور ہمارے حکمران

(عبدالقادر حسن)

بچپن میں بزرگوں سے سنا جنھوں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ بادشاہیوں کی تبدیلی سے بڑی تباہی آتی ہے ۔ بزرگوں کے ان بزرگوں نے سکھوں کی حکومت کی صورت میں ایک تبدیلی دیکھی تھی اور دوسری تبدیلی سکھ حکومت کے بعد انگریزوں کی حکومت کی ، دونوں تبدیلیوں میں بڑی تباہی آئی۔ خلق خدا کی جانیں بھی گئیں اور مال و متاع بھی۔ خاندان اور گھر اجڑ گئے ۔ پھر جب انگریز گئے آزادی ملی اور یوں ایک حکومت پھر تبدیل ہوئی تو بڑی تباہی آئی ۔ یہ تباہی ہم سب کی دیکھی بھالی ہے ۔ اس سے پہلے کی تاریخ حکومتوں کی تبدیلیوں کی صورت میں تباہیوں اور بربادیوں کے ذکر اذکار سے بھری ہوئی ہے ۔ جلا کر راکھ کر دیے جانے والے شہروں اور انسانی سروں کے میناروں کا ذکر ملتا ہے۔

یہ تو بڑی بادشاہت کی تبدیلیوں کا ذکر ہے۔ ملکوں کے اندر بھی چھوٹی موٹی بادشاہتیں بساط بھر بڑی تباہی لاتی ہیں ۔ پاکستان میں ایک بار حکومت بدلی تو ملک دو ٹکڑے ہو گیا ۔ اس کے بعد جب بھی تبدیلی ہوئی نئے حکمرانوں نے سابق حکمرانوں کی لوٹ مار ، رشوت ستانیوں اور مظالم کے ایسے ایسے قصے بیان کیے کہ اگر ان میں سے نصف بھی سچے ہوں تو گویا حکومت نہیں آئی تھی غنیم کی کوئی فوج ملک کو لوٹنے آئی تھی اور سب کچھ سمیٹ کر چلتی بنی۔

کسی بھی حکومت کی تبدیلی پر نئے حکمرانوں کا ایک فقرہ ہر پاکستانی کو یاد ہو چکا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ ہمارے حصے میں خالی خزانہ آیا ہے لیکن پھر خدا نہ جانے کہاں سے یہ خزانہ بھر جاتا ہے کہ نئے حکمران جی بھر کر داد عیش دیتے ہیں اور آنے والوں کے لیے خزانہ خالی کر جاتے ہیں۔
میں نے ایک بار یہ خزانہ خالی والا اور پھر بھر جانے والا سوال ایک ماہر معاشیات کے سامنے رکھا تو اس نے کہا کہ اس کا جواب تو بہت آسان ہے کہ ایک تو ملک کی بذات خود آمدن ہوتی ہے مثلاً کپاس یا گندم کی فصل اچھی ہو جائے تو خزانہ بھر جانے کی توقع ہوتی ہے، اس کے علاوہ حکمران عالمی اداروں سے جی بھر کر اور دل کھول کر قرض لیتے ہیں، اس سے خزانہ مزید بھر جاتا ہے اور یوں وہ اپنا وقت شان سے گزار کر آنے والوں کے لیے بیرونی اور اندرونی قرضے اور خزانہ خالی چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ سلسلہ حکومت در حکومت چلتا رہتا ہے تاآنکہ ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے جیسا کہ ہمیشہ ہمیں اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے مگر عالمی داروں کا مفاد اس میں ہے کہ پاکستان دیوالیہ نہ ہو اس لیے وہ کسی نہ کسی بہانے مزید قرض دے کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیتے ہیں اور نیا قرض دے کر اپنا پرانا قرض وصو ل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔

مجھے حکومتوں کی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی کا خیال اس سے آیا کہ ہماری موجودہ نوزائیدہ حکومت کے خلاف ابھی سے صفیں درست ہونا شروع ہو گئی ہیں لیکن حکومت کی اپوزیشن میں کوئی اصلی انقلابی شامل نہیں جو موجودہ دیوالیہ سسٹم بدل دینا چاہتا ہو اور ملک کے اندر کوئی ایسی تبدیلی اور ایسا نیا نظام لانا چاہتا ہو اور نئے نظام کو لانے کی پوزیشن میں ہو جو سب کچھ بدل کر رکھ دے۔ لیکن یہ سب کون کرے گا فی الحال تو ہمیں موجودہ حکمرانوں پر ہی گزراہ کرنا پڑے گا جنھوں نے انقلابی تبدیلیاں لانے کے دعوے کیے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی قدم نہیں بڑھائے ۔ ابھی تک عوام کو حکومت کی تبدیلی کی اطلاع نہیں ملی یعنی وہ کچھ نہیں ہوا جس کا وعدہ اور دعوے کیے گئے تھے، ابھی تک صرف چہرے اور ناموں کی تبدیلی آئی ہے۔

گاؤ آمد و خر رفت یا خر رفت و گاؤ آمد
کی مشق ہوئی ہے جو اس سے پہلے ہی بار بار ہو چکی ہے اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے جب تک اس ملک میں انقلابی قیادت نہیں آتی ۔ جب تک کچھ ایسے لوگ سامنے نہیں آتے جو اپنی نجی زندگیوں میں بھی انقلابی ہوں اور حال کو تہس نہس کر کے اس کے کھنڈروں پر نئی دنیا تعمیر کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں، ملک میں اگر کوئی تبدیلی آئی تو وہ نئی تباہیاں لے کر آئے گی۔ جب تک یہ مبارک وقت نہیں آتا تب تک حالات کو ایسا ہی رکھا جائے جیسے کہ وہ اس وقت ہیں ۔ جو حکمران موجود ہیں ان کو چلتا رہنے دیا جائے، ان کو ان کے وعدے یاد دلائے جاتے رہیں اور جس قدر ممکن ہو انھیں ڈرا دھمکا کر ان سے کوئی بہتر کام کرا لیا جائے اور روزمرہ کی زندگی میں کچھ سہولتیں حاصل کر لی جائیں ۔

یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ آج پوری پاکستانی قوم اس صورتحا ل سے مکمل طور پر باخبر ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اور سو فیصد یہی وجہ ہے کہ عوام کسی حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی تحریک کا حصہ بننے پر تیار نظر نہیں آتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ تبدیلی ان کے لیے نہیں پہلے جیسے چند نئے حکمرانوں کے لیے آئے گی ۔میں نے بارہا عرض کیا ہے کہ موجودہ حکومت کو کسی اپوزیشن سے کوئی مہلک خطرہ لاحق نہیں ہے، حالات میں اب تک کوئی ایسی خطرناک تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے البتہ چند حکومتی حماقتیں ضرور سامنے آئی ہیں جو تھوڑی بہت پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اگر حکومت نے عقلمندی سے کام لیا جس کی کچھ زیادہ توقع نہیں ہے تو وہ اپنی ہی پیدا کردہ الجھنوں سے بچ جائے گی اور نہ بھی بچ سکی تو اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا اور خزانہ بھی بتدریج بھر جائے گا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …