اتوار , 9 مئی 2021

بھارت کا ایک اور وار

(اکرام سہگل)

سری لنکا میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں اختیار کیے گئے طریقہ واردات سے یہ بات واضح ہے کہ یہ قتل عام کرنے والا گروہ انتہائی منظم اور تربیت یافتہ ہے۔ یہ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کا کام بھی ہوسکتا ہے اور دولت اسلامیہ کو بھی اس کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا نے کسی گروپ کی جانب سے ذمے داری قبول کیے جانے یا کسی سے متعلق شبہ پیدا ہونے سے قبل ہی مقامی گروہ نیشنل توحید جماعت (این ٹی جے) کو اس کا ذمے دار قرار دینا شروع کردیا۔اس سانحے کے دودن بعد سری لنکن تفتیش کاروں نے این ٹی جے کے رہنما ظہران ہاشم کو حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ کئی مبصرین اس سانحہ سے متعلق اپنی قیاس آرائیاں تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں ، تحقیقات سے یہ بات سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ اس سانحے سے سب سے زیادہ فائدہ کسے پہنچا؟ سری لنکا کے وزیر صحت راجیتھا سینارتنے نے کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا” ہمارے خیال میں ایک چھوٹی سی تنظیم یہ سب نہیں کرسکتی اس لیے ہم اس گروہ کے بین الاقوامی روابط اور حمایت سے متعلق تحقیقات کررہے ہیں؟

سری لنکا نیشنل توحید جماعت(ایس ایل ٹی جے) بھارت کی تامل ناڈو توحید جماعت(ٹی این ٹی جے) سے منسلک تنظیم ہے جس کا قیام 2005ءمیں ہوا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو سماجی سرگرمیاں، یتیم خانے چلانے اور مساجد کی تعمیر و خدمت وغیرہ جیسے کام کرتی ہے۔ ٹی این ٹی جے کئی پُر امن مظاہرے بھی کرچکی ہے اور بابری مسجد کی تعمیر نو کے لیے تامل ناڈو میں بھی احتجاج منعقد کرتی رہی ہے۔ ٹی این ٹی جے نے فوری طور پر سری لنکن گروپ سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور واضح طور پر کہا کہ ان حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ بھارتی اخبار دی ”ہندو“ اور اعلیٰ فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سری لنکا میں ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ظہران شاہ ”جنوبی بھارت“ میں تربیت کے لیے ”خاطر خواہ“ وقت گزار چکا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ این ٹی جے کو اسی تامل ناڈو کے علاقے میں تربیت فراہم کی گئی ہے جہاں کبھی تامل ایلام کی پناہ گاہیں تھیں۔ ایل ٹی ٹی ای کو بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ نے 1987میں کھلے عام مدد فراہم کی، یہ سری لنکا میں ریاست کے خلاف متحرک تنظیم تھی۔ بھارتی امن فورس (آئی پی کے ایف) نے ایل ٹی ٹی ای کے خلاف سری لنکن فوج کی کارروائی کے دوران انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے سری لنکا پر حملہ بھی کیا تھا۔ اس تنظیم نے راجیو گاندھی کو قتل کیا اس کے باجود’ را‘ نے 1991ءتک اس کی حمایت جاری رکھی اور بعد ازاں آئی پی کے ایف اور ان کے راستے جدا ہوگئے۔ سری لنکن حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حملے میں ملوث خود کُش بمباروں کو تامل ناڈو میں تربیت فراہم کی گئی اور ”را‘ نے ہاشم کو بھارت آنے جانے اور ساز و سامان کی نقل وحرکت میں بھی معاونت فراہم کی۔

کوئی ایسا شخص جو ایک مسلم تنظیم کا لیڈر ہو اور بھارت کے اندر مظاہروں اور احتجاج میں شریک بھی ہوتا ہو اور اسے سری لنکا میں بھی مشکوک تصور کیا جاتا ہو، کسی سہولت کاری کے بغیر یہ کیسے ممکن ہے وہ شخص بلاخوف آزاد گھومتا پھرے؟ این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی انٹیلی جینس افسران نے ان حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی سری لنکن خفیہ اداروں کو کسی ممکنہ حملے کی اطلاع فراہم کردی تھی۔یہ معلومات تب فراہم کی گئیں جب کسی ممکنہ کارروائی کے جواب کے لیے وقت ہی نہیں بچا تھا۔ بھارت اس خوں ریزی کے اصل ذمے دار کا سراغ لگا کر اسے سری لنکا کے حوالے کیوں نہیں کردیتا؟ ”را“ اپنے ہمسائیوں کے خلاف غیر ریاستی عناصر کے استعمال کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ سری لنکا میں ہونے والے حالیہ حملے اس کی بڑی واضح مثال ہیں۔ را کے سابق حکام کی کتابوں میں اپنی کام یابیوں کا خوب چرچا کیا گیا ہے ان کے مطالعے سے کوئی بھی بہ آسانی ان حملوں کی حقیقت سمجھ سکتا ہے۔ فروری 1971ءمیں گنگا طیارے کے اغوا کا واقعہ یاد کیجیے، کس طرح اس میں ایک بھارتی انٹیلی جینس افسر ملوث نکلا اور اسے بعد میںسراہا بھی گیا؟ کس طرح متروک فوکر 27طیارے کو صرف ایک پرواز کے لیے استعمال کیا گیا اور کیا یہ اتفاق تھا کہ اس کے سبھی مسافر یا تو بی ایس ایف کے اہل کار تھے یا ان کے رشتے دار؟اصل مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کو ایک تخریب کار قوت کے طور پر پیش کرنا تھا اورساتھ ہی مسلمانوں کو جذباتی طور پر اکسانا بھی تاکہ وہ ردعمل کا شکار ہوں اور ان کے مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کا مزید جواز ملے۔ بھارتی میڈیا کے خاص حلقے نے چند پاکستانیوں کی سری لنکا میں گرفتاری کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، وہ دیگر کئی متعدد غیر ملکیوں میں شامل تھے جنھیں ویزا ختم ہونے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا اور اس گرفتاری کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ ہائیبرڈ وار کا ایک اور عملی نمونہ ہے، جس میں بھارت نے کئی قدم آگے بڑھ کر ایسے غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی شروع کردی ہے جو اپنا ایجنڈا حاصل کرنے کے لیے وسائل نہیں رکھتے، بھارت انہیں تربیت دیتا ہے اور اشتعال دلا کر ایسی کارروائیوں کے لیے نقل و حرکت میں معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔ دنیا اس سے کیوں چشم پوشی کررہی ہے؟ کیا دہشت گرد تنظیم ایل ٹی ٹی ای کو بھارت کی معاونت حاصل نہیں اور کیا یہ دہشت گردی کی ریاستی پشت پناہی نہیں ہے تو پھرکیا ہے؟ کئی بار کیا ہم نہیں دیکھ چکے کہ غیر ریاستی عناصر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے مقاصد کے لیے بھارت ان کی معاونت کررہا ہے لیکن دراصل وہ ان کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں؟ ہائیبرڈ وار کا ایک جزو یہی ہے کہ سامنے کے حالات پس پردہ محرکات سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

بھارت مسلسل خطے میں اپنی چودھراہٹ جمانے کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک میں دراندازی کرتا ہے۔بھارت کے وہ نئے اتحادی جو جنوبی ایشیا کو چین کے ساتھ سرد جنگ کے تناظر میں دیکھتے ہیں ، اس نئی ہائیبرڈ وار کے لیے بھارت کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان پر چڑھائی کے لیے پہلے سوویت یونین اور بعد ازاں امریکا کی حوصلہ افزائی کی، ان دونوں نے افغانستان میں جنگ لڑی،ان کے لوگ مارے گئے اور سرمایہ بھی خرچ ہوا(افغانستان میں تباہی الگ ہوئی) جبکہ بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کے مواقع حاصل کیے۔ سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے میں بھارت ہی کا فائدہ ہے اور یہ وزیر اعظم مودی کے اس مسلم مخالف بیانیے کے تناظر میں کیا جارہا ہے جو انہوں نے انتخابات میں اپنا رکھا ہے، جس کے مطابق مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے ان واقعات کو کرائسٹ چرچ سانحے پر مسلمانوں کے ردعمل کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی ۔

2009ءمیں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی بھارت کے ایسے ہی ”فالس فلیگ“ آپریشن کی ایک اور مثال ہے۔ ایل ٹی ٹی ای کے چیف پربھاکرن اور اس کے دیگر ساتھیوں کو سری لنکا کی فوج نے کلونچی میں گھیر لیا تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کی مسلسل کوششوں کے باوجود سری لنکا پر بھاکرن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ لاہور حملوں کا وقت اور ہدف محض اتفاق نہیں تھا۔ اگر حملہ آوروں سے برآمد ہونے والی خوراک اور اسلحہ بارود کی مقدار اور ان کے حملے کا انداز دیکھا جائے (جس میں انہوں نے سری لنکن کھلاڑیوں کے بجائے ڈرائیور کو نشانہ بنانے کی کوشش کی) تو واضح ہوجاتا ہے کہ ان اصل مقصد پربھاکرن کی رہائی کے لیے ان کھلاڑیوں کو یر غمال بنانا تھا۔ اگر پربھاکرن ایک ثابت شدہ دہشت گرد ہے جسے بھارت نے تربیت اور سرمایہ بھی فراہم کیا اور اچانک وہ بھارت کا دشمن بھی ہوگیا تو بھارت کو کیوں اس کی حفاظت کی اتنی فکر لاحق تھی؟

اس ”فالس فلیگ آپریشن“ کے لیے ’را‘ نے مقامی دہشت گردوں کی خدمات حاصل کیں اور اس کارروائی میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ را سری لنکا کے صدر راجاپاکسے کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی رہی کیوں انھیں چین کا حامی تصور کیا جاتا ہے اور ان کی جگہ صدر میتھریپالا سیریسنا کو لایا گیا جنھیں بھارت کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ بات حیران کُن تھی کہ سریسینا نے چینی رسوخ ختم کرنے کے لیے بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے سے انکار کردیا اور اسی لیے ایسٹر کے موقعے پر ”فالس فلیگ“ آپریشن کرکے موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی۔ سریسینا یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ را انھیں قتل کرنا چاہتی ہے۔ بھارت سری لنکا میں کشیدگی چاہتا ہے تاکہ یہ ملک اس کے انگوٹھے کے نیچے رہے۔ ایسٹر سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کے بعد سری لنکا کے سینکڑوں مسلمان مغربی سرلنکا میں اپنے گھروں سے ردعمل اور حملوں کے خوف سے نقل مکانی کرگئے۔ خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کےلئے آبادی کے خاص حصے کو پناہ گزین بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھارت ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک میں بے چینی کو بڑھاوا دیتا ہے اور حالیہ واقعات سری لنکا جیسے پُرامن ملک میں ایک مرتبہ پھر قتل و غارت اور انتشار کی فضا پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …