بدھ , 12 مئی 2021

ڈائٹ مشروبات کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے سے بچاؤ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں بلکہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ ان مشروبات کو چینی نکال کر صحت کے لیے فائدہ مند بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر یہ لوگوں کے اندر زیادہ کھانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران امریکا میں 7 ہزار سے زائد بچوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور دریافت کیا کہ جو بچے پانی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، وہ کم کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں۔اس کے مقابلے میں ڈائٹ مشروبات پینے والے بچے 200 اضافی کیلوریز اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں اور دیگر غذاؤں اور مشروبات میں زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے ڈائٹ مشروبات کا استعمال فائدہ مند نہیں۔اس سے قبل گزشتہ سال آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

محققین نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ، کورونا کے باعث جانی نقصان اور معاشی بحران

برطانیہ کے اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث ملک …