ہفتہ , 8 مئی 2021

اس غذا کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا خطرہ بڑھائے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ویسے تو کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ چینی کھانا ذیابیطس جیسے مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے مگر آپ کی غذا میں شامل ایک مزیدار چیز بھی اس جان لیوا بیماری کا شکار بنا سکتی ہے۔یہ انتباہ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ڈیوک۔این یو ایس میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک وقت گوشت کھانا بھی ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں لوگ گوشت کھانا کتنا پسند کرتے ہیں جبکہ یہاں ذیابیطس کا مرض بھی وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 1999 سے 2010 کے دوران 45 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ روزانہ کیا کھانا پسند کرتے ہیں۔تحقیق کے اختتام پر 52 کے قریب افراد ذیابیطس کا شکار ہوچکے تھے اور نتائج سے معلوم ہوا کہ سرخ گوشت کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا خطرہ 23 فیصد جبکہ روزانہ چکن کھانا 15 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

اس سے قبل 2011 میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ سرخ گوشت کا استعمال بالغ افراد میں ذیابیطس کا خطرہ 19 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ گوشت میں موجود ہیم آئرن کی موجودگی ہے جو کہ اگرچہ جسم میں بہت تیزی سے جذب ہوتا ہے مگر اس کی زیادہ مقدار ٹشوز کو نقصان پہنچاسکتی ہے خصوصاً وہ ٹشوز جو انسولین بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سرخ گوشت، چکن، سی فوڈ وغیرہ میں ہیم آئرن کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ آئرن کی ایک نباتاتی قسم بھی ہے جو گریوں، سبز پتوں والی سبزیوں اور بیجوں وغیرہ میں ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ گوشت کو اپنی غذا سے نکال باہر کریں بس اس کے استعمال کی شرح میں کمی لائیں، خصوصاً سرخ گوشت کے۔اس کے مقابلے میں چکن، مچھلی یا نباتاتی پروٹین غذاؤں کا استعمال ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے۔

اس سے قبل 2017 میں سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ نمک کھانا ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے اور ان افراد میں یہ امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے جو جینیاتی طور پر اس مرض کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف آدھا چائے کا چمچ اضافی نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس تحقیق میں تین ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ زیادہ نمکین غذاؤں کے عادی تھے، ان میں اس جان لیوا مرض کا امکان 72 فیصد زیادہ پایا گیا۔

اسی طرح تحقیق کے مطابق زیادہ نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ون کا خطرہ 82 فیصد زیادہ بڑھا دیتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نمک کے استعمال اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور نمک کو زیادہ کھانا ذیابیطس ٹائپ ون کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …