منگل , 11 مئی 2021

امریکی خواتین فوجی اہلکاروں کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات میں ریکارڈ اضافہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی بری، بحری، فضائیہ اور میرین فورسز میں سال 2018 کے دوران خواتین اہلکاروں کے ساتھ زبردستی ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آئے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق حالیہ سروے میں انکشاف ہوا کہ گزشتہ برس امریکی مسلح افواج میں خاتون ساتھی کے ساتھ عدم رضا مندی پر مبنی جنسی تعلقات قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آئے جبکہ سال 2016 میں ایسے واقعات کی تعداد 14 ہزار 900 ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ تیار کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ 85 فیصد سے زائد واقعات میں متاثرہ فوجی خواتین کو اپنے حملہ آور کے بارے میں معلوم تھا اور بیشتر حملہ آور ان کے سینئر افسران تھے۔رپورٹ کے مطابق امریکی مسلح افواج کا حصہ بننے والی 17 سے 24 برس کی خواتین اہلکار اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکارہوئیں۔سروے رپورٹ میں ایک تھائی جنسی ہراساں کے واقعات میں شراب نوشی بڑا سبب قرار دیا گیا۔

قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹر شینناہن نے رپورٹ کے پیش کردہ اعداد وشمار پر کہا کہ جنسی ہراسانی کے واقعات غیر قانونی اور غیراخلاقی ہیں اور امریکی فوج کے مشن سے مطابقت نہیں رکھتے اور ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔انہوں نے امریکی فوج پر زور دیا کہ وہ جنسی ہراساں کے عمل کو جرم کے دائرے کار میں لائے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …