پیر , 17 مئی 2021

ابوبکر البغدادی کے نئے ویڈیو پیغام کا معمہ

(تحریر: سید علی موجانی)

مجھے یقین ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے سربراہ اور خود کو خلیفہ قرار دینے والے ابوبکر البغدادی کا دوسرا ویڈیو پیغام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ درحقیقت یہ ویڈیو پیغام رمضان المبارک 2014ء میں موصل کی زنگی مسجد میں خطبے کے دوران اپنی خلافت کے اعلان پر مبنی ابوبکر بغدادی کے پہلے ویڈیو پیغام کی طرح گہرے اثرات چھوڑے گا۔ ابوبکر بغدادی نے اپنی خلافت کے اس ابتدائی خطبے میں اعلان کیا تھا کہ رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس میں "رسول خدا (ص) اپنی فوج اور بٹالینز تیار کرتے تھے” اور "میں ایسے فرمانرواؤں اور حکمرانوں کی طرح ثابت نہیں ہوں گا جو اپنی عوام کو امن و امان اور فلاح و بہبود کی نوید سناتے رہتے ہیں”۔ شاید اس دن موصل کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے والے افراد یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ ابوبکر البغدادی اپنی بات کی اس قدر پابندی کرے گا کہ نہ صرف ان سے امن و امان چھین لے گا بلکہ دیگر ممالک میں بھی بہت سے انسانوں کو اس نعمت سے محروم کر ڈالے گا۔

اب خلیفہ ابراہیم (ابوبکر بغدادی) نے اسی "الفرقان” چینل سے مختلف حالات میں دوسرا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ اس کا نیا پیغام غیر متوقع طور پر سامنے آیا ہے اور ایسے حالات میں جاری ہوا ہے جب اس تکفیری دہشت گرد گروہ کے خلاف نبرد آزما ممالک کے خیال میں اب داعش کے زیر قبضہ کوئی سرزمین بھی باقی نہیں رہ گئی۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف انجام پانے والی فوجی کاروائی کا نتیجہ زمین سے ایسے گروہ کا خاتمہ تھا جس نے زمینی حدود اربع سے زیادہ اپنے مخاطبین کے ذہنی حدود اربع پر قبضہ کر رکھا تھا۔ لہذا اس قسم کے گروہ کے فکری اور ثقافتی پہلووں کی شناخت کے بغیر محض فوجی طاقت کا استعمال اس کے مکمل خاتمے میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک ایسی تحریک تھی جس نے بعث پارٹی، اخوان المسلمین، سلفی، صوفی، کرد، عرب، یورپی، ایشیائی اور دیگر قومیتوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک جگہ جمع کیا۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس گروہ نے مختلف سرزمینوں پر قبضہ کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر ایک طاقتورترین دہشت گردانہ نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تمام سرزمینوں سے محروم ہونے والاگروہ داعش دوبارہ سوشل میڈیا سے سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔

ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابوبکر البغدادی کا حالیہ 18 منٹ پر مبنی ویڈیو پیغام اکثر تجزیہ کاروں کی نظر میں محض پروپیگنڈہ قرار پائے گا اور عین ممکن ہے وہ بھی 2014ء میں موصل کی جامع مسجد زنگی میں ابوبکر بغدادی کے خطبہ خلافت کو سننے والے ان اکثر افراد کی طرح سوچیں جو اس خطبے کے بعد اسے محض ڈینگیں قرار دے کر گھر چلے گئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ قصہ اسی قدر تھا اور اب ختم ہو چکا ہے۔ ایک ایسے خلیفہ کا ویڈیو پیغام جو اکثر انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یا تو ہلاک ہو چکا تھا یا شدید زخمی اور بیماری کی حالت میں کسی کونے کھدرے میں پڑا تھا ظاہر کرتا ہے کہ داعش کا بغدادی خلیفہ مستعصم باللہ جیسے عباسی خلیفہ کی طرح کمزور اور بے چارہ نہیں ہے۔ دوسری طرف ابوبکر بغدادی نے اپنے اس ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے گروہ کی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے پیغام میں بار بار "لا ننسی ان نذکر۔۔۔” کا جملہ دہرائے جانا اور ہلاک شدہ داعش کمانڈرز کے ناموں کا ذکر کرنا ایک طرف ہیروز بنانے کی کوشش ہے تو دوسری طرف التمیمی، طالبی، سینائی، حجازی، صحراوی، عراقی، قحطانی، استرالی، شیشانی، فرنسی اور بلجیکی جیسے القابات کا ذکر یہ تاثر دینے کی کوشش تھی کہ اس کا گروہ بین الاقوامی سطح کا ہے اور قومیتوں اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے۔

ابوبکر البغدادی کے حالیہ ویڈیو پیغام کا اہم ترین نکتہ ان تین مخاطبین کی جانب پلٹتا ہے جنہیں خلیفہ نے اپنے ساتھ بٹھا رکھا تھا۔ ان میں سے دو افراد نے سر پر اسی علاقے اور قبیلے میں رائج مخصوص رومال لے رکھا تھا اور نہایت ادب اور احترام سے خلیفہ کے حضور بیٹھے ہوئے تھے جبکہ تیسرا شخص تھوڑا موٹا، کالی داڑھی والا اور ابوبکر بغدادی کے قریب بیٹھا تھا اور باقی دو افراد کے برعکس اس کے بیٹھنے کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ خلیفہ سے خاص مراسم رکھتا ہے اور خلیفہ کے ساتھ اس کی بے تکلفی ہے۔ یہ تاثر ویڈیو بنانے والے افراد کی جانب سے ویڈیو کے آخر میں اس امر کے ذریعے بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ وہ شخص ابوبکر البغدادی کو مختلف صوبوں کی فائلیں تھما رہا ہے۔ اگرچہ اس شخص کا چہرہ سینسر کر دیا گیا ہے لیکن اس نے سر پر جو رومال باندھ رکھا ہے وہ علاقائی انداز سے مختلف اور سعودی عرب میں زیر استعمال رومال سے ملتا جلتا ہے۔ یہ شخص اپنے مخصوص انداز سے خود کو جزیرۃ العرب یا ابوبکر البغدادی کے بقول "جزیرہ محمدی (ص)” کا امیر ظاہر کر رہا ہے۔ لہذا اسے سعودی عرب میں ملتی جلتی سیاسی شخصیت کیلئے ایک انتہائی اہم پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …