منگل , 11 مئی 2021

داعش کا خطرہ بدستور موجود ہے ،عراق و شام کو ہوشیار رہنا چاہیے

داعشی کیسے شام کےتقریباً چالیس سےپینتالیس فیصد حصے پر کنڑول حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے؟جبکہ اسی دوران وہ آدھے یا آدھےسے زیادہ عراق پر بھی قابض ہوچکے تھے ۔یعنی وہ شام کے نہرفرات کے اطراف کا زیادہ ترحصہ ،دیر الزور ،بوکمال ،میادین ،شام کے صحرائی علاقے،تدمر ،حمص کے اطراف ،یرموک کیمپ،سویدا صوبے کا ایک حصہ ،مشرقی حمص ،مشرقی حما ،حلب کاشمالی و مشرقی حصہ ،قابض تھے تو دوسری جانب عراق کے انبار ،موصل،صلاح الدین ۔۔سے لیکر کربلا کے دروازے کےقریب وہ پہنچ گئے تھے ۔تو اس داعش کو کون لیکر آیا تھا ؟کون انہیں اسلحہ دے رہا تھا ؟کون سہولت کارتھے ؟کن ملکوں نے اپنی سرحدیں انکے لئے کھول دیں تھیں ؟ کون ان کے لئے میڈیا پروجیکشن کررہا تھا ۔

اکثر عرب میڈیا انہیں دولت اسلامیہ کے نام سے اٹھان دے رہا تھا ۔۔تو اس کے پیچھے تھا کون ؟ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ،لبنانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ عرسال کی پہاڑیوں پر کیا کچھ ہورہا تھا ،اور نہ ہی شام و عراق کی عوام کو اور نہ ہی خطے کی عوام کوداعش کی کارستانیوں کو اس قدر جلدی بھولنا چاہیے ۔اور نہ ہی مستقبل میں داعش کے خطرے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ جس کے بارے میں آگے بات ہوگی ۔

داعش کون ہیں اور ان کی آئیڈیالوجی کیاہے ؟
داعش کی آئیڈیا لوجی سعودی عرب میں تخلیق کردہ وھابی سوچ ہے ،جنہیں امریکی ڈیمانڈ کے مطابق سعودی عرب کی درسگاہوں ا ور مساجد میں پروان چڑھایا گیا اور پیڑوفنانس کے ذریعے اسے پوری دنیا میں پھیلایا گیا ۔اور اس بات کا اعتراف خود سعودی عرب اور امریکہ کے ذمہ دار کرچکے ہیں،شہزادہ محمد بن سلمان کے اعتراف سے پہلے ہیلری کلنٹن اعتراف کرچکی تھی کہ امریکہ نے اس آئیڈیالوجی کو فنڈنگ کرنے اور دنیا میں پھیلانے کا کہا تھا ۔تو داعش کے مسلح دہشتگرد کہا ں سے تعلق رکھتے ہیں ؟

پوری دنیا سے ان کا تعلق ہے،آپ کو جان لینا چاہیے کہ شام و عراق میں زیادہ تر خودکش دہشتگرد سعودی عرب کی شہریت رکھتے تھے .داعش کا ہدف پہلے مرحلے میں عراق ،شام اور لبنان تھا اور اس کے بعد ایران کے ساتھ وہ تمام ممالک تھے جنہیں وہ تباہ کرنا چاہتے تھے ۔
داعش کا ایجنڈا کیاتھا اور اس پروجیکٹ کے بنیادی اہداف کیا تھے ؟کیا وہ ایک ایسی حکومت کی تشکیل چاہتے تھے کہ جہاں آزاد الیکشن ہو؟کیا وہ ایک جمہوری حکومت کی تشکیل چاہتے تھے ؟کیا وہ عوامی امنگوں پر مشتمل ایک سرکار بنانا چاہتے تھے ؟کیا وہ ایک ایسے ملک کی تشکیل چاہتے تھے کہ جہاں عوام اپنے نمائندوں اور سربراہوں کا انتخاب کرسکیں ؟ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں ؟

داعش کی آئیڈیالوجی میں الیکشن کفر یہ عمل ہے ؟جو بھی الیکشن میں شرکت کرے ان کے خیال میں کافر ہے ۔جو بھی بیلٹ بکس کے قریب کھڑا ہواسے واجب القتل سمجھتے ہیں جس کی مثالیں افغانستان اور عرا ق میں دیکھی جاسکتی ہیں ؟تو کیا یہ قوموں کےسنہرے مستقبل کو سنوارنے کا پروجیکٹ ہوسکتا ہے ؟تو اس پروجیکٹ کے تخلیق کار کون ہیں ؟ امریکیوں کے سوا ۔۔کہ جس کا وہ اعتراف بھی کرتے ہیں عراقیوں کو ہشیار رہنا چاہیے کیونکہ ٹرمپ کے بارے جو کچھ بھی کہا جائے لیکن وہ اپنے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کرتا جارہا ہے ۔

دیکھیں دشمن کے پاس بھی اگر کوئی مثبت پہلو ہو تو اس کا اعتراف کرنا چاہیے ،وہ اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرتا آرہا ہے اس نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل ختم کرے گا اور کر بھی لیا ،جن معاہدوں سے اس نے نکلنے کا کہا تھا اس پر وہ عمل کرچکا ہے امریکی ایمبیسی کو القدس شفٹ کرنے کی بات کی تھی ،جس کا اعلان وہ کرچکا ہے ،صدی کی ڈیل کی بات کی تھی وہ اس کی کوشش میں ہے ،مجھے نہیں معلوم گولان ہائٹس کے بارے کوئی وعدہ کیا تھا یا نہیں ۔۔

لیکن جو وہ وعدہ کرتا ہے اس پر عمل بھی کررہا ہے اور اس کے وعدوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا کہنا ہے کہ عراق کاتیل ہمارا ہے اور ہم اسے حاصل کرینگے ۔
اس نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ سعودیہ ایک دودھ دیتی گائے جیسا ہے اور میں دودھ دوھ کر رہونگا ،اور وہ دوھ چکا ہے اور ہر روز دوھ رہا ہے ۔کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟

لہذا اس کا کہنا ہے کہ عرا ق کے تیل پر ان کا حق ہے کیونکہ انہوں نے عراق میں اپنی فوج اتاری ہے ،بہت خرچہ کیا ہے اور سات ٹریلین ڈالر خرچ کرچکا ہے ،ہم عراقی تیل کے ایک حصے پر اپنی فوج کا پہرہ بٹھائیںگے اور تیل حاصل کرینگے تاکہ اپنا خرچہ واپس لے سکیں ۔ یہ تمام باتیں وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کھل کر چکا ہے ۔

عراقی بھائیوں کو اس طرف مکمل توجہ رکھنے کی ضرورت ہے ،عراق میں جس قسم کی بھی چھوٹی بڑی ایکٹی ویٹیز ہوں ا سکے بارے میں مکمل توجہ رکھنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ جناب ٹرمپ کا بیگ گراؤنڈ آپ کے پیش نظر ہے کہ وہ عراقی تیل پر اپنا قدرتی حق سمجھتا ہے ۔اور یہ بھی واضح رہے کہ جس طرح داعش امریکی افواج کی عراق میں واپسی کا ایک ذریعہ بنی تھی، ان کی وہاں موجودگی کا بھی وسیلہ بنی ہوئی ہیںاور ابھی داعش کا کام ختم نہیں ہوا۔

داعش کا کام سوسائٹیز ،افواج اور اجتماعی ساخت کو تباہ کرنا ہے ،لہٰذا جب پوچھاجائے کہ داعش کو شکست ہوئی ہے ؟تو جی ہاں داعش کو شکست ہوئی ہے لیکن داعش اپنے بہت سے اہداف کو بھی حاصل کرگئی ہے ۔مجھے افسوس ہے کہ اس انداز میں بات کرنا پڑ رہی ہے ،داعش نے اپنے بہت سے اہداف حاصل کرلئے جو اس امت کے دشمن کی خاطر تھے ۔

اس نے افواج اور قوموں کو تباہ کردیا ،خطے کی عوام میں حد سے زیادہ خون ریزی کی ،نفرت اور دوریوں کی بڑی بڑی دیواریں کھڑی کردی کہ جن کے خاتمے کے لئے سالوں اور صدیوں کی ضرورت ہے ۔ہمیں اعتراف کرنا ہوگا کہ اس امت کے دشمنوں نے یہ اہداف حاصل کرلئے اور ہمارا یہ اعتراف کرنا اس لئے ہے تاکہ ہم اسے ٹھیک کرسکیں ،مسائل کے سامنے ڈھیر ہونا نہیں بلکہ اس کا علاج کرنا ہے ۔

میں خطے کی تمام اقوام سے عرض کرنا چاہتاہوں کہ میرے بھائیو اور بہنو’’ داعش اب بھی ایک خطرہ ہے ‘‘کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ داعش کا خاتمہ ہوچکا ہے ،داعش کی جھوٹی خلافت ختم ہوچکی ہے ،داعش کی حکومت اور عسکری مومنٹ ختم ہوچکی ہے کہ جہاں وہ ایک پورے علاقے پر کنٹرول کی صلاحیت رکھتی تھی ۔

لیکن داعش کی آئیڈیالوجی ،داعش کی لیڈرشب جو دو دن سے ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے وہ موجود ہے ،داعش کے دہشتگرد اور خودکش بمبار موجود ہیں اور انہیں شام میں ہی دوبارہ ایکٹیو کیا جائے گا ۔میں ہوائی باتیں نہیں کررہا ہے بلکہ معلومات اور انفارمیشن کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ،کہ عرا ق میں بھی داعش کو دوبارہ فعال کیا جائے گا ۔

لہٰذا اس وقت عراق و شام کے درمیان سرحدوں پر موجود تعاون کو اسی طرح جاری رہنا چاہیے داعش کا ایک کام افغانستان میں افغان عوام کا قتل عام کرنا اور مزید قتل و غارتگری کو ہوا دینا ہے، تاکہ افغانستان سے داعش کو وسطی ایشیا کی جانب روانہ کیا جاسکے ،اور اس خطرے کی بازگشت ہمیں روسی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی زبانی سنائی دے رہی کہ جو اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں ۔یہ بات صحیح ہے کہ خطے میں داعش کے بڑے پروجیکٹ کو ناکام بنایا گیا ہے لیکن ابھی خطرہ پوری طرح ٹلا نہیں اور اس کی جانب مکمل توجہ کی ضرورت ہے ۔

(قائد حزب اللہ سید حسن نصراللہ کے خطاب سے اقتباس )

(٢ مئی ٢٠١٩)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …