بدھ , 12 مئی 2021

بحر ہند ،نیا میدان جنگ اور پاکستان کو درپیش خطرات

(بریگیڈئیر (ر) طارق خلیل)

اوماڑہ کا دہشت گردی کا واقعہ اور اس سے پہلے کوئٹہ میں معصوم ہزارہ کمیونٹی پر حملہ اور ان کو خون کا غسل کرانا اور اب سری لنگا میں دہشت گردی کے واقعات ،میں انگریزی کے بہت سارے مضامین میں پچھلے 7/8 ماہ سے لکھتا رہا ہوں کہ اگلا میدان جنگ بحر عرب اور انڈین اوشن ہے ۔خطے میںCPEC اورشنگھائی کے معاہدہ کے بعد جو جغرافیائی تبدیلیاں آئی ہیں، اس سے بھارت ،امریکہ اور اسرائیل کو اپنے مفادات پر ضرب پڑتی نظر آرہی ہے۔ میرا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ اس خطے اور بالخصوص پاکستان پراس کا دباؤ بڑھے گا ۔ ہر گزرتا ہوا دن بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی مضبوطی اس کے Geo Strategies مفادات اور اس کے جنوبی ایشیاءمیں ایک طاقت بننے میں رکاوٹ ہے ۔ یہ وہ نقطہ ہے جس پر امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ایک صفحے پر کھڑے ہیں ۔ 27 فروری کا اسٹرائیک کا وار بھی ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ اگر پاکستان اس کا جواب نہ دیتا تو اب تک حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہوتے ۔ ہماری اپوزیشن جماعتیں جو بھی ہیں لیکن عمران خان کی حکومت اور دفاعی فورسز نے پہلے مرحلہ میں پاکستان کو بچالیا ہے۔ سری لنکا اور پاکستان کی ساحلی پٹی میں اومان ، کویت اور افریقی ممالک میں امریکہ پوری طاقت کے ساتھ بیٹھا ہے۔ سوڈان میں انقلاب برپا کر دیا گیا ہے۔ اور یہی کوشش پاکستان اور سری لنکا میں ہورہی ہے ۔

سری لنکا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو امریکہ اور بھارت برداشت نہیں کرسکتے ہیںیہی وجہ ہے پچھلے ایک دو سال سے سری لنکا میں بندرگاہ کے ایشو کو لیکر بہت ہنگامہ کرایا گیا اور پراپیگنڈہ کے ذریعے سری لنکا کو یہ باور کرانا تھا کہ وہ چین اور پاکستان سے دوری اختیار کرے۔ بھارت سری لنکا کو اپنا زیر اثر علاقہ سمجھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اس دائرہ اثرمیں کسی دوسرے ملک کو دخل اندازی کا حق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ، نیپال ، بنگلہ دیش اور پاکستان پر اقتصادی اور عسکری پریشر ڈالتا رہا ہے اور موجودہ سری لنکا کے دھماکوں کے تانے بانے بھارت کے اداروں او ر زیر زمین تربیت گاہوں سے جا ملتے ہیں۔ اب ظہرام حاشم کا نام آرہا ہے جو بھارت میں تربیت یافتہ اور دہشت گردی کےلئے لوگوں کو تیار کرتا رہا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ بلوچستان میں کلبھوشن کو استعمال کیاگیا اور اب PTMکو استعمال کیا جارہاہے ۔ فرنٹ پر مسلم تنظیموں کے نام استعمال ہوئے ہیں جیسا کہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی ، نیشنل فرنٹ اور داعش ISIS کا نام بھی استعمال کیاگیا ہے ۔اس طرح سری لنکا میں داعش کا نام لیا گیا اور ایک چھوٹی سی جماعت تحریک المجاہدین کا نام لیا جارہاہے مگر اسکے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی بھارت ، TTP اور مذہبی جماعتوں کے ارکان کو استعمال کرتا رہا ہے ۔سری لنکا کو پچھلی تین دہائیوں میں تامل ٹائیگرز کو مدد دیکر دہشت گردی اور سول وار میں مبتلا رکھا ۔ بھارت پاکستان کو بھی کانٹا سمجھتا ہے۔

اہم نقطہ یہ ہے کہ سری لنکا واحد فوکل پوائنٹ ہے جو بحر ہند کو دونوں طرف سے کنٹرول کرسکتا ہے اگر چین یہاں پر اپنی خاطرخواہ نیوی کو رکھے یہ امریکہ اور بھارت دونوں کو منظور نہیں ہے۔ امریکہ کسی نہ کسی بہانے سے سری لنکا میں اپنی فوجی طاقت کو رکھنا چاہے گا اسی طرح گوادر اور اومارہ کی بندرگاہ بھی کھٹکتی ہیں ۔ سری لنکا ایک چھوٹا ملک ہے مگر وہ امریکہ کے دباؤ کے سامنے شاندارٹھہرا ہے۔ آنے والے دنو ںمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ سری لنکا اس دباؤ سے کس طرح نکلتاہے ۔ اسی طرح پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور 27فروری کے تجربہ کے بعد امریکی ، بھارتی عسکری اور سیاسی ایکسپرٹ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو روائتی طرز جنگ میں نہیں ہرایا جاسکتا ، پاکستان کو کمزور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اس پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے اور سیاسی ، سماجی محاذ آرائی سے کھوکھلا کیا جائے اور ریاست کو اندر ہی سے توڑا جائے، یہاں تک کہ وہ یہ تجربہ مشرقی پاکستان میں کرچکے ہیں۔

پاکستانی قوم کو قرضہ دےدےکر اتنا آسان اور سہل پسند بنادیا جائے کہ وہ ذراسی تکلیف بھی برداشت نہ کرسکے اور اس کا تماشہ ہم TV ٹاک شو میں، جلسوں جلوسوں میں دیکھ سکتے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے جو پچھلے 9 ماہ کے اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں، حکومتی پالیسیاں درست سمت جارہی ہیں مگر کرپشن بچاؤ عناصر اتنا شور مچارہے ہیں جیسا کہ ان کے دور میں دودھ کی نہریں چل رہی تھیں جو قرضے انہوں نے لئے تھے وہ کہاں ہیں اور کیا واپس نہیں کرنا ہے ،یہی قرضہ کا پریشر ہے۔ پاکستان کو بھی اس تناظر میں ایٹمی ، بحری ، فضائی اور کوسٹل دفاع کی پالیسیاں بھی بدلنا ہونگی پا،کستان بحری دفاعی اعتبار سے خود کفیل ہے لیکن امریکہ بھارت کے عزائم کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو دفاع کے ساتھ ساتھ حملہ کرنے کی صلاحیت کو بھی بڑھانا ہوگا ،اس کے لئے ہمیں نہ صرف چائنا بلکہ روس سے بھی تعلقات کو ایک نئی جہت دینی ہوگی ،اس کے ساتھ معیشت کو بھی مضبوط کرنا پڑے گا Out of Box حل نکالنے ہونگے ۔ مگر پرانے پٹے ہوئے مہرے شاید یہ نہ کرسکیں لیکن مضبوط اکانومی ہی مضبوط دفاع کی ضمانت ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے۔ تجارت ، ٹیکس کا نظا م اور انڈسٹری کو اٹھانا ہوگا ،نوجوانو ں کو SME میں کھپاکر معاشی حالت کو درست کیا جاسکتا ہے ۔ مگر بینکوں کی پرفارمنس کو دیکھا جائے تو وہ حکومتی پالیسیوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں SME قرضہ کا حصول اتنا مشکل بنادیا گیا ہے کہ عام آدمی کاغذوں سے ہی باہر نہیں نکلتا۔2/3 بلین کی بچت سے IMF کے قرضے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔(بشکریہ روزنامہ خبریں)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …