جمعرات , 13 مئی 2021

نیب سے پلی بارگین کا معاملہ، ای پی آئی سربراہ عہدے سے فارغ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کی وزارت نے حفاظتی ٹیکوں کے توسیع دینے کے پروگرام (ای پی آئی) کے سربراہ ڈاکٹر ثقلین گیلانی کو عہدے سے ہٹا دیا۔خیال رہے کہ دسمبر 2018 میں ثقلین گیلانی کے گھر پر چھاپا مار کر قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے برآمد کیے تھے۔ڈاکٹر ثقلین گیلانی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ بھی نیب کے چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی رقم کا بتائی جارہی ہے۔

انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا اور دوران حراست انہوں نے نیب سے پلی بارگین اور تمام رقم سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا، یہ رقم ان کے گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں احتساب عدالت نے رہا کردیا تھا۔

وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ کیوں کہ پلی بارگین کا مطلب تھا کہ ڈاکٹر ثقلین جرم میں ملوث تھے جس کے بعد ان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔راولپنڈی نیب کی ٹیم نے چھاپے کے دوران ڈاکٹر ثقلین گیلانی کے مکان سے 9 ہزار ڈالر نقد رقم، مقامی کرنسی اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی تھی۔یہ یقین کیا جارہا تھا کہ انہوں نے یہ رقم ای پی آئی مہم کے حوالے سے کیے جانے والے معاہدوں میں رشوت کے طور پر حاصل کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …