پیر , 10 مئی 2021

لندن میں آل سعود اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف مظاہرے

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں آل سعود اور آل خلیفہ کے مظالم کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔سعودی عرب نے 26 مارچ کو متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، سوڈان، امریکا، اسرائیل اور برطانیہ کی حمایت سے یمن کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔

جنگ اور محاصرے کی وجہ سے قحط سے گزشتہ چار برسوں کے دوران یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے 1 لاکھ 25 ہزار سے زاید بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے بحران یمن کو تاریخ انسانیت کا سب سے خطرناک المیہ قرار دیا ہے۔براہ راست سعودی اتحاد کی بمباری کی وجہ سے اب تک 50 ہزار سے زاید یمنی عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ پوری طرح سے تباہ ہو چکا ہے۔

جمہوریت کی حمایت کا راگ الاپنے والی مغربی حکومتیں خلیج فارس کی عرب حکومت پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کی غرض سے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اعتراض کرنے کے بجائے بحرین سمیت اس علاقے کی آلہ کار حکومت کی فوجی اور سیاسی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب آل خلیفہ حکومت نے مغربی ملکوں کی حمایت کے سائے میں بحرینی عوام پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ بحرینی عوام میں آل خلیفہ خاندان اور اس کی حامی مغربی حکومتوں کے خلاف نفرت اور غم و غصے میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔

بحرین کی شاہی حکومت نے اس ملک کو امریکہ کی ناپاک علاقائی پالیسیوں پر عملدرآمد کے ایک اڈے میں تبدیل کر رکھا ہے جس پر اس ملک کے عوام شدید نالاں ہیں۔ آل خلیفہ حکومت، عوام کی منشا کے خلاف امریکی سازشوں پر عمل کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کو پامال اور اسرائیل کو علاقائی طاقت تسلیم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

بحرین میں فروری دو ہزار گیارہ سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف عوامی تحریک جاری ہے- بحرینی عوام اپنے ملک میں سیاسی اصلاحات، آزادی اور جمہوریت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بحرینی حکومت نے اس عرصے میں سعودی عرب کے ساتھ مل کر عوام کی جائز جد وجہد کو فوجی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی ہے جس کے دوران سیکڑوں بحرینی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں کو آمریت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے جرم میں گرفتار کر کے جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …