منگل , 11 مئی 2021

فلسطینیوں کا خون بھی سرخ ہے

(تحریر: ثاقب اکبر)

وفقے وقفے سے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر تباہ کن اور ہولناک حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین یلغار جمعہ کو ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں کے بعد شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ جو ایک مہاجر کیمپ ہے، کے گردا گرد اسرائیلی ٹینک اور توپ خانہ موجود ہے اور اسرائیل جب چاہتا ہے، ان مظلوموں پر بمباری شروع کر دیتا ہے، نیز جدید ترین جنگی طیاروں جن میں F-16 بھی شامل ہیں، کے ذریعے آگ اور خون برسانے لگتا ہے۔ پاکستان کا میڈیا اب کے بار بھی اس جارحیت سے تقریباً لاتعلق یا بے خبر دکھائی دیا، چند ایک اداروں نے مختصر اور معمولی خبریں نشر کیں۔ ہمارے پرنٹ میڈیا کا بھی تقریباً یہی حال رہا ہے۔ یہ وہی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہے، جس نے ابھی چند ہفتے قبل نیوزی لینڈ میں ہونے والے ظالمانہ حملے کے خلاف دن رات آواز بلند کی تھی۔ اس میڈیا سے یہ عرض کرنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مارے جانے والے مظلوم مسلمانوں کی طرح فلسطینیوں کا خون بھی سرخ ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ عالم عرب کی ملوکیت کا مزاج شاہی ہمارے میڈیا پر زیادہ اثر کرنے لگا ہے۔ ہم توجہ دلانا چاہیں گے کہ یہ بنی امیہ اور بنی عباس کے دور کی ملوکیت نہیں، یہ تو غلام ملوکیت ہے۔ ان غلام شاہوں کی غلامی تو غلام در غلام ہونے کے مترادف ہے۔ اگر فلسطینیوں کے بہتے خون کی خبر نہیں پہنچی تو پھر خبر رساں اداروں اور نیوز چینلوں کو خبر رساں کیسے کہا جاسکتا ہے۔ بے خبر کیسے خبر رسانی کرسکتا ہے اور اگر یہ بے اعتنائی ہے تو المناک ہے اور اگر ضمیر کا سودا ہے تو پھر رسوا کن ہے۔ ہمیں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو نابود ہونا ہے، کیونکہ یہ ریت پر کھڑے پودے کی طرح ہے، یہ ایک جعلی حکومت ہے، یہ فلسطینیوں کی سرزمین پر مسلط کی گئی ریاست ہے، یہ یہودیوں کی نہیں بلکہ صہیونیوں کی آماجگاہ ہے۔ اس سرزمین کے اصل باسیوں کو آخر کار اس کا حکمران ہونا ہے۔ اللہ کے وعدوں کو ضرور پورا ہونا ہے۔ جو آج ستم رسیدہ ہیں اور جنھیں اس زمین میں مستضعف اور کمزور کر دیا گیا ہے، اللہ کا ارادہ ہے کہ آخر کار انہیں اس زمین کا وارث بنائے۔ اللہ کے ارادے میں کوئی کمزوری پیدا نہیں کرسکتا۔ اس کا ارادہ ہے تو پھر نافذ ہو کر رہنا ہے۔

آج جس انداز سے فلسطینی، اسرائیلی بربریت اور ظلم و استبداد کا مقابلہ کر رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ وہ ایک طرف جنازے اٹھا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اسرائیل پر راکٹ برسانے کی جرات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ دو روزہ نئی معرکہ آرائی میں غزہ میں جرات مند مظلوم باسیوں نے 600 راکٹ اسرائیل پر فائر کیے۔ اسرائیل کی فضائیہ کے ایک ترجمان کے مطابق حماس کے 150 راکٹوں کو تباہ کیا گیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی راکٹ اپنے نشانوں پر پہنچے۔ 4 صہیونی فلسطینی حملوں میں ہلاک اور دسیوں زخمی ہوئے۔ صہیونیوں سے بڑھ کر اگر کوئی وحشی نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی بزدل بھی نہیں۔ کنکریوں اور غلیلوں سے ڈرنے والے ان راکٹوں سے کس قدر خوفزدہ ہیں، اس کا اندازہ کرنے کے لیے اسرائیل کی اندر کی فضا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل نے جمعہ کو بعد دوپہر شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے جس جارحیت کا آغاز کیا وہ آج صبح (6 مئی 2019ء) مصر میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی پر منتج ہوچکی ہے، لیکن اس دوران میں غزہ کی پٹی کے گردا گرد 40 کلو میٹر تک موجود تمام سکولوں کو بند کر دیا گیا اور خوفزدہ عوام کے لیے پناہ گاہیں کھول دی گئیں۔

اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی شہر "قدس” کے نزدیک واقع اسرائیلی شہروں بیت شمیش، بئر السبع، اشدود، سدیروت اور عسقلان میں خطرے کے الارم بجتے رہے جبکہ غاصب صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں واقع فلسطینی مزاحمتی تحریکوں "حماس” اور "فلسطینی اسلامی تحریک” سے متعلق 30 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ صہیونی خبروں کی ویب سائٹ "واللا” نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی قریبی سرحد پر موجود تمام فوجیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں اغوا نہ ہو جانا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسرائیلی کس قدر خوفزدہ ہیں، جو ٹینکوں اور توپوں سے مسلح ہیں، وہ مجبور و مقہور فلسطینیوں سے لرزاں ہیں۔ ظالم اندر سے خوفزدہ تو ہوتا ہی ہے، لیکن قرآن نے ان صہیونیوں کے آباؤ اجداد کے بارے میں کہا ہے کہ: ”ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو، لیکن یہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اس کی وجہ ان کے وہ اعمال ہیں جو یہ آگے بھیج چکے ہیں۔ آپ انہیں اس دنیاوی زندگی کے لیے انسانوں میں سب سے زیادہ حریص پائیں گے۔”

مارچ کے آخر میں اسرائیل نے غزہ پر جو فضائی حملے کئے، اس کے جواب میں بھی غزہ کی جانب سے چند راکٹ داغے گئے تھے، جس کی وجہ سے پورے جنوبی اسرائیل میں ایئر ریڈ سائرن سنائی دیتے رہے۔ اسرائیلیوں کے ٹارگٹس کو اگر دیکھا جائے تو ان میں مسجد، ڈرائیونگ سکول، ہسپتال، انشورنس کمپنی کے دفاتر اور خبر رساں اداروں کے دفاتر تک شامل ہیں۔ حالیہ حملوں میں ترکی کی ایک خبر رساں ایجنسی انا تولو(اناطولیہ) کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے خلاف مذمتی بیان میں ترک وزیر خارجہ مولوت چاؤ شولو نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملے انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ انا تولو کے دفاتر کو نشانہ بنانا اسرائیل کی بے قابو جارحیت کی نئی مثال ہے۔ اسرائیل کا بے گناہ افراد کے خلاف تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہم فلسطین کے کاز کا دفاع جاری رکھیں گے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے اسرائیل کی جانب سے ترکی کی نیوز ایجنسی انا تولو کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ اردگان کا کہنا تھا کہ ہم انا تولو نیوز ایجنسی کے غزہ کے دفتر کو نشانہ بنانے کی پر زور مذمت کرتے ہیں، ترکی اور انا تولو دنیا کو اسرائیل کی غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں کی جانے والی دہشت گردی کے بارے میں بتاتا رہے گا۔

جس جرأت اور پامردی سے فلسطینی اور کشمیری حریت پسند عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنی سرزمین پر غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے معرکہ زن ہیں، یہ اس قرآنی نوید کے برحق ہونے کی ایک دلیل ہے کہ جس کا ذکر ہم سطور بالا میں کر آئے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر احسان کرے، جنھیں اس زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے اور انہیں اس زمین کا وارث قرار دے۔ ایسا ہونے والا ہے، عدل و انصاف کی صبح ضرور طلوع ہوگی اور مجاہد ان لوگوں کو یاد رکھیں گے، جنھوں نے دور ظلمت میں حق کے نورانی پیغام کو بلند کرنے کے لیے اپنے حصہ کی شمع روشن کی۔ دوسری طرف تاریک ضمیر لوگوں پر بھی تاریخ اور حریت پسند انسانیت نفرین کرتی رہے گی۔ آیئے ہم بھی ارادہ کریں کہ ہم مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کریں گے۔ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو پوری دنیا میں القدس کی آزادی اور فلسطینیوں کی سرزمین کی بازیابی کے لیے جو آواز اٹھائی جاتی ہے، اس میں ہم اپنی آواز شامل کریں گے، تاکہ ہمارا شمار بھی بیدار ضمیر انسانوں میں ہوسکے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …