ہفتہ , 8 مئی 2021

امریکا طالبان مذاکرات کا مستقبل ؟

(زمرد نقوی) 

افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمایندے زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ مستقل جنگ بندی تک طالبان سے امن معاہدہ نہیں ہوگا ۔ پاکستان آنے سے پہلے کابل میں دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا انحصار مستقل جنگ بندی کے خاتمے کے وعدے پر ہوگا ۔ اس وقت طالبان کے مطالبات کا محور صرف امریکی فوج کا انخلا ہے جب کہ ہمارا دھیان دہشت گردی پر ہے۔ طالبان نے مستقل جنگ بندی کے معاہدے اور لڑائی کے خاتمے کا وعدہ نہ کیا تو امن معاہدہ نہیں ہوگا۔ ہم فوجی انخلا نہیں افغان مسئلے کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں تاکہ انخلا کا امکان پیدا ہوجائے۔انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن اس قدر نہیں جتنی مجھے امید تھی۔

افغان ٹی وی کے مطابق زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا مشروط ہوگا۔ امن معاہدے سے پہلے انخلا نہیں ہوگا،طالبان انخلا کا وقت مانگتے ہیں، ہم نے ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔ ہم مشروط انخلا کے لیے تیار ہیں۔اب امریکا کی افغانستان میںموجودگی یا انخلا کا انحصار شرائط پر ہوگا ،اگر شرائط پوری کردی جاتی ہیں تو ہم ہمیشہ افغانستان میں رہنے پر ضد نہیں کریں گے ۔ امریکی شرائط پر عمل ہوا تو مرحلہ وار انخلا ہوگا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ہماری موجودگی کے دوران 4 قسم کے اقدامات کیے جائیں۔ ان چار امور سے متعلق طالبان سے مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔جن میں امریکی فوج کا انخلا، لڑائی کے خاتمے کی یقین دہانی، مستقل جنگ بندی،افغان حکومت اور طالبان کے بلاواسطہ مذاکرات۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امریکا اپنے خرچے ختم کرنے اور فوجیوں کے لیے خطرات کم کرنے کے لیے جلد ی میں ہے لیکن ہم اس مشن کو ذمے داری کے ساتھ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سوویت یونین کی غلطی پھر دہرانا نہیں چاہتے ۔ انھوں نے کہا کہ طالبان سے معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں مکمل امن نہیں ہوگا۔ ابھی ملک کو داعش سے بھی خطرے کا سامنا ہے، انھوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے موسم بہار میں حملوں کا اعلان غلطی تھی۔ نیٹو سپورٹ مشن کے تحت اس وقت امریکا کے افغانستان میں کم وبیش 14 ہزار فوجی ہیں۔

ادھر ماسکو مذاکرات کے ( امریکا ،روس، چین) اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان امن مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفا ق کیا گیا ہے۔ واشنگٹن سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو افغان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی عمل کی حمایت کرنی چاہے ۔ دستاویز میں طالبان کے اس عہد کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف لڑیں گے جب کہ القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط ختم کریں گے اور دیگر تنظیموں کو افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ دستاویز میں طالبان کے اس عہد کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جس میں انھوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے زیر انتظام علاقے کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوںگے۔مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ فریقین نے امن مذاکراتی عمل کے حصے کے طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمے دارانہ انخلا پر اتفاق کیا۔

پچھلے سال سے جاری امریکا طالبان مذاکرات اب بھی غیر یقینی سے دوچار ہیں۔ اس میں پیشرفت کم رکاوٹیں زیادہ نظر آرہی ہیں ۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے آغاز پر کہا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوں یا نہ ہوں اصل بات یہ ہے کہ 18 سال بعد امریکا طالبان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں ۔زلمے خیل زاد نے کہا کہ امریکا افغانستان سے اپنی افواج کا مشروط انخلا چاہتا ہے اور یہ مرحلہ وار ہوگا۔مکمل انخلا کا نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہوگا جیسا ماضی میں سوویت افواج کی یکدم واپسی پر ہوا ۔ مشروط انخلاء سے مراد امریکیوں کی یہ ہے کہ پہلے امن معاہدہ ہو گا، پھر انخلا ہوگا۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ بقول زلمے خلیل زاد ان امور پر طالبان سے مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔

زلمے خلیل زاد نے بڑی اہم بات یہ کی کہ ہم صرف فوجی انخلا نہیں چاہتے بلکہ افغان مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں جب کہ طالبان کی ترجیحات میں امریکی فوج کا فوری انخلا شامل ہے۔ زلمے خلیل زاد اپنے اس انٹرویو میں سب سے اہم بات یہ کی کہ اگر ہماری چار شرائط پوری کردی جاتیں ہیں تو ہم ہمیشہ افغانستان میں رہنے پر ضد نہیں کریں گے ۔ امریکا کا مکمل فوجی انخلا طالبان سمیت خطے کے تمام ممالک کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ امریکا طالبان مذاکرات میں پاکستان سہولت کارکا کردار ادا کررہا ہے۔ امریکا پاکستان کے اس کردار کا معترف بھی ہے۔ ہمیں دعا کرنی چاہے کہ پاکستان اپنا کردار کامیابی سے ادا کرتا رہے یہ کوئی آسان کام نہیں۔ زلمے خیل زاد ہوں یا امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ،ان کا حالیہ دورہ، پاکستان پر مزید دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی تھا ۔

ادھرصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے وہ تمام حدیں پارکر لیں ہیں جو ماضی میں کسی بھی امریکی صدر نے نہیں کی ، بیت المقدس یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا ، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کو جو شام کا حصہ ہے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنا ۔ اوباما دورکے جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹ جانا ،جب کہ امریکا کے یورپین اتحادیوں نے اس معاملے پر امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نئے الیکشن سے پہلے جو اگلے سال نومبر میں ہونے ہیں، ایک بہت بڑا ایڈونچرکرنے جارہے ہیں جس کا مقصد ایرانی حکومت بدلنا ہے جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اس میں ان کا مددگار اسرائیل ہوگا۔ اس حوالے سے اہم ترین وقت جون جولائی تا ستمبر اکتوبر ہے ۔

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی مد د گار بنے لیکن پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے صاف انکار کردیا ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے مذاکرات کے اگلے دو دور کے بعد امریکا طالبان امن معاہدے کے قریب پہنچ جائیں گے۔پھر امریکا اپنی پوری قوت و طاقت ایران پر مرکوز کر سکے گا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …