پیر , 10 مئی 2021

پاکستان عالمی معاشی طاقتوں کے گھیرے میں

(محمداسلم خان)

عوام کا کپتان خان کب کا بدل چکا اب وہ عالمی طاقتوں کا پابند وزیراعظم عمران خان ہے۔ نوازشریف جیسا مجبور محض’ جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سامنے جھکا نہیں’ سب کچھ ان کے سپرد کر چکا ہے۔ پاکستان کے ایوان اقتدار میں اصول نظریات کا کوئی کام نہیں ،عمران خان بھی صرف تبدیلی کے خواب دکھاتے رہے لیکن وہ بھی لکیر کے فقیر نکلے۔

عمران خان آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اقتصادی پروگراموں کے شدید مخالف تھے۔ انہوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سربراہوں کے نام تاریخی خط لکھا تھا جسے آج پڑھتے ہوئے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔ پوزیشن بدلتے ہوئے انسان کیسے بدلتے جاتے ہیں۔ 6 اکتوبر2000 کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے صدور کو لکھا تھا کہ ’’میں ان لاکھوں لوگوں کی طرف سے یہ خط لکھ رہا ہوں جو باعزت زندگی چاہتے ہیں اور ان کے پاس وہ ذرائع میسر نہیں جن سے وہ زندہ رہ سکیں۔ میں ان لوگوں کی تشویش بیان کررہا ہوں جن کی امید دم توڑ رہی ہے۔‘‘ مزید لکھتے ہیں ’’تشویش کا فوری باعث بڑھتا ہوا قرض ہے جو ہماری معیشت کو خطرے سے دوچار کئے ہوئے ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کی ہمارا معاشرہ معاشی اور سماجی لحاظ سے بھاری قیمت ادا کررہا ہے۔ دودہائیوں سے بھی کم عرصے میں بیرونی قرض میں تین گنا اور اسی طرح غربت میں اضافہ ہوا۔ ساڑھے چار کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے غیرانسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

عمران خان لکھتے ہیں ’’اندرونی اور بیرونی قرض ہمارے جی ڈی پی سے زیادہ ہے اور کل 700ارب روپے کے بجٹ میں سے 305 ارب قرض کی ادائیگی میں خرچ ہوجانے سے عوام کی سماجی بہتری اور معاشی ترقی کے لئے کم ہی بچتا ہے۔ حکومتوں نے جو قرض لیا وہ عام آدمی کے کام نہ آیا جبکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی سخت شرائط ان کی زندگی اجیرن بنادیتی ہیں۔ ٹیکس بڑھادئیے جاتے ہیں جس سے پہلے سے غربت میں رہنے والے عوام بلاتخصیص اس بوجھ کا نشانہ بنتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ داخلی اور خارجی قرضوں کا آڈٹ کرایا جائے کہ یہ قرض کہاں خرچ ہوا؟ کیا آپ اپنی شرائط میں سے ایک شرط یہ مطالبہ بناسکتے ہیں؟‘‘۔ مزید لکھتے ہیں ’’آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک بدعنوان حکومتوں کو قرض دینے سے خود کو بری الذ مہ قرار نہیں دے سکتے۔ چوٹی کے معاشی ماہر نے 1944 میں اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگرقرض خواہ اقوام ڈوبے قرض کے نقصان میں حصہ نہیں ڈالتیں تو تمام بوجھ مقروض قوم پر منتقل ہوجاتا ہے۔ ایسے ممالک میں امیر اور غریب میں فرق بڑھتا جائے گا اور غریب ملک مزید مقروض ہوتے جائیں گے اور غربت کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جائیں گے۔‘‘

عمران خان لکھتے ہیں کہ ’’معاشی اصلاحات کے لئے ڈھانچہ جاتی ردوبدل پروگرام سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں اور بیروزگاری اور غربت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس نے پاکستان کی معیشت کو مزید سست روی کا شکار بنادیا ہے۔ کیا آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہماری ڈانواڈول معیشت کے مزید عدم استحکام اور جبرا روپے کی قدر میں حالیہ کمی کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرے گی؟ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سول سوسائیٹی کی تعمیر کے محرک ہیں اس کے باوجود ردوبدل سے متعلق تمام معاملات خفیہ طورپر طے کئے جاتے ہیں اور عوام کی رائے اس بارے میں جاننے کا کوئی باضابطہ طریقہ کار موجود نہیں حالانکہ اس سے سب زیادہ متاثر عوام ہوتے ہیں۔‘‘

یہ بھی عمران خان نے ہی لکھا تھا ’’بنیادی اور معاشی حقوق باہم منسلک ہیں۔ صرف پاکستان کے عوام ہی معیشت کا پہیہ گھماسکتے ہیں لیکن اگر ان کی غالب اکثریت کو محض اعدادوشمار تصور کیاجائے گا تو پھر اقتصادی بحالی کی کوششیں محض ادھورا خواب ہی رہے گا۔ قرض کی ادائیگی کی حدوں سے دھکیل کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک پاکستان کے سماج کا دھڑن تختہ اورسیاسی افراتفری پیدا کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جس کے علاقائی سلامتی اور جنوبی ایشیاء میں بسنے والی ایک چوتھائی دنیا کی آبادی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بنیادی سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ’کیا معاشی اصلاحات پیکج معاشی بنیادوں پر تیار کیاجاتا ہے یا کہ سیاسی مفادات کے لئے؟‘‘

خط کا اختتام کپتان کے ان انقلابی جملوں سے ہوتا ہے ’’پاکستان میں یہ اتفاق رائے تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اصلاحاتی پروگرام ناکام ہوچکے ہیں۔ دیگر سنگین نتائج کے علاوہ امکانی معاشی تباہی قرض کی واپسی کے مقصد کے لحاظ سے بھی ہرگز سود مند نہیں ہوگی۔ اس لئے عوام کی طرف سے میں آپ سے پرزور طورپر کہوں گاکہ قرض کامسئلہ حل کریں تاکہ یہ معمولی وسائل قرض کی مد میں خرچ ہونے کے بجائے انسانی ترقی پر خرچ ہوں جس سے پائیدار معاشی بحالی کی ٹھوس بنیاد رکھی جاسکے۔‘‘ (جاری)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …