اتوار , 9 مئی 2021

شبر زیدی کو ایف بی آر چیئرمین تعینات کرنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جہاں ایک طرف معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ شبر زیدی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا چیئرمین تعینات کیا گیا تو اس فیصلے پر ایف بی آر کے اندر ہی سے سخت تنقید کی جارہی ہے اور وہاں موجود ان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کی دھمکی دے دی۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں ارشد علی حکیم کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ نجی شعبے سے کسی شخص کے تقرر کا معاملہ پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے ذریعے حل ہوچکا ہے‘۔

اس بیان میں ارشد علی حکیم کے کیس کا حوالہ دیا گیا، جنہیں نجی شعبے سے لاکر ایف بی آر کا سربراہ بنایا گیا تھا، تاہم ان کی مدت ایک سال کے قلیل عرصے تک رہی اور اِن لینڈ ریونیو سروس افسر کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس تقرری کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔عدالت کا یہ فیصلہ ایک مقام رکھتا ہے اور ایسوسی ایشن اب شبر زیدی کی تقرری کے خلاف اسی طرح کا کیس لانے کی دھمکی دے رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا کہ ’اس وقت حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا جس میں پہلے ہی نجی شعبے سے تقرری کے لیے تفصیلات جاری کردی گئی تھیں‘۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس مرتبہ ’نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ایسوسی ایشن توہین عدالت کی درخواست دائر کرے گی‘۔

دوسری جانب اس معاملے پر جب شبر زیدی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس کیس کو دائر کریں‘۔انہوں نے اپنی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد قائم کرنا‘ سب سے بڑا چیلنج ہے، ’یہ آٹومیشن، ٹیکس مین اور ٹیکس دہندہ کے درمیان رابطے کم کرنے اور رضاکارانہ تعمیل کو فروغ دے کر کیا جاسکتا ہے‘۔

ادھر ٹیلی ویژن پر ایک اور ریمارکس میں شبر زیدی نے ٹیکس نظام کا حوالہ ’اینٹی ٹیکس‘ کے طور پر دیا اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یہ تبدیل ہو۔ایک سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور دہائیوں سے ملک کے کچھ بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ طویل روابط رکھنے والے شبر زیدی اپنے ساتھ تجربے کی دولت اور تجارت کی چالوں کی معلومات رکھتے ہیں جو عام طور پر ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

شبر زیدی کی تعیناتی سے متعلق اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق تنازعات کے خدشات ظاہر ہونا شروع ہوگئے کیونکہ شبر زیدی کے کچھ کلائنٹس میں پاکستان کے بڑے کارپوریٹ اداروں سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں، جن کے ایف بی آر سے اربوں روپے کے ٹیکس معاملات ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور کراچی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت سلیم مانڈوی والا کہتے ہیں ’وہ ایک پشہ ور ہیں اور کاروباری برادری میں ایک مشہور شخصیت ہیں اور اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اس ملازمت کے لیے موزوں شخص ہیں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ایف بی آر افسران ان کے اقدامات کو روکنے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ باہر سے کسی کو تسلیم نہیں کرتے‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …