اتوار , 16 مئی 2021

ٹرمپ کے خلاف کارروائی کیلئے الزامات کافی مگر صدارتی استثنیٰ رکاوٹ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے تقریباً 400 سابق وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک مشترکہ خط میں کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر نہ ہوتے تو میولر رپورٹ میں موجود ثبوت کا نتیجہ ان کے خلاف انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے الزامات کے طور پر سامنے آتا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا کہ خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی تحقیقات میں موجود ثبوت اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو رکاوٹ ڈالی گئی وہ ’حد سے زیادہ‘ تھی۔اس وقت انصاف کی پالیسی کے ڈپارٹمنٹ نے موجودہ صدر پر فرد جرم عائد کرنے سے منع کردیا ہے۔

تاہم اس خط سے یہ امکان ظاہر ہورہا ہے کہ جیسے اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے پر سماعت مقرر کرنے کے لیے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کوششوں کو تقویت دی ہے اور یہاں تک کہ ریپبلکن لیڈر کے خلاف مواخذے کی کارروائی ممکنہ طور شروع ہوسکتی ہے۔

پراسیکیوٹرز کی جانب سے کہا گیا کہ ’ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ خصوصی وکیل رابرٹ میولر کی رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بتائے گئے طرزعمل کا نتیجہ انصاف کی رکاوٹ پر مختلف سنگین الزمات کی صورت میں نکلتا ہے‘۔قبل ازیں ایوان کی عدالتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ بنیادی ثبوتوں کے ساتھ میولر رپورٹ کے غیر تجدید شدہ ورژن فراہم نہ کرنے پر اٹارنی جنرل بل بار سے متعلق توہین عدالت کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق میولر کی 448 صفحات پر مشتمل تحقیقات رپورٹ تقریباً 2 برس میں مارچ کے اواخر میں مکمل ہوئی تھی، جس میں متعدد مثالیں دی گئی ہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تحقیقات روکنے کی کوشش سے متعلق متعدد مثالیں دی گئی ہیں۔تاہم میولر نے جسٹس ڈپارٹمنٹ پالیسی کی نشاندہی کی کہ موجودہ صدر کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں حکمرانی سے روکا جاسکتا ہے چاہے انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔

یہ بھی دیکھیں

چند امیر ممالک کرونا ویکسین ذخیرہ کرنے لگے، اقوام متحدہ کا ردِ عمل

نیویارک: دنیا کے چند امیر ممالک کرونا وائرس کی ویکسین بھی ذخیرہ کرنے لگے ہیں، …