بدھ , 12 مئی 2021

بھارتی الیکشن کی ناکامی کشمیریوں کی اخلاقی برتری ہے، سید علی گیلانی

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت جس جارحانہ اور جابرانہ اندازسے ایک منصوبہ بند فوجی مشق کو جمہوری عمل ثابت کرنے کی مذموم کوشش کررہا ہے اس کو کشمیری عوام نے بڑی بہادری سے ناکام بناکر اخلاقی برتری حاصل کرلی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارت کے نام نہاد پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر کشمیری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سات لاکھ سے زائد قابض افواج ،نیم فوجی دستوں اور پولیس انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ایک واضح اور غیر مبہم ریفرنڈم ہے۔

انہوں نے نام نہاد انتخابی عمل کے زہرِ ہلاہل کو ریاستی عوام کے گلے اُتروانے کے لیے بھارت کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ انتخابات کا بگل بجاتے ہی جموںو کشمیر میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی اور مارشل لاءکا نفاذ عمل میں لایا گیا اورجماعت اسلامی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جیسی سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرکے ہزاروں سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتار کیاگیا اور انہیں تہاڑ، ہریانہ، کٹھوعہ، کوٹ بھلوال، ریاسی، امپھالا اور دیگر دور دراز جیلوں میں ڈالاگیا اورانہیں بنیادی سہولیات سے محروم کرتے ہوئے تنگ و تاریک سیلوں میں مقید کیا گیا ۔

حریت چیئرمین نے کہاکہ چند ضمیر فروش لوگوں کے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر بھارت کی طرف سے ڈینگیں مارنا ایک ایسے بزدل شخص کی واضح مثال ہے جو کسی اکھاڑے میں اپنے مدمقابل کو رسیوں سے باندھ کر مکے مارتے ہوئے اپنی جھوٹی فتح کا جشن منارہا ہو۔ انہوں نے بھارت کو نوشتہ دیواڑ پڑھنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی نا م نہاد تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے یہاں کی حریت قیادت کی کردار کُشی کی اور انہیں بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں فرضی الزامات کے تحت قید کردیا گیا جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ہراساں اور پریشان کرنے کے لیے پوچھ گچھ کے نام پر دہلی طلب کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بھارت کے ہرانتخابی عمل کو ریاستی عوام کے لیے وبال جان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ارباب اقتدار کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ اِسے اپنی پارلیمنٹ کی تقریباً چھ سونشستوں پر انتخابات کروانے میں مالی اور انسانی وسائل کے حوالے سے اتنا خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑرہا ہے جتنا جموںو کشمیر کی نام نہاد چھ پارلیمانی نشستوں پر آتا ہے۔

انہوں نے بھارتی حکمرانوںکو مشورہ دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو انتخابی سیاست کے زاویہ نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اپنی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کریں اور مسئلے کوان کی مرضی کے مطابق پرامن طریقے سے حل کریں۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …