ہفتہ , 8 مئی 2021

جب تک اسرائیل باقی ہے تب تک حزب اللہ کے ہتھیار باقی رہیں گے۔شیخ علی دعموش

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک)حزب اللہ لبنان کی اجرائی کونسل کے نائب سربراہ شیخ علی دعموش نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرش کی طرف سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ در حقیقت اسرائیلی مطالبہ اور منصوبہ ہےجب تک اسرائیل باقی ہے تب تک حزب اللہ کے ہتھیار باقی رہیں گے۔

گوٹرش نے اپنی ایک رپورٹ میں حزب اللہ اور دیگر گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طائف معاہدے اور 1559 قرارداد کے مطابق ہتھیار زمین پر رکھ کر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہیں اور ملک کے اندر یا باہر عسکری سرگرمیوں کو ترک کردیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے اس مطالبہ پر حزب اللہ لبنان کی اجرائی کونسل کے نائب سربراہ شیخ علی دعموش نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے پاس ہتھیار اسرائیل کے خطرے کے پیش نظر ہیں اور جب تک خطے میں اسرائیل کا خطرہ موجود ہے تب تک حزب اللہ لبنان کے پاس ہتھیار موجود رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ لبنان کی ارضی اور قومی سالمیت کے پیش نظر حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی بہت اہم اور لازم ہے۔

حزب اللہ کی اجرائی کونسل کے نائب سربراہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی طرف سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ اسرائیل کا بہت پرانا اور قدیمی مطالبہ ہے ۔ اسرائیل نے حزب اللہ کی نابودی کے لئے کئی بار لبنان پر جنگ مسلط کی ہے، اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کے بجائے اسرائیل سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ لبنان کی مقبوضہ سرزمین مزارع شبعا سے خارج ہوجائے اور لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ترک کردے۔

انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے ہاتھ میں اسلحہ اسرائیل کے خطرے کے پیش نظر ہے اور جب تک اسرائیل کا خطرہ موجود ہے تب تک حزب اللہ سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ غیر منطقی اور غیر قانونی ہے جب تک اسرائیل باقی ہے تب تک حزب اللہ کے ہاتھ میں اسلحہ باقی رہےگا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …