منگل , 11 مئی 2021

غزہ کے شیر دل جوان اور رمضان المبارک

اسرائیل فوج کی جارحیتوں کے جواب میں غزہ کی فلسطینی تنظیموں نے جو وسیع جوابی کاروائی کی ہے اور اس کاروائی کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ کے علاقے پر جو بمباری کی گئی ہے اسے دیکھ کر غزہ پٹی کے حالات کا اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ کے عوام، خوف کیا ہوتا ہے یہ جانتے ہی ہیں، انہیں اسرائیلی فوج اور اس کے ٹینکوں کا کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ وہ واقعی مرد ہیں اور وہ بھی اس زمانے میں جس میں مرد بہت کم ہیں ۔

وہ اس زمانے میں شجاعت کے جوہر دکھا رہے ہیں جب بزدلی اور اسرائیل سے دوستی کی خواہش عربوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ غزہ پٹی کی فلسطینی تنظیموں نے صیہونی علاقوں پر 600 سے زائد میزائل فائر کر دیئے، حملوں میں پانچ فوجی ہلاک اور 100 سے زائد صیہونی زخمی ہوئے، اس وقت غزہ کے عوام رمضان المبارک کا استقبال کر رہے ہیں جو قربانی اور چانثاری کا سبق دیتا ہے ۔

غزہ کے شہریوں نے اپنے میزائلوں سے اسرائیل کے دفاعی میزائل سسٹم کو کسی کھلونے سے بھی زیادہ ناکام ثابت کر دیا ۔ اسرائیل نے حملہ کرکے اگر 18 فلسطینوں کو شہید اور 170 سے زائد کو زخمی کر دیا تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حملے پر اسرائیل کو فلسطینیوں کا منہ توڑ جواب بھی مل گیا ۔

جہاد اسلامی تنظیم نے اپنے میزائلوں سے صیہونی کالونی اسدود کو نشانہ بنایا، کئی صیہونی کالونیوں میں صیہونیوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں پناہ لینی پڑی ۔ فلسطینی تنظیموں نے اس حملے کا اصل پیغام صیہونی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو اچھی طرح پہنچ گیا ہے۔ ایک پیغام تو یہ ہے کہ اس سال یوم نکبہ آسانی سے نہیں گزرے گا اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ ڈیل آف سینچری سے فلسطینی اچھی طرح نمٹ لیں گے ۔ نتن یاہو اگر اپنے عرب دوستوں کے ساتھ غزہ کا محاصرہ کرکے انہیں بھوکا مارنا چاہتے ہیں تو یہ بھی کر لیں ویسے وہ تو کئی سال سے یہی کر بھی رہے ہیں ۔

اب گر وہ غزہ پٹی میں قتل عام کا ارادہ رکھتےہیں تو یہ بھی کر لیں لیکن تل ابیب کے اندر اسی طرح کی جوابی کاروائی کے لئے بھی خود کو تیار کر لیں ۔ دو مہینہ پہلے فلسطینیوں نے جو میزائل حملہ تل ابیب کو عبور کرکے اس کے شمال میں واقع کالونی پر کیا تھا اس نے اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ فلسطینیوں کی میزائل توانائی کا دائرہ کہاں تک ہے ۔

نتن یاہو کو اس حقیقت کا اچھی طرح ادارک ہے اسی لئے جب وہ غزہ پٹی پر حملہ کرتے ہیں تو زیادہ تر بے جان علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں اور فورا مصر کی مدد سے جنگ بندی کی کوشش شروع کر دیتے ہیں ۔غزہ میں بسنے والے شیروں کے پاس شجاعت اور جانثاری کا جذبہ ہے جو ہمیشہ سے بلند رہتا ہے اور رمضان کے مہینے میں اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے ۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …