اتوار , 9 مئی 2021

پاکستان عالمی معاشی طاقتوں کے گھیرے میں

(محمد اسلم خان)

اکبرایس بابر نے اس خط کے ساتھ ایک مختصر پیغام(ٹویٹ) بھی دیا ہے، لکھتے ہیں کہ’’ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا بجز عمران خان کے۔‘‘ اکبر بابر جیسے لوگ عمران خان کے ہمرکاب تھے تو وہ ایسے خط تحریر کرتے جو عمران خان کے دستخطوں سے غریبوں کو امید دلاتے تھے اور ان کی آواز بنتے تھے۔

بے ساختہ حبیب جالب یاد آگیا ہے
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقہ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے

’نادم اعلی‘ کی معاشی ٹیم ہٹادی گئی۔ کپتان نے غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور اندرونی وبیرونی قرضوں میں جکڑی قوم کو دکھوں سے نجات کے لئے جس معالج کا انتخاب کیا ہے، وہ اسی مطَب کا ملازم ہے جس کے علاج سے یہ تمام امراض قومی وجود کے رگ وریشے میں سرایت کرگئے ہیں۔ بھاری بھرکم تنخواہ، پرکشش مراعات چھوڑ کر ‘‘قوم کی خدمت’’ کے جذبے سے سرشار رضاباقر کو گورنر سٹیٹ بنک بنادیاگیا ہے۔ کہتے ہیں اس تقرری سے قبل وہ عمران خان سے پہلے ملاقات کرچکے ہیں، کئی اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں جن میں اسدعمر پر تنقید ہوتی تھی۔ ’سٹیٹس کو‘ کی زنجیریں توڑنے نکلے کپتان کا بیانیہ ماضی میں کیا تھا اور اب کیاہے کیا ہوگیا ہے، وہ کچھ کم سبق آموز نہیں۔ عوامی رہنما کا سیاسی سفر بھی کیا ہے، جس نصب العین کے لئے جدوجہد شروع کی تھی، قافلہ بنا تو اسے رہبروں نے خود ہی اسے لوٹ لیا۔ کیا قسمت پائی ہے عجب مقدر ہمارا ہے۔

اس میں کوئی کلام نہیں کہ طارق باجوہ اور جہانزیب خان دونوں کا تعارف مسلم لیگ (ن) اور شہبازشریف تھے۔ جہانزیب خان چئیرمین ایف بی آر تھے، ان کے بارے میں کئی کہانیاں عام ہیں لیکن 30 سال سے ان کا شریف خاندان سے تعلق تھا جس کی وسعت اور گہرائی خطوط والے قطری شہزادے سے کہیں زیادہ تھی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زیرزمین کیاکیا معاملات رہے ہوں گے؟

طارق باجوہ کے بارے میں شہبازشریف رطب للسان رہے ہیں۔ وہ ان کے ایک بااعتماد ساتھی کے طورپر کام کرچکے ہیں۔ آشیانہ ہائو سنگ کا معاملہ اور اس میں اْن کا کردار کوئی راز نہیں۔ وہ ’نادم اعلی‘ کے دور میں پنجاب کے خزانہ کے امین تھے جب سب کچھ ہورہا تھا۔ جہانزیب خان کی جگہ کسٹمز سروس گروپ سے تعلق رکھنے والے گریڈ اکیس کے افسر احمد مجتبی لے رہے ہیں جبکہ گورنر سٹیٹ بنک کی اہم ذمہ داری سنبھالنے والے ڈاکٹر رضا باقر2000 سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے اور اِس وقت مصر میں آئی ایم ایف کے اعلیٰ نمائندے کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ امریکی یونیورسٹی برکلے سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی سند پانے کے علاوہ ممتاز ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی معاشیات کے موضوع ہی میں فارغ التحصیل ہیں۔ ان کی علمی و عملی قابلیت پر کوئی شک نہیں۔ گورے ایشیائی بچوں کی ذہانت، تعلیم اور قابلیت کی بنیاد پر ہی ان کو اعلیٰ مناصب پر فائز کرتے ہیں۔ پاکستان تھوڑی ہے کہ جہاں رشتہ ملا، اسے بھرتی کرلیا۔ چار نعرے لگائے اور آپ وزیر بن گئے۔

ڈاکٹر رضا باقر 2005 تا 2008 تک فلپائن میں بھی آئی ایم ایف کے اعلی نمائندے کے طورپر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں فلپائن کے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف مشن چیف کی حیثیت سے بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی وہ ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ 2012 سے 2016ء کے عرصہ کے دوران وہ قرض سے متعلق آئی ایم ایف کے پالیسی ڈویژن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں لہذا وہ قرض اور اس سے متعلق تمام امور کو بخوبی جانتے اور اس کی باریکیوں سے آگاہ ہیں۔ تھائی لینڈ، یوکرائین، پرتگال، گھانا، جمیکا، قبرص اور قرض کے مارے ہوئے یونان میں بھی عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے وہ مامور رہے ہیں۔ عالمی بنک (ورلڈ بینک)، ایم آئی ٹی یونیورسٹی اور سویٹزر لینڈ کے ’یونین بینک‘ بھی ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرچکے ہیں۔

گورنر سٹیٹ بنک کی تقرری پر تنقید کی شدید گولہ باری شروع ہوگئی ہے۔ منیر نیازی کا ’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘ دیکھ کر جنہیں یاد آجاتا ہے، وہ میاں رضا ربانی رضاباقر کے لتے لینے میں کشاں کشاں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے فرمایا’’ آئی ایم آیف کے موجودہ ملازم کی سٹیٹ بینک میں بطور گورنر تقرری افسوسناک ہے۔‘‘ انہوں نے اسے ’’مفادات کا ٹکرائو‘‘ بھی قرار دیا اور منطق پیش کی کہ ’’اِن کی وفاداری پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گی۔‘‘ واہ جی میاں صاحب واہ۔ جب بلیک واٹر کو دھڑا دھڑا ویزے مل رہے تھے، اس وقت میاں صاحب شاید لاعلم رہے؟ سابق چئیرمین سینٹ رہنے والے اس ماہر قانون اور شعلہ بیان مقرر کو ’’آئی ایم ایف ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ دکھائی دینے لگی ہے۔ کاش میاں صاحب کی یہ حق گوئی اس وقت بھی سنائی دیتی جب آئی ایم ایف ہی کے ملازم رہنے والے عبدالحفیظ شیخ اْن کے وزیرخزانہ تھے اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) لگانے پر ساری دنیا کے احتجاج کا سامنا کررہے تھے۔ کہتے ہیں جناب زرداری نے اْن کو سات سلام کرکے یہ کہہ کر جان چھڑائی تھی کہ جناب ہم نے ووٹ غریب لوگوں سے لئے ہیں، آئی ایم ایف سے نہیں۔ کاش میاں صاحب اْس وقت یہ بیان جاری کرتے کہ ’’پاکستان کی معاشی خود مختاری اور قومی سلامتی کو داو پر لگا دیا گیا ہے۔‘‘

مشیرِ خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ڈاکٹر رضا باقر کے تقرر کو ’’اہم قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے دفاع میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ ’’وزیر اعظم عمران خان ملک کے موجودہ معاشی حالات میں بہتری لانے کے لیے بہترین ٹیم بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ویسے یہ بات تو اسدعمر کے بارے میں بھی کپتان نے نہایت شد ومد کے ساتھ کہی تھی۔

ایک ماہرمعاشیات سید شبر زیدی کا استدلال ہے کہ ’’ڈاکٹر رضا باقر کی تعینانی پاکستان کا ایک طویل المدت معاشی وژن ہے جس کے ثمرات 2020 کے پاکستان پر نہیں بلکہ 2030 کے پاکستان پر ظاہر ہونگے۔‘‘ ’’یعنی ہنوز دلی دور است‘‘ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسد عمر کو ہٹاتے وقت ہی گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو بدلنے کا بھی فیصلہ کردیاگیا تھا۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر دونوں نے آئی ایم ایف میں اکٹھے کام کیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ یہ اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ ڈاکٹر رضاباقر پاکستان کی معاشی پالیسیوں سے متعلق اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ نئی معاشی ٹیم کی آمد سے تحریک انصاف کے نئے پاکستان کا ایجنڈا ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا ہے۔ اب معاشی پالیسیاں وہ بنیں گی جن کا تعلق بین الاقوامی اداروں سے ہے۔

نوماہ گزر گئے۔ کپتان نے بیٹنگ آرڈر تبدیل کردیا ہے۔ اوور بھی گزرتے جارہے ہیں اور ٹیم آرگنائزرز اور شائقین کی توقعات بھی بیٹھتی جارہی ہیں۔ معیشت ٹھیک کرنے کے لئے ایک سرجن مریض کا آپریشن کرکے اسے وارڈ میں چھوڑ کرچلاگیا ہے۔ نئے سرجن تشریف لاچکے ہیں۔ چھ سو ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی بازگشت ہے۔ پہلے ہی ہر چیز مہنگائی کی حدوں کو چھورہی ہے۔ رہی سہی کسر رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی منافع خوروں، ناجائز فروشوں نے اندھیر نگری سے پوری کردی ہے۔ (ختم شد)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …