جمعرات , 13 مئی 2021

ریاست کا مفاد ہی ہمارا مفاد ہے

( نذرحافی)

کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیئے، ریاست پر ایک بڑا بوجھ صحافیوں کا بھی ہے، صحافی حضرات آئے روز مفت میں لوگوں کا دماغ خراب کرتے ہیں، چنانچہ یہ اکثر کسی خفیہ گولی یا نامعلوم گروہ کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، سچ بات تو یہ ہے کہ صحافی برادری میں ہزارہ برادری جتنا بھی دم نہیں ہے، ہزارہ برادری کے لوگ پھر بھی جمع ہو کر شور و غل تو کرتے ہیں، لیکن صحافی برادری سے تو شور بھی نہیں ڈالا جاتا، خوش قسمت ہے ہماری ریاست کہ جہاں صحافیوں کا فضول بوجھ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ہماری ریاست اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں تیزی سے پوری کر رہی ہے اور ہر صحافی کی تدفین پر ریاستی اکابرین کی طرف سے چھوٹا موٹا تعزیتی بیان آ ہی جاتا ہے۔

صحافیوں کی طرح ملک پر ایک بڑا بوجھ مریضوں کا بھی ہے، اس بوجھ کو کم کرنے کا بھی ہمارے ہاں خاطر خواہ اور تسلی بخش انتظام موجود ہے، چنانچہ ڈاکٹر حضرات انتہائی مہارت کے ساتھ مریضوں کے گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں، مریضوں کے دلوں میں جعلی سٹنٹ ڈالتے ہیں، اسی طرح مریضوں کی خدمت کو عین عبادت سمجھتے ہوئے مارکیٹ میں جعلی دوائیاں عام ملتی ہیں اور ان پڑھ حکیم کثرت سے موجود ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ مشہور ڈاکٹروں کو چیک کرانے کی باری لینے کے لئے باری دینے والوں کی چائے پانی کا انتظام بھی مریضوں کے لواحقین کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ ساری خدمات ہمارے ہاں سرکار کی طرف سے بالکل فری اور مفت ہیں، اگر ان خدمات کے باوجود ریاست سے مریضوں کا بوجھ ختم نہیں ہو رہا تو پھر اس میں ریاستی اداروں کا کیا قصور ہے!؟

مہنگائی، غربت اور فقر کے اس دور میں ریاست پر ایک بڑا بوجھ ان لوگوں کا بھی ہے، جو اپنے پورے خاندان، بیوی بچوں، ماں باپ، اور بہن بھائیوں کے لئے محنت و مزدوری کرتے ہیں، ایسے لوگ مفت میں اپنے گھر والوں کو کھلا کھلا کر ریاست پر اضافی بوجھ کا سبب بنتے ہیں، ان کے بوڑھے ماں باپ، چھوٹے چھوٹے بچوں اور بہن بھائیوں کو خود بخود مرجانا چاہیئے۔ چونکہ یہ بوڑھے اور بچے خود بخود نہیں مرتے، چنانچہ انہیں مارنے کے لئے عشق اور جنگ میں سب کچھ جائز ہونے کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے ان کے خاندانوں کے جوانوں کو اغوا اور لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ جب کسی خاندان کے ایک یا دو بندے اغوا ہو جاتے ہیں تو باقی خاندان اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ ریاست کا بوجھ کم کرنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ مفید، موثر اور محفوظ ہے۔ چونکہ اغوا ہونے والے کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور پھر وہ کچھ بولتا ہی نہیں، باقی رہ جاتے ہیں اس کے پسماندگان، جو اگر بولیں بھی تو انہیں بھی عشق اور جنگ کے فارمولے سے خاموش کروانا کون سا مشکل کام ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ پاکستان کے قانون کو مکمل طور پر منسوخ کر دینا چاہیئے اور صرف ایک ہی قانون نافذ کرنا چاہیئے کہ عشق اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔

ریاست پر ایک اور بڑا بوجھ عام آدمی کا بھی ہے، یہ عام آدمی گھر میں بیٹھتا ہی نہیں، ہر وقت گاڑیوں میں سوار ہو کر چکر لگاتا رہتا ہے، چنانچہ ریاست کے سر سے عام آدمی کا یہ بوجھ کم کرنے کے لئے بھی مسلسل کام ہو رہا ہے۔ شاید آپ جانتے ہوں گے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کی وارداتوں سے زیادہ ٹریفک حادثات میں لوگ مارے جاتے ہیں۔ ریاستی ادارے اس شعبے میں اتنی تیزی سے کام کر رہے ہیں کہ ایشیا میں ٹریفک حادثات کے سبب سب سے زیادہ ہلاکتیں پاکستان میں ہی ہوتی ہیں۔ اگر روڈ حادثات کے ساتھ جہازوں، ٹرینوں، کشتیوں، پلوں کے ٹوٹنے، آگ لگنے، ڈوبنے، عمارتوں کے گرنے، فیکٹریوں میں جلنے، معدنی کانوں میں دب کر مرنے والوں کو بھی شامل کیا جائے تو ہمارے ریاستی اداروں کی کارکردگی کا مقابلہ کوئی دوسری ریاست نہیں کرسکتی۔

آپ کو یہ خوشخبری بھی دی جاتی ہے کہ اس شعبے میں ہماری ریاست کے مزید ترقی کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں، چونکہ گاڑیوں میں ایمرجنسی دروازوں کا کوئی انتظام نہیں، نشئی لوگوں کے پاس ڈرائیونگ کے لائسنس ہیں، گاڑیوں کی رفتار کو چیک کرنا کسی کی ذمہ داری نہیں، گاڑیوں کا مکینیکل معائنہ ریاست کے دائرہ کار میں نہیں اور جتنے بھی لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں، ان کا خون کسی ادارے اور اس کے اہلکاروں کی گردن پر نہیں ہوتا، ہمیشہ مرنے والے یا زخمی ڈرائیور کو حادثے کا باعث قرار دیدیا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر گاڑی کی رفتار تیز تھی، ڈرائیور نشئی تھا یا گاڑی کا سلنڈر لیک ہو رہا تھا تو ریاستی ادارے کیا کر رہے تھے!؟ رفتار چیک کیوں نہیں کی گئی؟ نشئی کو لائسنس کس نے جاری کیا؟ گاڑی کا مکینکل چیک اپ کیوں نہیں کیا گیا!؟ ایمرجنسی دروازوں کے بغیر گاڑی کو کیوں چلنے دیا گیا!؟ جیسا کہ گذشتہ روز جہلم میں مسافر وین میں آگ بھڑکنے سے مسافر بری طرح جھلس گئے۔ بہرحال ان واقعات پر کسی ریاستی ادارے کو معتوب نہیں کیا جا سکتا، چونکہ یہ واقعات محض حادثات ہیں اور ایسے حادثات ریاست پر آبادی کا بوجھ کم کرنے کا باعث ہیں۔ لہذا اگر ہمیں ریاست میں رہنا ہے تو پھر ریاست کے بوجھ کو کم کرنے میں ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

ہم خوش قسمت قوم ہیں، ہمارے ریاستی ادارے دن رات ایک کرکے آبادی کے بوجھ کو کم کر رہے ہیں، یہ سلسلہ اندرونِ پاکستان سے لے کر ہماری سرحدوں تک جاری ہے، سرحدی آبادی پر ایک طرف تو افغانستان اور ہندوستان گولہ باری کرکے آبادی کم کرنے میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں اور دوسری طرف تفتان میں ہم خود لوگوں کو محبوس کرکے ملک و ملت کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو چند سال پہلے تفتان بارڈر پر دہشت گرد بھائیوں نے زائرین پر حملہ کیا تھا، جس میں بہت سارے لوگ شہید ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد تفتان میں کئی طرح کے کاروباری مراکز قائم ہوگئے۔ ایک بڑا کاروبار کانوائے کا شروع ہوگیا، جو سکیورٹی کے نام پر لوگوں سے بھتہ لیتا ہے، اس کے علاوہ سکیورٹی کے نام پر بدتمیز اور بد اخلاق سرکاری اہلکاروں کی تعداد بڑھ گئی۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج ظفر موج کا پیٹ بھرنا بھی زائرین کی ڈیوٹی میں شامل ہوگیا، جو اہلکار پاسپورٹ پر لگی ہوئی مہر چیک کرتا ہے، وہ بھی دو تین سو روپے فی نفر چائے کے لیتا ہے، اس کے علاوہ اشیائے خورد و نوش کو فروخت کرنے کے لئے تفتان ہاوس میں لوگوں کو زبردستی ٹھہرانا بھی سرکار کا معمول ہے۔ اب تک اس بارڈر پر کئی ہلاکتیں ہوچکی ہیں، کئی مرتبہ لاٹھی چارج ہوچکا ہے اور کئی مرتبہ مظاہرے بھی ہوئے ہیں، لیکن ریاست پر آبادی کا بوجھ کم کرنے کے لئے یہ گنی چنی ہلاکتیں اور اکا دکا مظاہرے کم ہیں، آپ مزید کسی بڑے سرپرائز کا انتظار کریں۔ اب آخر میں ہماری قارئین سے گزارش ہے کہ ہمیں ریاست سے اپنی محبت کا ثبوت دینا چاہیئے، جعلی دوائیاں، ظالم ڈاکٹر، پرانی گاڑیاں، نشئی ڈرائیور، مسنگ پرسنز، سکیورٹی بھتہ، کانوائے ٹارچر، تفتان میں زبردستی قیام اور سرکاری گارڈز کو چائے پانی یہ سب ریاست کے مفاد میں ہے، ہمیں کسی قسم کے احتجاج، شور شرابے اور واویلے کی ضرورت نہیں چونکہ ریاست کا مفاد ہی ہمارا مفاد ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …