جمعہ , 7 مئی 2021

بہتر تعلقات پاکستان اور افغانستان کیلئےسود مند ہوں گے، زلمے خلیل زاد

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان براہ راست بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر اقتصادی تعاون پورے خطے کو آگے لیکر جائیں گے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں زلمے خلیل زاد نے لکھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان اور صدر اشرف غنی کی بات چیت کو دیکھ کر خوشی ہوئی‘۔

امریکی سفارتکار سمجھتے ہیں کہ ’دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ معاشی منافع کو اہمیت دیں تو امن قائم کیا جاسکتا ہے، بالخصوص علاقائی روابط اور اتفاق رائے ممکنہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک جیسا وژن اصل میں خطے کو آگے بڑھا سکتا ہے‘۔

واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ دنوں ٹیلی فون پر بات کی تھی اور علاقائی تعلقات کو بڑھانے کے لیے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ حاصل کرنے پر زور دیا تھا۔تاہم کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اشرف غنی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی مزید کوششوں پر بات چیت کے لیے عید کے بعد اسلام آباد کا دورہ کرسکتے ہیں۔

ادھر امریکا کی جانب سے طویل عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی حمایت کی جارہی اور یہ دلائل دیے جارہے کہ اگر تعاون کریں تو دونوں پڑوسی دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں۔امریکا کی جانب سے پاکستان پر یہ بھی زور دیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اپنی حدود کے مزید لبرل استعمال کی اجازت دے، جس سے اسلام آباد کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تاہم امریکی نمائندہ خصوصی کا یہ بیان اس پیغام کو تقویت دیتا ہے اور ساتھ ہی افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد سے ملنے والی مدد کے لیے ان کی تعریف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ایک حالیہ بیان میں امریکا نمائندہ خصوصی نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ ان کے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان نے ان کی درخواست پر اہم طالبان رہنما ملا برادر کو رہا کیا تھا۔

اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے زلمے خلیل زاد نے وزیر اعظم عمران خان کے افغانستان پر موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس خطے کو مثبت طور پر تبدیل کرنے اور پاکستان کو اہم کردار دینے کی صلاحیت ہے۔

زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ ٹوئٹ میں امن کے اپیل کو دہراتے ہوئے لکھا کہ ’میری خواہش ہے یہ رمضان تمام افغانوں کے لیے امن و خوشحالی کا باعث بنے‘ کیونکہ افغان طویل عرصے سے جنگ کے تباہ کن اثرات کا شکار ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس سیزن میں تمام افغان درگزر کرنے، ایمان کی تجدید کرنے اور تشدد کے خاتمے اور امن کی بحالے کے عزم کا اظہار کریں گے‘۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …