پیر , 17 مئی 2021

اسرائیل جنگ بندی نہ کرتا تو تل ابیب کو تباہ کردیتے:اسلامی جہاد

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاراسرائیلی ریاست کے دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنانے کی مکمل تیاری کرچکے تھے مگر صہیونی ریاست غزہ میں جنگ بندی پرآمادہ ہوگئی۔اگر اسرائیل چند گھنٹے مزید تاخیرکرتا تو مجاھدین کا اگلا نشانہ تل ابیب تھا۔ ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں زیاد النخالہ نے کہا کہ غزہ کے میدان میں رواں ہفتے جو کچھ ہوا وہ صرف ایک مشق تھی۔ اصل جنگ اب شروع ہونے والی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ فلسطینی مجاھدین اور فلسطینی قوم کسی بڑی جنگ کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔

ایک سوال کے جواب میں زیاد النخالہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے دانستہ طورپر غزہ میں پرامن فلسطینی مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جس کے بعد ہم صہیونی فوج کے خلاف کارروائی پرمجبورہوئے۔ غزہ کے میدان میں‌حالیہ ایام میں ہونے والے دو طرفہ حملے صرف ایک مشق تھی۔ اصل جنگ اب شروع ہوگی۔ فلسطینی قوم جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمت کار صہیونی ریاست کی جارحیت کا کسی بھی وقت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اسلامی جہاد اور حماس نے قاہرہ میں ایک مشترکہ اجلاس میں صہیونی ریاست کے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کنٹرول روم سے اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

سمندری طوفان پاکستان کی جانب بڑھنے لگا، ٹھٹہ میں تیز ہوائیں چلنا شروع

کراچی: سمندری طوفان تاؤتے بھارت کے ساحلوں سے ٹکراتا ہوا پاکستان کی جانب بڑھنے لگا …