جمعہ , 19 اپریل 2024

سن بلاک اور سن اسکرین کے اجزا جلد کے ذریعے خون میں داخل ہورہے ہیں

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) سن اسکرین اور سن بلاک میں پائے جانے والے چار مختلف کیمیکل انسانی خون میں پائے گئے ہیں اور اس کے بعد ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔اسی بنا پر سرطان اور دیگر امراض کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ اب تک ان کیمیکل کے انسانوں پر اثرات واضح نہیں لیکن اس مقام پر لوگوں کو سن بلاک اور دھوپ روکنے والی دیگر کریموں کا استعمال ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سورج کی مضر شعاعوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی سمیت (ٹاکسی سِٹی) پر مزید زور دیا ہے۔

اس مطالعے میں 24 افراد کو چار گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر گروہ کو چار عدد مشہور سن اسکرین فارمولہ استعمال کرائے گئے جن میں ایک مشہورلوشن، ایک کریم اور دو مختلف اسپرے دئیے گئے۔ ہر گروپ نے چار روز تک، دن میں چار مرتبہ جسم کے 75 فیصد حصے پر سن اسکرین لگائے۔

اس کےبعد تمام شرکا کے خون کے ٹیسٹ کرائے گئے۔ ماہرین نے سن اسکرین میں موجود چار اہم اجزا ایووبینزون، آکسی بینزون، اوکٹو کرائلین، اور ایکیمسیول کے لیے خون کے ٹیسٹ وضع کیے۔ صرف ایک دن کے استعمال کے بعد ہی تمام شرکا کے خون میں چاروں اجزا پائے گئے جن کی اوسط مقدار0.5 نینوگرام فی ملی میٹر تھی۔

تاہم خون میں ان اجزا کی اتنی کم مقدار کسی مقررہ حد یا اس سے وابستہ خطرے کو ظاہر نہیں کرتی۔ اگر اس پیمانے سے بہت زیادہ مقدار ہو تب ہی ماہرین کے لیے کسی پریشانی کی وجہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سن اسکرین غیرمحفوظ ہیں۔

اس مطالعے پر تنقید کرتے ہوئے کینسر کونسل آسٹریلیا کے سائنسداں ٹیری سلے ون کہتے ہیں کہ مطالعے میں شریک تمام شرکا نے لوشن، کریم اور سن اسکرین کی بہت زیادہ مقدار استعمال کی تھی۔ ورنہ عام طور پراس کی ایک چوتھائی مقدار استعمال کی جاتی ہے۔

ایک اور ماہر نے کہا ہے کہ اگر اس خبر کے بعد لوگ سن اسکرین اور لوشن سے بیزار ہوجائیں تو یہ بہت برا ہوگا کیونکہ سن بلاک بھی بہت سے بیماریوں کو روکتےہیں جن میں خود جلد کا سرطان بھی شامل ہے۔ سورج کی روشنی میں موجود مضر بالائےبنفشی (الٹروائلٹ) شعاعیں جلد کے سرطان کی وجہ بنتی ہے اور سن بلاک انہیں روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ڈائری لکھنے سے ذہنی و مدافعتی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

لندن:کمپیوٹرائزڈ اور اسمارٹ موبائل فون کے دور میں اب اگرچہ ڈائریز لکھنے کا رجحان کم …