جمعہ , 7 مئی 2021

غزہ کے دیسی "فانوس” ذریعہ معاش بھی استقبال رمضان بھی!!!

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے عوام ایک طرف فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست کا شکار ہیں اور دوسری طرف وہ مسلسل تیرہ سال سے اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ معاشی پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ماہ صیام کے موقع پر غزہ کے عوام کی معاشی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ غزہ نے نوجوانوں کے پاس استقبال رمضان کے لیے فانوس خریدنے اور چراغاں‌ کرنے کی استطاعت نہیں۔

بچے اور بڑے اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں مگر غزہ میں کچھ نوجوانوں نے دیسی ساختہ فانوس تیار کر کے جہاں ایک طرف استقبال رمضان کا بھرپور اہتمام کیا ہے وہیں وہ ان فوانیس کو فروخت کر کے تھوڑے بہت پیسے بھی کما رہے ہیں۔

کم آمدنی کے باوجود خوشی کا حصول
غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ام خالد کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کی تنخواہ بہت محدود ہے۔ وہ رام اللہ حکومت کے ملازم ہیں اور فلسطینی اتھارٹی انہیں معقول تنخواہ نہیں دیتی۔ اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کی استقبال رمضان کی خوشی میں ان کے ساتھ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم نے ماہ صیام کے دوران گھروں کی زیب وآرائش اور سجاوٹ کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ فوانیس خریدے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ صیام کے موقع پر فوانیس کی خریداری ہمارے گھر کی ضروری چیزوں کا حصہ ہوتی ہے جن سے ہم بے نیاز نہیں رہتے۔

ام خالد کا کہنا ہے کہ میرے شوہر کی تن خواہ اتنی نہیں کہ ہم استقبال رمضان کے لیے کھل کر خرچ کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے بچوں کو کی خوشیاں اور مسرتیں عزیز ہیں۔اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق غزہ کے 80 فی صد باشندے عالمی برادری کی طرف سے فراہم کردہ امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 سے 60 فی صد تک کمی کر رکھی ہے۔ اس طرح فلسطینی اتھارٹی کی انتقامی سیاست سے 58 ہزار سرکاری ملازمین متاثر ہو رہے ہیں۔

ذریعہ معاش
ایک مقامی شہری النجار ابو ارقیق نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی نوجوانوں نے لکڑی سے فانوس تیار کر کے کم آمدن والے شہریوں‌ کے لیے استقبال رمضان کا انتظام کیا ہے۔ یہ فوانیس بازار میں دستیاب مہنگے فوانیس کی نسبت کم قیمت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ کےعوام کو درپیش معاشی مشکلات نے ان کے رمضان کی خوشیاں سلب کر لی ہیں۔ غزہ کے نوجوان دیسی فوانیس تیار کر کے انہیں فروخت کرتے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …