جمعرات , 13 مئی 2021

لاپتہ افراد کا مسئلہ ریاست کے ماتھے پر بدنما داغ

(رپورٹ: ایس اے زیدی)

دنیا بھر میں رائج قوانین کے مطابق اگر کسی ملک کا کوئی شہری کسی جرم میں ملوث پایا گیا ہو یا اس پر شبہ یا الزام ہو تو اس کو گرفت میں لیکر قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے، جہاں اس کے مخالفین کو ان الزامات کو جرم ثابت کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، وہیں اس ملزم کو بھی اپنے دفاع کا پورا پورا حق دیا جاتا ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق کسی بھی بڑے سے بڑے مجرم کو قانون کے کٹہرے میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلانے والی ریاست میں گذشتہ 15 سے 20 سالوں کے دوران ریاستی اداروں نے ہزاروں پاکستانی شہریوں کو جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کر دیا، جن میں بعض کی لاشیں برآمد ہوئیں، کئی شہریوں کو خاموشی سے مختلف ممالک کے حوالے کے حوالے کر دیا گیا تو کچھ شہری اگر رہا بھی ہوئے تو ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے زندہ لاش بن کر رہ گئے۔ اس وقت بھی کئی پاکستانی شہری لاپتہ ہیں۔ پہلے یہ سلسلہ بلوچستان میں شروع ہوا، جہاں بغاوت کے الزامات لگا کر کئی بلوچ نوجوانوں کو غائب کیا گیا، اسی طرح کراچی میں لسانیت کو فروغ دینے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کو غائب کیا گیا، پھر اس سلسلے کا رخ فرقہ وارانہ بنیاد پر موڑا گیا۔

شام پر عالمی دہشتگرد تنظیم داعش اور اس کے حامی ممالک کی جانب سے حملہ کے بعد پاکستان میں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا۔ ان لاپتہ افراد میں پڑھے لکھے اور ملک و قوم کا اثاثہ ثابت ہونے والے شہری بھی شامل تھے۔ یاد رہے کہ شام جنگ سے قبل بھی پاکستان میں مختلف مواقع پر شیعہ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا رہا ہے۔ ان لاپتہ افراد کے لواحقین کے صبر کا پیمانہ آخر کار لبریز ہوگیا اور انہوں نے دس روز قبل کراچی میں صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنا دے دیا، جو آج رمضان المبارک شروع ہو جانے کے باوجود جاری ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 10 روز گزر جانے کے باوجود ریاست مدینہ کی دعویدار جماعت کے سربراہ مملکت کو ان مظلوم شہریوں کی دادرسی کیلئے ٹائم تک نہیں ملا۔ شیعہ مسنگ پرسنز کمیٹی کے عنوان سے جنم لینے والی اس تحریک کے بانیان واقعاً لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے ملت کے اس اہم ترین، گھمبیر اور حساس مسئلہ کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ حل کے انتہائی قریب لا پہنچایا ہے۔ اس احتجاجی دھرنے کے اب ثمرات بھی آنا شروع ہوگئے اور اس تحریک کے نتیجے میں کچھ نوجوان اپنے گھروں کو واپس بھی پہنچ چکے ہیں۔

لاپتہ افراد کے مسئلہ کے حوالے سے معروف شیعہ عالم دین علامہ سید جواد نقوی کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کیخلاف پاکستان میں خصوصی طور پر منصوبہ بندی کی گئی، فعال شیعہ افراد کو باقاعدہ اہتمام کیساتھ لاپتہ کیا گیا ہے، یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا ہے کہ ہمارے حکمران دنیا کی تاریخ کے مجرم ترین گروہ اور خاندان آل سعود کے در پر گئے ہیں اور اس خاندان نے اعلان کر رکھا ہے کہ ہم شیعت کو کچلیں گے، کیونکہ یہ مہدویت کے قائل ہیں۔ اس خاندان نے 39 ممالک کی فوج بنائی، اس میں پاکستان کو بھی شامل کیا، اس سے پہلے بھی وہ یہاں لشکر بنا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے آل سعود نے کرائے کے لشکروں سے پاکستان میں تشیع کو قتل کرایا اور اب کرائے کے اداروں سے لوگوں کو اغواء کروا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی پیسے دیتا ہے تو کام بھی لیتا ہے، سو سال سے ان کی حکومت قائم ہے، تاہم آج تک یہ تشیع کو ختم نہیں کرسکے۔ ابھی بھی قطیف شیعہ ہے، دمام شیعہ ہے، مدینہ کا اکثر حصہ شیعہ ہے۔ پاکستان میں ہو یہ رہا ہے کہ جس دن ملا برادر اور ملا ضعیف کو چھوڑا جاتا ہے، اسی دن اہل تشیع کو اٹھا لیا جاتا ہے۔

دریں اثناء امت واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے لاپتہ افراد کے معاملہ پر سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں اس حوالے سے مزید ایک تشویشناک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایجنسیاں کروڑوں روپے لینے کے بعد لاپتہ افراد کو رہا کرتی ہیں، کئی کیسز میں ایسے دیکھنے کو ملا ہے، جب انہوں نے لوگوں کو پکڑا، انویسٹی گیٹ کرنے کے بعد جب بے جرم پایا تو لوگوں سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے لیکر انہیں چھوڑا گیا۔ پاکستان میں شیعہ ہونا مطلب سونے کی چڑیا ہے، یہاں اب یہ ایک کاروبار چل پڑا ہے۔ حکومت اور ادارے پیسے کم پڑنے پر دوسرے ممالک سے ان کے خون کا سودا کرتے ہیں، سرکاری خزانہ بھرنے کیلئے یا پھر انہیں اغواء کرتے ہیں ذاتی جیبیں بھرنے کیلئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن آپ کب تک لوگوں کو ڈرا دھمکا کر چپ کروا سکو گے۔؟ یہ اقبال و جناح کا پاکستان نہیں۔ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ جدوجہد کریں اور پاکستان کو ایسے خونی لٹیروں سے آزادی دلائیں۔ جس طرح ڈاکو لوگوں کو لوٹتا ہے، اسی طرح ہمارے ادارے وردی میں اپنے ہی شہریوں کو لوٹ رہے ہیں، جس خاندان کیساتھ ایسا ہوا ہو، وہ ہمیشہ ان اداروں کو ایک ڈاکو کی حیثیت سے ہی دیکھے گا۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے شروع ہونے والی تحریک کے بعد اداروں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ان لاپتہ افراد کو ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے، اب ان شہریوں کو دہشتگرد بنا کر پیش کیا جائے گا، جیسا کہ کراچی میں گذشتہ دنوں بعض ان شیعہ نوجوانوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، جو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ ڈی آئی جی ایسٹ زون عامر فاروقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوری 2019ء سے مذہبی کلنگ ہو رہی تھی، متعدد افراد قتل ہوچکے ہیں، ایک گروہ متحرک ہوا ہے، جو پڑوسی ملک سے ٹریننگ حاصل کر آیا، انہی لوگوں کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہے، کئی لوگ گرفتاری سے بچنے کے لئے خود سے روپوشی اختیار کئے ہوئے ہیں، لاپتہ افراد پر احتجاج کرنے والوں کو حقائق سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان نوجوانوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اداروں نے اغواء کیا تھا، جن میں بعض کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہیں، جبکہ پولیس ظاہر کرنا چاہ رہی ہے کہ یہ نوجوان روپوش تھے اور انہیں اب گرفتار کیا گیا ہے۔ یعنی اب ان لاپتہ افراد کو مجبوراً دہشتگرد بنا کر اور سنگین الزامات عائد کرکے منظر عام لایا جائے گا، تاکہ اس تاثر کو بھی ختم کیا جائے کہ ان افراد کو اداروں نے غیر قانونی طور پر اغواء کیا تھا۔

علامہ جواد نقوی اور علامہ امین شہیدی کے شیعہ افراد کو جبری طور لاپتہ کرنے اور اس کے پس منظر کے حوالے سے بیانات انتہائی اہمیت کے حامل اور اس خطرناک کھیل کے عزائم کو آشکار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت نے اس مسئلہ کو فوری طور پر حل نہ کیا تو یہ معاملہ وطن عزیز کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب پاکستان کو مختلف اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، لاپتہ افراد کا معاملہ بغیر کسی تاخیر کے حل کا طالب ہے۔ اس حوالے سے جے آئی ٹی یا جوڈیشل کمیشن بننا چاہیئے کہ ان افراد کو کس قانون کے تحت لاپتہ اور بعض کو قتل کیا گیا۔؟ یہ ریاست کی پالیسی تھی یا اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کارروائی۔؟ رہا ہونے والے افراد کے گھر والوں سے کس نے اور کیوں رقوم وصول کیں۔؟ کیا ان لوگوں کو کسی دوست کی شکل میں موجود دشمن ملک کی ایماء پر اغواء کیا گیا۔؟ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ فوری طور پر جاکر کراچی میں صدر مملکت کے گھر کے باہر بیٹھی ماوں، بہنوں اور بچوں کی فریاد سنیں اور پرامن احتجاج کرنے والوں پر ایف آئی آرز کاٹنے کی بجائے ان کا مسئلہ فوری حل کرکے ریاست کے ماتھے پر لگے اس بدنما داغ کو دھوئیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …