ہفتہ , 8 مئی 2021

ریاست یا سوتیلی ماں؟؟؟

(تحریر: عمار رضا)

انسانی حقوق کے عالمی ادارہ جات نے ایک انسان کی بنیادی ضروریات کی ایک لسٹ مرتب کی ہے، جس کے مطابق اگر ایک انسان زندہ ہے تو اسے معاشرے میں سروائیو (survive) کرنے کیلئے صاف پانی، خوراک، تحفظ، علاج اور رہنے کیلئے چھت درکار ہوتی ہے، دنیا میں حکومتیں یہ تمام بنیادی سہولیات عوام کو مہیا کرنے کی براہ راست ذمہ دار ہوتیں ہیں، اگر ریاست اپنی یہ بنیادی ذمہ داری ادا نہ کرسکے تو ایک مہذب معاشرے میں عوام مہذب طریقے سے اپنے حکمرانوں سے سوال پوچھنے کا قانونی و جمہوری حق بھی رکھتے ہیں اور ریاست ایک ماں کی طرح عوامی تحفظات کو ختم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے، مگر میں یہ کیسے بھول گیا کہ۔۔۔۔ یہ پاکستان ہے اور مذکورہ بالا مہذب رسم و رواج کا ہمارے ہاں وجود تو ہے مگر ان کو کچھ طاقتیں خاطر میں نہیں لاتیں۔ یہ فرانس نہیں جہاں ییلو جیکٹ موومنٹ کے تحت ہزاروں لوگوں نے پرتشدد مظاہرے کیے، لیکن ریاست نے ان کو غدار یا کسی کا ایجنٹ نہیں کہا، یہ برطانیہ نہیں جہاں بریگزیٹ کے معاملے پر لاکھوں لوگوں نے پوری ریاست کو مفلوج کرکے رکھ دیا، مگر ریاست نے ناصرف ایک ماں کی طرح انکو ڈیل کیا بلکہ ان کو کسی دوسرے ملک کا ایجنٹ بھی نہیں کہا، یہ نیوزی لینڈ بھی نہیں، جہاں ایک خاتون وزیراعظم چند گھنٹوں میں متاثرہ لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے پہنچ جائے۔

یہ ریاست مدینہ والا پاکستان ہے، جہاں کبھی نقطہ انجماد والی کوئٹہ کی سردی میں ایک ملت سو، سو جنازے لے کر پُرامن احتجاج میں بیٹھی رہے اور 5 دن تک ریاست لاتعلق رہے اور کبھی 42 ڈگری کی گرم دھوپ میں قوم کی روزہ دار مائیں اور بیٹیاں کھلے آسمان تلے پچھلے دس دن سے بیٹھی ہوں اور ان کی سننے والا کوئی نہ ہو۔ الٹا ریاستی اداروں کے اہلکار لواحقین کی فیملیز کو فون کرکے دھمکانے کی کوشش کریں اور اپنا احتجاج ختم کرنے پر دباو ڈالیں۔ آج دس دن ہوچکے ہیں کہ کراچی میں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی واپسی کیلئے پرامن طریقہ سے احتجاجی کیمپ بنا کر صدر پاکستان عارف علوی کے گھر کے باہر مطالبات لیے بیٹھے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین خواتین اور بچے دھرنا میں نہ تو روٹی، کپڑا اور مکان کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مراعات کی، بلکہ بنیادی حقوق تو کجا اس دھرنا میں بیٹھی خواتین فقط اپنے پیاروں کے جینے کا حق مانگ رہی ہیں۔

ایک ہفتہ کے بعد صدر پاکستان نے ایک وفد مذاکرات کیلئے بھیجا، جو دراصل مظاہرین کے مسائل کو سننے اور حل کرنے کے بجائے کسی طرح سے دھرنا ختم کروانے کی کوشش میں تھا۔ طویل مذاکرات میں ناکامی کے بعد حکومتی وفد واپس لوٹ گیا اور سکیورٹی اداروں نے دھرنا کی عوامی حمایت کو متاثر کرنے کیلئے مختلف جھوٹے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ڈی آئی جی کراچی نے پریس کانفرنس کرکے 19 جوانوں کو دہشتگرد قرار دے دیا ہے اور پشت پناہی کا الزام برادر اسلامی ملک پر لگاتے ہوئے کہا کہ دھرنا دینے والے دہشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں، نتیجتاً بڑے ٹی وی چینلز پر ایک طرف ملت تشیع کا میڈیا ٹرائل شروع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف شرکاء دھرنا پر جھوٹی بے بنیاد دفعات کیساتھ ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے اور ساتھ طاقت کا استعمال کرکے کچھ سرکردہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 19 جوان وہ ہیں، جن کو خفیہ اداروں نے گذشتہ 2 ماہ میں اٹھایا تھا اور دھرنے میں موجود لواحقین میں اکثریت ان کی ہے، جن کے بچے گذشتہ 2 سال یا اس سے بھی زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں۔

سید رحمان علی شاہ، انجینئر سید ممتاز رضوی، جون عباس نقوی، سید شیراز حیدر، حیدر علی رضوی، سید علی اوسط، ظہیر الدین بابر، ڈاکٹر احسن، حسنین کاظمی، حسن عمران، مرید عباس اور درجنوں اعلیٰ تعلیم یافتہ جوان جو عرصہ دو یا تین سال سے لاپتہ ہیں، جس سے پولیس کا جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے۔ ان میں ایک جوان ایسا ہے، جس کی والدہ کاانتقال ہوا تو اس کے دوست، رشتہ دار اور اہل محلہ والدہ کی موت کی تعزیت کیلئے گھر جمع تھے۔ والدہ کے جنازے کے دوسرے روز گھر میں ختم قل کی محفل جاری تھی، اس وقت خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دن دھاڑے اس جوان کو سب کے سامنے اغواء کیا اور ساتھ لے گئے۔ آج دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، کچھ پتہ نہیں اور کوئی ادارہ ماننے کو تیار نہیں۔ الٹا اس کی فیملی اور بچے جس مکان میں رہتے ہیں، اس کے مالک مکان پر دباو ڈال رہے ہیں ان کو گھر سے نکالو۔ اس طرح دیگر جوانوں کے واقعات بھی اس سے کم نہیں، جو توجہ طلب ہیں۔

بلوچستان میں جب علیحدگی کی تحریک شروع ہوئی تو بلوچ افراد لاپتہ ہونا شروع ہوئے، پھر سندھ میں جقسم نے سر اٹھایا تو اندرون سندھ گمشدگیاں شروع ہوئیں، پھر اب پشتون تحفظ موومنٹ کے لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، بقول خفیہ اداروں کے یہ لوگ پاکستان کو توڑنے کیلئے علیحدگی کی تحریکوں کا حصہ ہیں، اگر بالفرض آپکا کا موقف درست بھی مان لیا جائے، پھر بھی آپ کی توجیح غلط ہے، پاکستان توڑنے کی کوشش کرنیوالے بھی مجرم ہیں اور وہ بھی غلط ہیں، جو یہ لوگوں کو غیر قانونی اغواء کر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ملت تشیع جو بانی پاکستان کی اولادیں ہیں، ان کو کیوں علیحدگی پسندوں سے ملایا جا رہا ہے؟؟؟ اس سوال کا جواب دینے سے شاید ریاست قاصر ہو، مگر ہم جانتے ہیں یہ سب کیوں ہو رہا ہے، مگر ہم جانتے ہیں یہ آل سعود کی خوشنودی کیلئے ریاستی ادارے اس وقت ملت تشیع سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھتے ہوئے یہ سب کر رہے ہیں، ریاستی اداروں کا غیر منصفانہ رویہ پوری دنیا میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے۔

اس ملک میں خاص مکتب فکر کے لوگوں کو پروان چڑھایا گیا، جس سے پاکستان میں تکفیریت اور شدت پسندی کا آغاز ہوا، جب ان سٹیٹ سپانسر اسلامی ریڈیکلز کی رائے سے کسی نے اختلاف کیا تو جواب میں گستاخ اور کفر کے فتوے دیئے گئے، بالکل اسی رویہ کی یہ مماثلت ریاستی اداروں میں بھی پائی جاتی ہے، جب ان کے سامنے بھی قانونی سوال اٹھاو، اپنے حقوق کی بات کرو تو سکیورٹی ادارے بھی ان شدت پسند مذہبی جماعتوں کی طرح غدار اور کسی دوسرے ملک کا ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں، جس سے عوام اپنے اصل مطالبات سے ہٹ کر اپنی وضاحتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ ہم ریاست مخالف نہیں، یہ ایک بے رحم ٹیکنیک ہے، جو بدقسمتی سے عوام کے ساتھ بے دردی سے استعمال کی جا رہی ہے۔ ریاست اگر ماں ہے تو کیا ماں کا یہ رویہ اور روش ہوتی ہے؟ اپنے شہریوں کیساتھ کہ جو اپنے آئینی حقوق طلب کرے، اسے غدار اور دوسرے ملک کا ایجنٹ کہہ کر چپ کروا دیا جائے؟؟؟

کراچی میں جاری دھرنا انوکھا احتجاج ہے، جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین پاکستان کے جھنڈے لیے بیٹھے ہیں اور ہر روز تقاریر سے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے، وطن سے محبت کی یہ مثال کسی اور قوم قبیلہ میں ہم نے آج تک نہیں دیکھی، مگر شاید ریاست کی توجہ اس مہذب رویہ کی طرف نہیں ہو رہی، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ریاست فقط اس لہجے میں کی گئی بات پر توجہ دیتی ہے، جس پر ریاست کو اعتراض ہوتا ہے۔ جس کا ذکر جنرل آصف غفور صاحب اپنی پریس کانفرنس میں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب وزیرستان جلسہ میں کرچکے ہیں کہ پی ٹی ایم کے مطالبات تو درست ہیں، جو ہم حل کر رہے ہیں مگر ان کا لہجہ ٹھیک نہیں، یعنی حکام بالا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے لہجہ پی ٹی ایم جیسا اپنانے سے ریاست توجہ بھی دیتی ہے اور مسائل کے حل کیلئے یقین دہانی بھی کرواتی ہے۔

اگر یہی راستہ جو سکیورٹی ادارے عوام کو دکھا رہے ہیں تو معذرت، ملت جعفریہ یہ بالکل نہیں چاہتی، ملت جعفریہ لاپتہ شیعہ جوانوں کے والدین ریاست سے فقط ایک ہی مطالبہ پر عمل چاہتی ہے کہ سکیورٹی فورسز ملکی قوانین پر عمل کریں اور قانون و آئین کے مطابق اس حساس معاملے کو حل کریں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے یا رہا کر دیا جائے بلکہ مطالبہ پاکستان کے قانون پر عملداری کا ہے، جس کے مطابق اگر کسی جوان نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے پاکستانی عدالتوں میں پیش کیا جائے، اگر مجرم ثابت ہوں تو سزا دی جائے، ملت تشیع ریاست کیساتھ کھڑی ہوگی، مگر یہ کیا ناانصافی اور جنگل راج ہے کہ رات کو دہشتگردوں کی طرح نقاب پہنے سکیورٹی فورسز شہریوں کے گھروں میں داخل ہوں، چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کریں اور لوگوں کو اغواء کرکے لے جائیں اور 2، 2 سال تک پتہ بھی نہ چلے!

اگر دنیا کا کوئی قانون بھی اس عمل کو درست قرار دیتا ہے تو بھی ہم مان لیتے ہیں، مگر بد سے بدترین نظام حکومت میں بھی یہ عمل قابل قبول نہیں، اس لیے سکیورٹی اداروں کے فیصلہ ساز افراد کو چاہیئے کہ آئین پاکستان پر عملداری کو یقینی بنائیں، ورنہ جس رفتار سے آپ مختلف طبقات اور لوگوں کو ایجنٹ قرار دیتے جا رہے ہیں، جلد ہی فقط آپ اور آپکا ایک ادارہ ہی محب وطن رہ جائے گا۔ لہذا اس بد ترین المیہ کو ختم کریں، کیونکہ اس المیہ کو لیکر ملت تشیع کے اندر تشویشناک خدشات پائے جاتے ہیں، جن میں سے بعض کا اظہار قومی جماعت کے سربراہ حجت السلام علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی شرکائے دھرنا سے گفتگو میں بھی کیا ہے کہ جیسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، ان کے مطابق خدشہ ہے کہ ہمارے جوانوں کی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ نہ شروع ہو جائے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …