جمعہ , 14 مئی 2021

‘دفاع کا محکمہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کر رہا، کیا عدالت کو بند کردیں؟’

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آپریشن نہ کرنے سے متعلق بیان دینے پر وزیر بلدیات سعید غنی اور مئیر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن اور شہر کو اصل نقشے میں بحالی سے متعلق کیس کی سمات ہوئی۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع، میئر کراچی وسیم اختر، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) افتخار قائمخانی، ایس ایس پی سہائی عزیز اور ایس بی سی اے، کے ایم سی، واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں کے نمائندے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے رہائشی علاقوں سے کمرشل سرگرمیوں کا خاتمہ کرکے شہر کو اصل ماسٹر پلان کے تحت بحالی کا حکم دے رکھا ہے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے مارکی اور کنوینشن ہال سمیت دفاعی مقاصد کے لیے مختص زمین پر کمرشل سرگرمیوں سے روک رکھا ہے۔

وزیر بلدیات اور میئر کراچی کے بیانات پر عدالت کا اظہار برہمی
دوران سماعت کراچی میں تجاوزات اور ملٹری لینڈ پر کمرشل سرگرمیوں کا معاملہ سامنے آیا تو سیکریٹری دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی ، جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کردیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ رپورٹ غیر اطمینان بخش اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صرف ایک نقطے پر عمل نہیں کیا۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ مجھے سیکریٹری دفاع بتائیں، آرڈر پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق معاملے زیر غور آیا اس موقع پر تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور مئیر کراچی پر برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کہاں ہیں وہ بلدیاتی وزیر اور میئر کراچی جو کہتے پھر رہے ہیں ہم ایک بھی عمارت نہیں گرائیں گے، کیا انہوں نے عدالت سے جنگ لڑنی ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے سب کو سن لیں پھر دیکھتے ہیں ان کو کہاں بھیجنا ہے، پورے شہر میں لینڈ مافیا منہ چڑھا رہا ہے اور یہ ایسی باتیں کررہے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

دفاع کا محکمہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کر رہا، جسٹس گلزار احمد
بعد ازاں عدالت نے کنٹومنٹ بورڈ و دیگر کی نظرثانی درخواستیں مسترد کردی اور حکم دیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بات ایک نقطے پر عمل درآمد کی نہیں، پورے آرڈر پر ہی عمل نہیں ہوا، دفاعدفاع کا محکمہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کر رہا، کیا سپریم کورٹ کو بند کردیں؟جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا کیا کام ہے، بند کر دیا جائے؟عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں عدالتی احکامات پر عمل کیا گیا ہے، یہ جو اتنا بڑا پی اے ایف میں شادی ہال چل رہا ہے، کسی کو نظر کیوں نہیں آیا؟

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پہلے آپ لوگ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کریں، عام آدمی پوچھتا ہے کہ ہماری تجاوزات ہٹانے سے قبل کنٹومنٹ سے ہٹوائی جائیں۔انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ حکومت چاہے تو 5 منٹ میں سب بلڈوزر پہنچ جائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو کیا اختیار ہے کہ سرکاری زمین الاٹ کرے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، ہمیں پتہ نہیں، نہ ہی اس کا حساب کتاب ہے۔عدالت نے سیکریٹری دفاع کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کا ایک مرتبہ پھر حکم دے دیا۔

کیا پتہ میں بھی شہید ہو جاؤں یا مارا جاؤں، جسٹس گلزار احمد
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ‘کراچی شہر میں سب پارک اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرکے شہدوں کے نام کردئیے گئے، ہم شہیدوں میں نمبر ون ہیں کیا پتہ میں بھی شہید ہو جاؤں یا مارا جاؤں’۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہیدوں کا رتبہ بڑا ہے اس کے لیے بڑی شرائط ہیں، جس پر جسٹس گلزار نے ان سے استفسار کی کہ آپ کا مطلب ہے میں شہید نہیں بن پاؤں گا؟ ‘ہم تو پیدا ہی شہید ہونے کے لیے ہوئے ہیں’۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ آپ لولی پاپ بنا کر دے رہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں یہ لولی پاپ نہیں ہے عمل درآمد رپورٹ ہے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں سرکاری زمین ملٹری لینڈ نے نجی پارٹی کو دے دی، آپ کو زمین کی ضرورت نہیں ہے تو وفاق کو واپس کردیں۔

اس موقع پر رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا، جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ہم آج تاریخ رقم کرلیتے ہیں، یہ 9 ایکڑ سرکاری زمین ملٹری لینڈ نے پرائیوٹ پارٹی کو کیوں اور کس نے دی؟ اس پر کس کے دستخط ہیں ؟اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ریٹائرڈ کرنل کے دستخط ہیں، ریٹائرڈ فوجیوں کو منصوبے کے لیے دوبارہ ملازمت پر رکھا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا ڈی جی ایس بی سی اے پر اظہار برہمی
جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی ایس بی سی اے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ آپ عدالت سے جیل جائیں گے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ہم نے حکم دیا تھا کہ کراچی سے غیر قانونی تجاویزات ختم کروائیں اس کا کیا ہوا؟ کارروائی کہا تک پہنچی؟ بار بی کیو ٹو نائٹ کے سامنے بنی 2 غیر قانونی عمارتوں کا کیا ہوا؟

ڈی جی ایس بی سی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس بلڈنگ کے خلاف نیب کی انکوئری چل رہی ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا نیب؟ کون نیب؟ کیا نیب سپریم کورٹ سے اوپر ہے؟عدالت نے حکم دیا کہ غیر قانونی تجاویزات کو ختم کریں یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اس پر عمل کریں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کالونی اور دہلی کالونی میں 8، 8 منزلہ عمارتیں بنائی جاتی ہے مگر وہاں نہ پانی ہوتا ہے نہ ہی لفٹ، زینب مارکیٹ سمیت پورے صدر میں غیر قانونی پارگنگ بنی ہوئی ہیں، جس پر ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ صدر میں اب کارروائی کی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کوئی کارروائی نہیں کی، میں روز صدر جاتا ہوں دیکھتا ہو کہ صدر میں غیر قانونی پارکنگ موجود ہے، آپ کب کارروائی کریں گے؟ کب نیند سے اٹھے گے؟سپریم کورٹ نے ایس بی سی اے کو شہر بھر سے غیر قانونی تجاویزات کے فوری خاتمے کی ہدایت کردی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے 22 جنوری کو آرڈر پاس کیا تھا، عمل درآمد کے لیے مزید مہلت کیوں دی جائے؟اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمل درآمد کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا اس کے لیے وقت درکار ہے، جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ چپ رہیں اور سیکریٹری دفاع سے نمٹنے دیں۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع سے استفسار کیا کہ آپ کو کیوں عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے وقت چاہیے، جس پر سیکریٹری دفاع ریٹائرڈ جنرل اکرام نے عدالت کو بتایا کہ پچھلے آرڈر کے صرف 2 نکات ہیں جس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کچھ پتہ نہیں کیونکہ آپ اسلام آباد میں ہوتے ہیں، آپ کو کیا پتہ کیونکہ آپ ‘کمفرٹ زون’ میں رہتے ہیں جبکہ یہاں ساری ریاست کی زمین پرائیوٹ لوگوں کے پاس ہے۔ارشد طیب علی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ دو تلوار کے ساتھ کمرشل مال بنائے جارہے ہیں، جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ کہاں پر ہے، وکیل نے بتایا کہ یہ اراضی اوشین مال کے قریب ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ اوشین مال بھی غلط بنا ہوا ہے، اوشین مال سے پہلے رہائشی علاقوں کو گرا کر ہسپتال بنایا گیا اور بعد ازاں ہسپتال کے بعد اوشین مال بنادیا گیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کی 70 فیصد اراضی پر غیر قانونی تعمیرات ہیں، اس کیس کو ہم کل دیکھیں گے۔جس کے بعد عدالت نے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق درخواستوں پر سماعت آئندہ سیشن تک ملتوی کردی۔

یونیورسٹی روڈ کی کھدائی کا نوٹس
بعد ازا سپریم کورٹ نے یونیورسٹی روڈ کی کھدائی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہاں ایک سال پہلے کارپٹنگ ہوئی تھی، دوبارہ کیوں کھدائی کی گئی، آپ لوگوں کا مسئلہ کیا ہے؟ سڑکیں توڑنے سے لاکھوں شہری متاثر ہورہے ہیں۔اس موقع پر میونسپل سروسز کے وکیل نے بتایا کہ کراچی الیکٹرک (کے ای) کی زیر زمین کیبل بچھائی جارہی ہے، جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ پہلے کے الیکڑک کو کیوں خیال نہیں آیا۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الہ دین پارک کے ساتھ پلازہ کس کا ہے اور کس کی زمین پر بن رہا ہے؟ کتنے پلازے بن رہے ہیں اور بنتے ہی جارہے ہیں، الہ دین پارک کا کمرشل استعمال کیا جارہا ہے، اس کے پاس سے گزریں تو کراہیت آتی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈرائیو ان سینما ختم کردیا گیا آپ نے نہیں روکا، اس جگہ پر اتنا بڑا پلازہ بن گا کہ اب سانس لینا بھی مشکل ہے، مئیر آگے آجائیں۔

میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ جوہر میں مال میں آگ لگی اور رہائشی علاقہ ہونے سے مشکلات ہوئیں، مجھے بھی ایسی مشکلات کا سامنا ہے۔جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اسی لیے آپ نے اپنا سیاسی جنازہ نکالا، ملیر سڑک کو آپ نے کیا بنا دیا، اس کا کیا کیا؟ آپ نے پورا شہر بیچ دیا کتنا پیسہ چاہیے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ دبئی اور لندن میں پراپرٹی بنالی، نہ وہاں رہ سکتے ہو، نہ کھا سکتے ہو، نہ وہاں کا موسم یہاں لاسکتے ہیں، آپ نے طارق روڈ دیکھا، سارا کچرا وہاں ڈمپ ہورہا ہے؟جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کسی پلازے والے نے پارکنگ ایریا نہیں بنایا، شہر سے باہر نکلنے میں 3 گھنٹے لگتے ہیں، کراچی میگاسٹی کے معیار پر پورا نہیں اترتا، سڑکوں کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ 1950 سے اب تک کے تمام ماسٹر پلان پیش کیے جائیں، جس پر وسیم اختر نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی ماسٹر پلان نہیں جبکہ ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ ان کے پاس ماسٹر پلان ہے۔عدالت نے تمام ماسٹر پلان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ یہ بھی بتائیں کس ماسٹر پلان میں کس کی ہدایت پر کب تبدیلی کی گئی اور یہ بھی بتائیں کس رہائشی عمارت کو کب اور کس کے کہنے پر کمرشل کیا گیا؟

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کو دیکھ کہ رونہ آتا ہے کہ اس شہر کا کیا بنے گا، لگتا ہے جب لوگوں کی برداشت سے باہر ہوگا تو بہت بڑا فساد ہوگا، شہر میں داخل ہوتیں ہے تو فلک ناز پلازہ پر نظر پڑتی ہے جو سرکاری زمین پر قائم ہے۔

عدالت کا پی آئی اے حکام پر اظہار برہمی
سپریم کورٹ نے تجاوزات کے خلاف آپریشن نہ کرنے پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) حکام پر برہمی کا اظہار کیا، جس پر پی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ شادی حال گرائیں نہیں لیکن نوٹس بھیج دیئے ہیں۔جس پر عدالت نے حکم دیا کہ آج ہی پی آئی اے زمین سے غیر قانونی شادی ہال اور دیگر تجاویزات ختم کریں اور ساتھ ہی ریمارکس دیئے کہ آپ سے جہاز چل نہیں پاتے، نکلے ہے شادی ہال بنادیں؟

سپریم کورٹ کے احکامات پر سعید غنی کا رد عمل
بعد ازاں کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں نے اس وقت بھی گزارش کی تھی کہ ایک مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ ہم نے دکانیں ٹوٹتے ہوئے دیکھیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے، ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو اپنا ذریعہ معاش دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان افراد کو ایسی کوئی مدد نہیں کرسکے کہ وہ اپنا روزگار شروع کرسکیں اور اپنے بچوں کو پال سکیں۔

سعید غنی نے کہا کہ اگر ہم متاثرہ لوگوں کی تعداد بڑھاتے جائیں گے تو ان کے حالات بہتر کرنے میں ہمیں مزید وقت لگے گا، عدالت کی نیک نیتی پر ہمیں کوئی شبہ نہیں، محترم جج چاہتے ہیں کہ گزشتہ دہائیوں میں کراچی کا چہرہ مسخ ہوا وہ درست ہوجائے، اس پر مجھے کوئی اختلاف نہیں میں سمجھتا ہوں وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن اس می کئی برس لگیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں کہا جائے کہ اس کام کو 15 دن یا مہینے میں کردیں ایسا ممکن نہیں ہے، ہم اس کام کو کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں وقت دیا جائے کہ ہم مختلف ماہرین سے تعاون کریں اور آہستہ آہستہ یہ کام کریں تاکہ جو لوگ متاثر ہورہے ہوں ان کو ہم کسی طرح سے منتقل کرتے جائیں اور عدالت کے حکم پر عملدرآمد بھی کرتے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ شہر بدلتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شاید عدالت کی نیت ہے کہ تجاوزات سے کراچی کی جو خوبصورتی متاثر ہوئی ہے اسے ٹھیک ہونا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …