جمعرات , 13 مئی 2021

ایٹمی معاہدہ،ٹرمپ پر امریکی اور یورپی سیاستدانوں کی نکتہ چینی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)جوابی اقدام کے طور پر ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد کی سطح میں کمی کے اِعلان کے بعد یورپ اور امریکہ میں سیاستدانوں، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور حکومتوں نے ایک بار پھر ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکی اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ کے روز اس اعلان کے بعد کہ تہران ایٹمی معاہدے میں رضاکارانہ طور پر قبول کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد روک رہا ہے، امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پلوسی نے بھی ردعمل ظاہرکیا ہے اور کہا کہ ایران کا تازہ اقدام اتنہائی سنجیدہ ہے۔

سینیٹر ِٹم کین نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے لیے بہت کچھ کیا ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے معمول کے مشن کو غلط طور پر ایران کے لیے انتباہ بنا کر پیش کرنا ہے۔

ایک اور امریکی سینیٹر ِکرس ُمرفی نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو ایران کے خلاف کشیدگی میں اضافے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی اسٹریٹجی محض کشیدگی میں اضافے پر استوار ہے۔

سن دو ہزار سولہ کے انتخابات میں ٹرمپ کے ڈیموکریٹ حریف ہلیری کلنٹن نے بھی امریکی صدر کی پالیسیوں کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی ہماری حکومت معاہدوں پر یقین نہیں رکھتی اور ایرانیوں نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اگر امریکی، عالمی معاہدوں کی پابندی نہیں کریں گے تو ایران بھی ان معاہدوں کی پابندی نہیں کرے گا۔

لندن، پیرس، برسلز، برلن، روم، میڈرڈ اور پراگ میں قائم انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹس سمیت دنیا کے انیس تھنک ٹینک اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں امریکی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے اور ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نیز امریکہ کو اس معاہدے میں واپس لائیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، نئی پابندیاں عائد کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ ٹرمپ کے جاری کردہ حکم نامے میں ایران کے دھات اور کان کنی کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نئی امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کی لوہے، فولاد، المونیم اور تابنے کی برآمدات پر روک لگانا ہے۔ یہ پابندیاں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے اخراج کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر لگائی گئی ہیں۔

اس سے پہلے ایران کے صدر داکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی اور واشنگٹن کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی پامالی کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہو گیا ہے لہذا ہم نے جامع ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ فریقوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ آج کے بعد سے ایران نہ تو فاضل افزودہ یورینیم فروخت کرے گا اور نہ ہی بھاری پانی۔

صدر ایران نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایٹمی معاہدے کے رکن ممالک کے پاس مذاکرات کے لیے ساٹھ روز کا وقت ہے۔ اگر اس عرصے میں پانچ ملکوں کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز ہوئے اور تیل اور مالیاتی سیکٹر سمیت ایران کے اہم ترین مفادات پورے کیے گئے تو ہم پہلے والی صورتحال پر واپس چلے جائیں گے بصورت دیگر تہران دو دوسرے اقدامات پر عملدرآمد شروع کر دے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …