جمعہ , 14 مئی 2021

آبنائے ہرمز کی جانب بحری بیڑہ بھیجنے کی امریکی دھمکیاں

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی ایشیا میں موجودہ امریکا کی دہشت گرد فوج کے ایک کمانڈر نے ایران کی جانب سے خطرے کا دعوی کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑہ آبنائے ہرمز کی جانب روانہ کرنے کی بات کہی ہے۔دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ نے ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کی تکرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔

مغربی ایشیا میں تعینات دہشت گرد امریکی فوج کے ایک کمانڈر جیمز مالوی نے اپنے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کی فوجیں آبنائے ہرمز سے گذریں گی اور امریکا کے لئے مغربی ایشیا میں کہیں بھی بحری بیڑہ بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

اس سے پہلے امریکا کی قومی سلامتی کے امور کے مشیر جان بولٹن نے بھی دعوی کیا تھا کہ امریکی بحری بیڑہ اَبْراہم لِنکن ایران کے سلسلے میں خلیج فارس کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن نے خلیج فارس میں اپنے مفادات کے دفاع کے لئے بی باون طیاروں کو بھی قطر کے العُدید ایئر بیس کے لئے روانہ کردیا ہے۔

اس درمیان امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے ایران کے تازہ فیصلے کے ردعمل میں ایران پر خطرناک اقدامات انجام دینے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نےساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جیسا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کی ایرانی حکام سے ملاقات ہوگی اور دونوں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچیں گے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تختِ روانچی نے امریکا کے این بی سی ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اس پر ایران کا کیا ردعمل ہوگا کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو سب سے پہلے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے مذاکرات کی میز کیوں ترک کی۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کی باتیں امریکی حکام ایک ایسے وقت کر رہے ہیں جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کی غیر قانونی علیحدگی کو ایک سال پورا ہونے کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ ایران ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے دو وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے ایک سال بعد بھی یورپ نے ابھی تک ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے اس لئے ایران ایٹمی معاہدے سے متعلق دو وعدوں پر اپنا عملدرآمد ساٹھ روز کے لئے معطل کر رہا ہے تاکہ اس عرصے میں یورپ اپنے وعدوں کی تکمیل کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …