جمعرات , 13 مئی 2021

ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کی پیش کش مسترد کردی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی مشروط پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور متوقع حملوں کے امریکی الزامات کو بھی مسترد کردیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ نے تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے کہا کہ پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جیوانی کا کہنا تھا کہ ‘امریکیوں سےمذاکرات نہیں ہوں گے اور امریکی ہمارے خلاف فوجی کارروائی کی ہمت نہیں کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری قوم امریکا کو ناقابل اعتبار سمجھتی ہے’۔

ایرانی عوام نے بھی امریکا کے حوالے سے حکومتی فیصلے کی تائید کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر جلوس نکالے اور معاہدے میں شامل ممالک کی جانب سے امریکی پابندیوں سے تحفظ کے لیے کوششیں نہ کرنے کی صورت میں مزید اقدامات اٹھانے کی دھمکی دی۔ایران کے سرکاری ٹی وی میں نشر ہونے والی رپورٹ میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد کو مظاہرے میں شریک دکھایا گیا اور کہا گیا کہ ملک بھر میں اسی طرح کے مظاہرے ہورہے ہیں۔مظاہرین نے ‘امریکا مردہ باد’ کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ ‘امریکا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا’۔

ٹرمپ کے بیان کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ایران کے امریکا سمیت دیگر 6 ممالک سے معاہدے کے فریم ورک کے اندر مذاکرات جاری ہیں۔امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے اچانک مذاکرات کی ٹیبل چھوڑنے کا فیصلہ کیا اس لیے اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے’۔انہوں نے ایرانی دھمکیوں کے حوالے سے امریکی الزامات کو جعلی انٹیلی جنس قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ ‘انہوں نے وہی لوگوں کو پیش کیا جنہوں نے امریکا کی عراق میں مداخلت کے حوالے سے اسی طرح کا کردار ادا کیا تھا’۔

‘امریکی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کیا جاسکتا ہے’
دوسری جانب ایران کے معروف عالم آیت اللہ یوسف طباطبائی نجد نے خلیج فارس میں امریکی ایئر کرافٹ اور بحری بیڑا منتقل کیے جانے کے حوالے سے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ امریکی نیوی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کیا جا سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو دھمکاتے ہوئے ابراہم لنکن ایئرکرافٹ کیریئر کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا جو گزشتہ روز مصر کی نہر سویز سے گزرا تھا۔آیت اللہ یوس طباطبائی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘ان کی اربوں ڈالر مالیت کی بیڑے کو ایک میزائل سے تباہ کیا جاسکتا ہے’۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ایرانی قیادت سے بات چیت کے لیے آمادہ ہیں لیکن جو کچھ میں ایران سے چاہتا ہوں اس کے لیے مذاکرات میں تہران پہل کرے اور اگر ایرانی حکام ایسا کرتے ہیں تو پھر ہم ان سے بات چیت کے لیے تیارہیں‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ برس ایران کے ساتھ 2015 میں ہوئے جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔بعد ازاں گزشتہ ماہ ایران پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے علاوہ اسٹیل اور کان کنی کی صنعت پر بھی پابندی عائد کردی تھی اور دیگر ممالک کو بھی تنبیہ کردی تھی کہ اگرایران سے لوہا، اسٹیل، المونیم اور تانبا خریدنے یا تجارت کی گئی تو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی فیصلوں کے بعد ایران نے بھی 2015 کے جوہری معاہدوں سےجزوی دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکا ان پابندیوں سے باز رکھے ورنہ مزید سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان پابندیون کے اس تبادلے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور امریکی فضائیہ کی جانب سے ایران کے ممکنہ حملے کے پیش نظر قطر میں قائم اہم ائربیس پر ‘بی52’ بمبار تعینات کرنے کا اعتراف کیا گیا تھا۔امریکی فضائیہ کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جمعرات کی رات ‘بی 52 ایچ’ اسٹراٹوفورٹریس بمبار قطر میں العُدید ایئربیس کی طرف آرہے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا تھا کہ دیگر بمباروں نے جنوب مغربی ایشیا میں نامعلوم مقام پر لینڈ کیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …