جمعہ , 7 مئی 2021

عوام کی ذمے داری

(ظہیر اختر بیدری)

ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سنوارنے اپنے مسائل کو حل کرنے کا جو ایک وسیلہ ملا ہے اسے بھی ضایع کردیتے ہیں ۔ ہماری اجتماعی سادگی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے معاشی قاتلوں کو اپنے ہاتھوں سے اپنی قسمت سونپ دیتے ہیں ، ہماری اس اجتماعی کمزوری کا فائدہ ہماری طبقاتی دشمن اشرافیہ بھرپور طریقے سے اٹھاتی ہے۔ہمارے ووٹوں سے برسر اقتدار آکر اربوں روپے کی کرپشن کرتی ہے اور انھیں اپنے ووٹوں سے برسر اقتدار لانے والے 22 کروڑ غریب عوام غریب سے غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور عیاش حکمران طبقات عوام کے مسائل اور ان میں اضافے کی ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال کر عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔

آج کل مہنگائی اپنے عروج پر ہے غریب عوام کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے ۔ پچھلی کرپٹ حکومتیں اس مہنگائی کی ذمے دار ہیں کیونکہ انھوں نے کھربوں کا قرض لے کر ہماری معیشت کو اس بری طرح برباد کردیا ہے کہ مہنگائی اور دوسرے عوامی مسائل پچھلے دس سال تک حکومت کرنے والی ایلیٹ کے کارنامے ہیں ہماری نئی لیکن نالائق حکومت کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ سابقہ مجرم حکومتوں کے جارحانہ پروپیگنڈے کا جواب دینے کی بھی مناسب کوشش نہیں کر رہے۔ اپوزیشن دولت کی گنگا بہا کر نئی مڈل کلاسر حکومت کے خلاف اس قدر شدید پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ منطقی طور پر عوام اس مہنگائی کو موجودہ حکومت کی نااہلی سمجھ رہے ہیں۔

سابقہ حکمرانوں کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے درجنوں مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں لیکن سابقہ حکومتوں کی عیارانہ پالیسیوں کی وجہ سے یہ مقدمات عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔ میڈیا میں جب ان کیسز کی خبریں آتی ہیں تو کرپٹ اشرافیہ ان خبروں کو توڑ مروڑ کر عوام کوکنفیوژ کرنے کی کوشش کرتی ہے اورکرپشن کی ان داستانوں سے لاتعلق حکومت منہ میں گھگھنیاں ڈالے خاموشی سے کرپٹ مافیا کے پروپیگنڈے کو پیتی رہتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکمران جماعت کے نااہل افراد ایک دوسرے سے غیر ضروری طور پر لڑکر وزیر اعظم عمران خان کی پوزیشن خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چونکہ کرپشن میں سر سے لے کر پیر تک ڈوبی ہوئی اشرافیہ کا حال یہ ہے کہ دو تین ہزار عوام کو جمع کرنے کی پوزیشن میں نہیں میڈیا میں ہر روز کرپشن کے نئے نئے اسکینڈلز کو دیکھ کر اصل عوام اشرافیہ سے اس قدر بدظن ہوگئے ہیں کہ انھوں نے عملاً اشرافیہ کے جلسوں جلوسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے شدید ضرورت میں کرائے کی عوام کو لاکر ہلا گلہ کرالینا ہی اشرافیہ کی سیاست رہ گئی ہے۔ موجودہ حکومت ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی پر بجا طور پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور اشرافیہ نے اپنے کرتوت سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو نئی حکومت کے سر منڈھ دیا ہے، نئی حکومت ان غلط الزامات کا دفاع بھی بھرپور طریقے سے نہیں کر پا رہی ہے۔ اشرافیہ حکومت کی اس کمزوری کا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

اس درخشاں حقیقت سے حکومت کے بڑے سے بڑے دشمن بھی انکار نہیں کرسکتے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے اب آٹھ نو مہینے ہو رہے ہیں اگر اشرافیائی حکومت ہوتی تو اس مختصر عرصے میں بھی اربوں کی لوٹ مار کردیتی لیکن مڈل کلاسر حکومت پر کوئی مائی کا لال ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا۔ کیا موجودہ نااہل اور سست رفتار حکومت نے حکومت کے اس نادر روزگار کارخانے کا کہ حکومت ایک پائی کی کرپشن میں ملوث نہیں بھرپور پروپیگنڈا کرکے عوام کو اس منفرد حکومتی کارنامے سے آگاہ کر رہی ہے؟ اس کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے اور یہی موجودہ حکومت کی سب سے بڑی نا اہلی ہے۔

اشرافیائی قیادت اور اشرافیائی پارٹیاں عوام میں اس قدر بدنام ہوگئی ہیں کہ وہ اب عوام کو کسی حیلے بہانے سڑکوں پر نہیں لاسکتے۔ اس کمزوری کا ازالہ کرنے کے لیے بعض عوام کی مسترد کردہ جماعتوں کو اربوں روپے دے کر بڑے جلسے کرا رہی ہیں ان جلسوں کے آرگنائزر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں اور کرپشن کی بھاری رقموں میں سے انھیں بھی حصہ بقدر جثہ ملتا ہے لہٰذا یہ ایلیمنٹ بہت فعالیت کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن عوامی حمایت سے محروم ہے۔

ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے دانشوروں کا ایک حصہ ہر حال میں کرپٹ اور بدنام زمانہ جمہوریت کی حمایت کو اپنی دانشورانہ ذمے داری سمجھ کر اس کی حمایت کو اپنا فرض سمجھ رہا ہے ۔ اس میں ایک حصہ وہ ہے جو ’’لولی لنگڑی‘‘ جمہوریت کو آمریت سے بہتر سمجھتا ہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جو پیٹ بھرنے کے لیے اس بدنام زمانہ جمہوریت کی حمایت کر رہا ہے۔ جو لوگ خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو یا قلم سے اس مڈل کلاسر حکومت کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کہ اس مڈل کلاسر حکومت نے اسٹیٹس کو کو توڑ کر وہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ اس کارنامے کے عوض نئی حکومت کی چھوٹی موٹی نااہلیاں معاف کی جانی چاہئیں۔

پاکستان کی تاریخ میں آج کا دور اس لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اچھی بری جیسی بھی ہو مڈل کلاس کی حکومت پہلی بار اقتدار میں آئی ہے اور کرپٹ اشرافیہ ہر قیمت پر اس حکومت کو جس پر اس کے دشمن بھی ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے اقتدار سے باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے طرح طرح کی منصوبہ بندیاں طرح طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن حالات میں عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر حال میں مڈل کلاسر حکومت کی حمایت کریں تاکہ اشرافیائی کرپٹ حکومتوں کا سلسلہ ٹوٹ جائے اور عوام کی حقیقی جمہوریت کی طرف پیش قدمی کا راستہ کھل سکے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …