پیر , 17 مئی 2021

دہشت گردی:ہدف کون؟

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح نائن الیون کے واقعہ کے بعد دنیا بھر میں یہ سوچ ابھری کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری عالمی برادری کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور مل جل کر کام کرنا چاہئے، بالکل اسی طرح ایک اور سوچ کرۂ ارض کے باسیوں کو یہ پیغام دینے پر تلی ہوئی ہے کہ کوئی اپنے آپ کو کسی مقام پر محفوظ نہ سمجھے۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ 8مئی 2019ء کو ’’داتا دربار‘‘ کے باہر پولیس وین کے قریب جو خود کش بم دھماکہ 5پولیس اہلکاروں سمیت 11افراد کی شہادت اور 25افراد کو زخمی کرنے کا ذریعہ بنا وہ بہیمیت، بربریت اور انسان دشمنی کے ان واقعات میں اضافہ کہا جا سکتا ہے جن کی عرصے سے پوری دنیا نہ صرف مذمت کر رہی ہے بلکہ جن کے سدباب کے لئے بہت کچھ کرنے کا تاثر بھی عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرکے مسلمانوں کی خاصی تعداد کو شہادت سے ہم کنار کرنے کے واقعہ کے ردعمل کو وہاں کی حکومت نے جس دانشمندی سے بین المذاہب یکجہتی اور انسانی یگانگت کے جذبات کے فروغ کا ذریعہ بنایا اس سے ان قوتوں کو مایوسی ہوئی ہوگی جو زمین پر فساد پھیلانے میں ہی اپنا مفاد دیکھتی ہیں۔

چنانچہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے کلیسائوں پر دہشت گردی کے ذریعے پوری دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی کا تاثر اجاگرکرنے کی کوشش کی گئی مگر کولمبو کے حکام کی تحقیقات کے مطابق اس انتہائی قابلِ مذمت سانحے کے لئے جن افراد کو استعمال کیا گیا، انہوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی۔ پاکستان میں لسانی اور مذہبی نعروں کے ساتھ دہشت گردی سمیت منفی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی تربیت اور مادّی امداد کے لئے عشروں سے بھارت میں کھلم کھلا کیمپ قائم ہیں۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی سرکردگی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں اور کراچی سمیت متعدد مقامات پر دہشت گردی کے واقعات کے لئے قریبی بندرگاہ کے خفیہ استعمال کے ذریعے ملکوں کے تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش سمیت خطرناک کھیل کھیلا گیا جس کے کئی پہلو ہیں۔ بہرحال تاریخ میں ایسے افسوسناک واقعات کی کمی نہیں جن کا مقصد مخصوص مفادات کے لئے تعصبات کو ہوا دینا رہا ہے۔ حالانکہ تمام مذاہب اللہ کی مخلوق سے محبت کا درس دیتے ہیں۔ مسالک یا فرقے بھی بھائی چارہ کی تعلیم دیتے ہیں۔ تاریخ میں جتنے بڑے نظریات نے جنم لیا ان کی اٹھان بھی انسانوں کیلئے آسانیاں اور خوشیاں بڑھانے کے جذبے پر ہوئی۔ صوفیا کی تعلیم کا محور تو بطور خاص محبت، اخلاق اور خلق خدا کی خدمت ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن میں صرف خیر خواہی کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔

اس لئے نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے افسوسناک واقعات کے بعد لاہور میں صوفی بزرگ حضرت سیّد علی ہجویریؒ کے مزار کے قریب 7کلو بارودی مواد سے لیس 14سالہ کمسن لڑکے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کا مقصد بظاہر یہ پیغام دینا محسوس ہوتا ہے کہ تخریبی قوتوں کے مکمل طور پر ختم ہونے کی خوش فہمی میں کوئی مبتلا نہ رہے۔ یہ قوتیں مختلف مقامات پر موجود مختلف ناموں اور طریقوں سے اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کے قابل بھی ہیں۔ پیغام دینے کے لئے ماہِ رمضان کی دو تاریخ کا انتخاب بھی خالی از علت نہیں۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ پاکستان میں کئی فوجی آپریشنوں کے باوجود وہ دہشت گرد گروپ پوری طرح ختم نہیں ہوئے جو مذہب کو اپنے یا بعض قوتوں کے مفادات کے لئے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے دہشت گردوں کا خاص ہدف قرار پانے والی ریاست پاکستان سمیت عالم اسلام ہی نہیں بلکہ امریکہ اور خود کو افغان مسئلے کے پُرامن حل کے قریب تر محسوس کرنے والے دارالحکومتوں کو دہشت گردی میں ملوث اور دہشت گردی کا ہدف بننے والے ملکوں کے امتیاز کے ساتھ اب زیادہ محتاط و مستعد رہنا ہوگا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت وقت کی نزاکت تقاضا کر رہی ہے کہ عالمی امن و درپیش خطرات کا سدباب کرنے کے لئے کرۂ ارض کے تمام ممالک مل جل کر کام کریں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …