اتوار , 11 اپریل 2021

ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت پر توجہ دی جائے، وزیراعظم

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے محدود وسائل کے باعث پنجاب حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں صوبائی کابینہ اجلاس کی صدارت کی۔لاہور کے ایک روزہ دورے میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ عثمان بزادر اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ملاقات کی جبکہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں افطار اور عشائیے میں شرکت بھی کی۔

پنجاب کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ ہاشم جوان بخت نے وزیراعظم کو مالی سال 20-2019 کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بریفنگ دی۔وزیراعظم نے پنجاب حکومت کو مالی بوجھ کم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مختلف ماڈلز لاگو کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لیے مخصوص منصوبے شروع کیے جائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ون-ونڈو آپریشن تشکیل دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قائم کی جانے والی اتھارٹی کا نام پیش کیا جائے گا لیکن اس حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افرادی قوت، ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں ہنر مند نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر ترقیاتی منصوبے کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے‘۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میٹرو بس پر 12 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے اس رقم کو صحت اور تعلیم کے شعبوں میں استعمال کیا جاسکتا تھا۔

افطار سے قبل وزیراعظم نے گورنر ہاؤس پنجاب میں گورنر غلام محمد سرور، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے زین قریشی سے ملاقات کی تھی۔گورنر پنجاب نے وزیراعظم کو گورنر ہاؤس میں کارپوریٹ ایونٹس سے متعلق منصوبے پر بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تشکیل کی گئی کمیٹی نے 2 تجاویز دی ہیں کہ پورے ہفتے یا صرف چھٹی کے روز گورنر ہاؤس میں کارپوریٹ ایونٹس کی اجازت دی جائے۔غلام محمد سرور نے کہا کہ عوام چھٹی کے روز گورنر ہاؤس کا دورہ کرسکیں گے اور وہاں قائم عمارتوں کے دورے کی اجازت کے لیے بھی تجاویز تیار کرلی گئی ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ قومی خزانے کا استعمال کیے بغیر روزانہ کی بنیاد پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے افطار کا اہتمام کررہے ہیں جو 28 رمضان تک جاری رہے گا۔انہوں نے وزیراعظم کو صوبے کی سیاسی صورتحال اور قانون سازی سے متعلق دیگر معاملات پر بھی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات میں وزیراعظم نے صوبے میں قائم کیے گئے رمضان بازار میں عوام کو دی جانے والی سبسڈی پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں 309 رمضان بازار قائم کیے گئے ہیں جہاں روز مرہ کی اشیا عوام کے لیے کم نرخ پر موجود ہیں۔

بعد ازاں شوکت خانم کینسر ہسپتال میں افطار کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے نجی ہسپتالوں کی طرز پر سرکاری ہسپتالوں میں نیا نظام لانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ غریب عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔سرکاری ہسپتالوں میں متعارف کروائے جانے والے نظام کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ناقدین سرکاری ہسپتالوں میں بہتر علاج سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’کیا یہ غریب عوام سے ناانصافی نہیں ہوگی کہ سرکاری ہسپتالوں کے معیار میں کمی آتی رہے اور نجی ہسپتال پیسے بنانے میں مصروف رہیں‘۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولیات سرکاری ہسپتالوں میں موجود بوسیدہ نظام کو تبدیل کیے بغیر فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت، ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …