ہفتہ , 17 اپریل 2021

یورپی یونین ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی خواہاں ہے،جرمنی فرانس

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ایک یورپی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ ہیکوماس نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی خواہاں ہے اور ہم چاہتے کہ تہران بھی بقول ان کے جارحانہ رویہ اختیار نہ کرے۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یورپی یونین اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو آگے بڑھانے میں پوری دلچسپی رکھتی ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایوے لیے دریان نے بھی ایران کے جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کو برا ردعمل قرار دیتے ہوئے تہران سے اپیل کی کہ وہ سیاسی بلوغ کا مظاہر کرتے ہوئے جامع ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری رکھے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے میں شریک تمام فریقوں سے بھی اپیل کہ وہ بھی ایٹمی معاہدے پر عمل کریں حتی امریکہ بھی اس پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے امریکی علیحدگی کی بابت صدر ٹرمپ پر نکتہ چینی کی۔

جان ایوے لیے دریان نے کہا کہ بعض لوگ اس سوچ کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملکوں کے تعلقات تعاون کی بنیاد سے عاری ہو جائیں اور ان کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو جائے اور یہ سوچ پورے عالمی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ایٹمی معاہدے کی اہمیت کے بارے میں جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ٹرائیکا یعنی جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے تاحال اس بین الاقوامی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے کوئی بھی عملی اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

اس معاملے پر ایران نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے پر جزوی عملدرآمد روک دیا ہے اور یورپی ٹرائیکا کو اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ساٹھ روز کی مہلت دی ہے۔امریکہ کے برخلاف یورپ والے سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر مکمل طور سے عمل کیا ہے بلکہ یہ معاہدہ علاقائی اور عالمی سطح پر کشیدگی کو روکنے کے حوالے سے بھی اپنے اہداف پورے میں کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

یورپ کی نگاہ میں ایٹمی معاہدہ یورپ کی سفارتی کامیابی کی بھی اہم سند کی حثیت رکھتا ہے اور اس کی ناکامی، عالمی سطح پر یورپ کی سب سے بڑی سیاسی اور سفارتی شکست کے مترادف ہو گی۔لیکن عملی طور پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یورپ اپنی ساکھ کی خاطر بھی ایٹمی معاہدے کو بچانے کے لیے کچھ خرچ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

یورپ کے اسی رویے پر ایران نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ایران کے ردعمل کے تناظر میں یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کونسل نے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران کی پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یورپی یونین سے تہران کی مقرر کردہ مہلت پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …