منگل , 13 اپریل 2021

آئی ایم ایف پیکج، ایک امتحان!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف پیکج لے رہی ہے۔ آئی ایم ایف پیکج تین سال کے لیے ہو گا اور یہ پیکج ماضی میں ہونیوالے معاہدوں سے کسی بھی صورت مختلف نہیں ہو گا۔ ویسی ہی شرائط ہونگی، عوام پر بوجھ پڑے گا جس کے لیے انہیں تیار رہنا چاہیے۔ تین سال کی مدت کے لیے پاکستان کو چھ ارب چالیس کروڑ ڈالر ملیں گے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد دو برس میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ کئی شعبوں میں دی جانیوالی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔ اسمیں بالخصوص توانائی کا شعبہ شامل ہے۔ سبسڈی کے خاتمے سے بھی عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امکان ہے کہ بجٹ خسارے کو ساڑھے چار فیصد تک محدود کیا جائے جبکہ شرح سود بارہ فیصد تک لانے کے علاوہ نئے بجٹ میں اربوں روپے کے نئے ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔ آئی ایم ایف پیکج کے بعد ایف بی آر کا ریوینیو ٹارگٹ بھی پانچ ہزار ارب سے زائد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ اس پیکج کے بعد عوام پر شدید بوجھ آنا ہے یقینی طور زندگی مشکل ہو گی، مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ اس تکلیف دہ صورتحال کے حقیقی ذمہ دار ماضی کے وہ حکمران ہیں جو قرضوں پر قرض لیکر غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرتے رہے۔ قوم کا پیسہ ضائع کرتے رہے، قوم کو مقروض کرتے رہے اور آج انقلابی لیڈر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال کا ذمہ دار وہ حکمران طبقہ ہے جس نے قرض کو فرض سمجھ کر لیا اور حق سمجھ کر ضائع کیا۔ آج ہم ماضی کے حکمرانوں کی عیاشیوں اور نالائقی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں عوام کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ قرض خور پھر جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنا شروع کریں گے۔ وہ غیر ضروری منصوبے گنوانا شروع کریں گے جن سے حقیقی معنوں میں قوم کی تعمیر و ترقی نہ ہوئی بلکہ قوم قرض کے جال میں جکڑتی چلی گئی۔ ملک لوٹنے والے مافیا کو اب شرم آنی چاہیے ملکی معیشت کو تباہ اور سرکاری اداروں کا بیڑہ غرق کر کے آج جمہوریت کے چیمپئین بنے پھرتے ہیں۔ جمہوریت عوام کی خدمت کا نام ہے انہوں نے اس طرز حکومت سے عوام کے بجائے اپنے خاندانوں کی خدمت کا فریضہ انجام دیا ہے۔

ہماری رائے میں یہ پیکج تبدیلی بھی لا سکتا ہے، یہی پیکج وزیراعظم عمران خان اور انکی ٹیم کا سب سے بڑا امتحان بھی ثابت ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرض تو لے لیا، عوام پر بوجھ تو ڈال دیا پھر امتحان کیسا!!!!

قارئین کرام ان چھ ارب چالیس کروڑ ڈالر کا ایمانداری سے خرچ ہی اصل عمران خان اور انکی ٹیم کا اصل امتحان ہے، یہاں خیانت نہ ہوئی تو تبدیلی آئے گی، یہاں فنڈز کو ذمہ داری،تعمیری سوچ اور قوم کے درد کو اپنا درد سمجھ کر استعمال کیا گیا تو تبدیلی آئے گی۔

ماضی میں قرض کے پیسوں پر فضول خرچی کی گئی، پیسہ اڑایا گیا۔ قوم کو پھنسایا گیا، انہیں اعداد و شمار کے دھندے میں الجھایا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بالخصوص وزیراعظم پاکستان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اس مرتبہ تاریخ رقم کریں اور اس رقم کا ایسا مناسب استعمال کریں کہ فرق دنیا کو نظر آئے اور مستقبل میں عوام کی زندگی آسان ہو۔

ہم نے خیانت کی بات کی۔ یہ بہت ہی حساس بلکہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ قرآن پاک میں اس حوالے سے واضح حکم موجود ہے۔ سورہ یوسف کی آیت نمبر باون کا ترجمہ ہے "اور اللہ خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو راستہ نہیں دیتا”سورہ النسائ￿ کی آیت نمبر ایک سو سات کا ترجمہ ہے”بیشک اللہ بہت خیانت کرنیوالے بڑے گنہگار کو پسند نہیں کرتا”

اب ان آیات کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی خیانت کر کے راستہ نکالنا چاہے گا تو اسے کامیابی نہیں مل سکتی۔ جنہوں نے خیانت کی ہے انکا حشر سب کے سامنے ہے۔ جو خیانت کرتا ہے اسے اللہ پسند نہیں کرتا اور اگر موجودہ حکومت میں بھی کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے ناپسندیدہ ہو جائیں تو شوق سے خیانت فرمائیں لیکن انجام ضرور یاد رکھیں کہ ان سے پہلے جن جن لوگوں نے یہ حرکت کی تھی ان کا انجام کیا ہوا اور ان دنوں میں بھی وہ اپنے اردگرد دیکھ لیں کہ خیانت کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ ایسے لوگ طاقت میں ہوتے ہوئے بھی جکڑے جاتے ہیں اور بے بسی کی تصویر بھی بنے نظر آتے ہیں۔ سو یہ فیصلہ ان فنڈز کے استعمال کرنے والوں نے خود کرنا ہے کہ انہوں نے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔

اب ہم بات کرتے ہیں اس قرض کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کے حوالے سے، قارئین کرام مہنگائی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک مہنگائی حقیقی ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے اور ریاست کا ہر شہری اس سے متاثر ہوتا ہے۔ مہنگائی کی دوسری قسم مصنوعی ہے جو مافیا کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہوتی ہے بسا اوقات ریاست بھی اس کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ وہ باوجود کوشش کے بھی اس مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ ہمیں ان دنوں مہنگائی کی دوسری قسم کا بھی سامنا ہے۔ یہ وہ بڑے سٹوروں کے چھوٹے دل مالکان کا مافیا ہے جو چیزوں کی من مانی قیمتیں وصول کرتا ہے اور مارکیٹ میں مہنگائی کے رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ناجائز منافع خور جان بوجھ کر صرف مال کمانے کے لیے مجبور عوام کا خون چوستے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ زیادتی کر رہے ہیں لیکن ان کی آنکھوں پر حرص کی پٹی بندھی ہے اور وہ نوٹوں کی مشینیں چلا رہے ہیں۔ کاش کہ یہ قرآن پڑھیں اور سمجھیں کہ وہ کتنا ظلم کر رہے ہیں مال کمانے کی خواہش رکھنے والوں کے بارے سورہ التکاثر کے شروع میں اللہ کا فرمان ہے "تمہیں مال جمع کرنے کی حرص نے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا” ہم سب ذرا قرآن کو پڑھیں اور سمجھیں کہ ہمیں قرآن کریم سے کیا پیغام مل رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم یہ مال و دولت کس کے لیے جمع کر رہے ہیں۔ اپنی اولاد کے لیے، اہلخانہ کے لیے کیا ہمارا یقین نہیں ہے کہ ہم سب نے دنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے اور یہ مال و دولت، شان و شوکت سب یہیں رہ جائے گی۔ جن کے لیے ہم جمع کرتے ہیں ان کے بارے قرآن کریم پڑھیں تو سمجھ آئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ سوری الکھف کی آیت نمبر چھیالیس کا ترجمہ ہے” مال اور بیٹے دنیا کی زینت ہیں باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں”

ہم نے انہی صفحات پر بڑے سٹوروں والوں اور ملک سے پیسہ کمانے والوں کے لیے ہمیشہ دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ ہمارے بس میں ہو تو عوام کی زندگی کو مشکل بنانے اور مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے اس مافیا کو تباہ کر دیں لیکن آج ہم ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق دے۔ وہ مال بنانا چاہتے ہیں بنائیں، مجبور عوام کو خوار کرنا چاہتے ہیں، ضرور کریں، تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں، ضرور بھریں، بینک بیلنس بڑھانا چاہتے ہیں، ضرور بڑھائیں لیکن اس سے پہلے ایک مسلمان کی حیثیت سے ان آیات کا مطالعہ ضرور کریں۔ ممکن ہے وہ اپنا طرز عمل بدل لیں۔

یہ ملک صرف عمران خان کا نہیں ہے یہ ملک ہم سب کا ہے، یہ ملک ہے تو کاروبار ہے، مال و دولت ہے شان و شوکت ہے، ٹھاٹھ باٹ ہے، آزادی ہے، مزے ہیں، سکون ہے۔ اس ملک کو سنوارنا سب کی ذمہ داری ہے۔ جو زیادہ نوازے گئے ہیں انکی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ دعا ہے کہ ہمارے دل بدلے جائیں، طرز فکر بدل جائے، طرز عمل بدل جائے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …