پیر , 12 اپریل 2021

داتا دربارمیں خونی دھماکہ اور بھارتی جوتے

(ظفر علی راجا)

8 مئی کو داتا دربار کے باہر پولیس کی گاڑی کے پاس ایک خودکش دھماکہ ہوا۔ اس خودکش دھماکے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت دس افراد شہید ہو گئے اور تیس افراد زخمی ہوئے۔ تین افراد شدید زخمی تھے جن میں سے ایلیٹ فورس کا ایک اور اہلکار ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ خودکش حملہ آور داتا دربار کے اندر تو داخل نہیں ہو سکا لیکن اس گیٹ کے قریب پولیس وین کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ اس دھماکے نے ہر طرف افراتفری پھیلا دی۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ بدھ کی صبح تقریباً پونے نو بجے داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے قریب ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں آگ کا ایک بڑا گولہ بلند ہوا۔ دھماکے کی زوردار آواز دور دور تک سُنی گئی۔ دھماکے کی وجہ سے بہت سی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر انسانی لاشیں اور ان کیاعضاء بکھر گئے۔ زائرین میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔ ہر طرف قیامتِ صغرا کا منظر نظر آنے لگا اور زائرین اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرنے لگے جو زبردست دھماکے اور بھڑکتی آگ اور دھویں کی کالی چادر میں غائب ہو چکے تھے۔

اب آتے ہیں نامعلوم حملہ آور کی دھماکہ خیز کارروائی کی طرف۔ اس حملہ آور نے دھماکہ خیز جیکٹ اپنے پیٹ پر باندھی ہوئی تھی۔ جونہی اس نے دھماکہ کیا اس کا پورا بدن دھماکے کی نذر ہو گیا۔ صرف اس بمبار کا ایک ہاتھ اور ٹانگیں بچ سکیں۔ دونوں پائوں میں اس نے جوتیاں پہنی ہوئیں تھی۔ پولیس والوں نے دھماکہ باز کا ہاتھ اور ٹانگیں فرانزک لیبارٹری میں بھجوا دیں تاکہ فنگر پرنٹ سے دھماکہ باز کی شناخت ہو سکے۔ اس خودکش بمبار نے کالی شلوار اور قمیض پہنی ہوئی تھی اور اس کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی۔ بعدازاں ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داتا دربار دھماکہ ماضی میں پولیس پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہے جس میں بارودی مواد استعمال ہوا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش بمبار کو قریبی علاقے یا ہوٹل میں خودکش جیکٹ پہنائی گئی تھی۔ یہ جیکٹ خودکش حملہ آور نے اپنے جسم کے نچلے حصہ پر باندھی اور پھر دھماکہ خیز کارروائی کے لیے داتا دربار کی طرف روانہ ہوا اور پھر داتا دربار کے گیٹ نمبر دو پر آ کر خود کو دھماکہ خیز مواد جو اس کے جسم پر بندھا ہوا تھا، اس کے ذریعے نہ صرف یہ کہ خود کو اڑا لیا بلکہ ہر طرف خون آلود ہلچل مچا دی۔ انٹیلی جنس ادارے نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں کا داتا دربار کے گر کسی ہوٹل یا سرائے میں ٹھکانہ تھا۔ اس دہشت گرد دھماکے میںتین افراد ملوث تھے۔ انہوں نے اسی ہوٹل یا سرائے میں رہتے ہوئے ٹارگٹ کی مانیٹرنگ کی اور سخت سیکورٹی کے باعث انہوں نے گیٹ نمبر 2 پر انہوں نے پولیس والوں کی تعداد اور وقت کا تعین کر کے خودکش حملہ کروایا۔ حملہ آور شیش محل روڈ کی طرف سے آیا تھا لہٰذا سیکورٹی ادارے اس کے ٹھکانے اور سہولت کاروں کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خودکش دھماکے سے قبل پاکستان کے خفیہ اداروں کی طرف سے حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا گیا تھا کہ لاہور میں خودکش حملہ آور داخل ہونے والے ہیں اور وہ سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائیں گے۔ اس کے باوجود خودکش حملہ آور کئی پولیس ناکے عبور کر کے اپنے ہدف تک پہنچا اور ا س نے زبردست خونی دھماکہ کے کے اپنا ہدف حاصل کر لیا اور خون آلود دہشت گردی کر کے گیارہ افراد کو شہید کر دیا اور لگ بھگ پچاس افراد کو زخمی کر دیا۔ داتا دربار کے علاقے میں چھ ہوٹل اور چھ سرائے خانے ہیں۔ یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ دہشت گرد بمبار کے سہولت کار علاقے کے کس ہوٹل یا سرائے میں مقیم تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ سب ہوٹل اور سرائے والے پولیس کو منتھلی دیتے رہے ہیں لہٰذا پولیس ان تمام ہوٹلوں اور سرائے والوں کے بارے میں سب اچھا کی رپورٹ ہر ماہ تھانے میں داخل کرتی رہتی ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پندرہ اپریل کے نوائے وقت میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کا لاہور میں خودکش حملے کی تیاری کری رہی ہے۔ اس بروقت اطلاع کے باوجود حکومت نے کوئی حفاظتی اقدام نہیں لیے اور دہشت گردوں نے اپنا ٹارگٹ حاصل کر لیا۔ بعدازاں شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی اور تنظیم کے ترجمان عبدالعزیز یوسفزئی نے اعلان کیا کہ اس آپریشن شانزئی کا ہدف پولیس اہلکار ہی تھے۔ بعدازاں تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دھماکہ کرنے والے شخص نے جو جوتے پہنے ہوئے ھے وہ بھارت کے بنے ہوئے تھے اور ان پر بھارتی جوتا ساز کمپنی کا نام بھی درج تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ حزب الاحرار کی تنظیم اور بھارت اس دھماکہ خیزی میں باہم ملے ہوئے تھے۔ …؎

جوتیاں پہنی ہوئی تھیں اس دونوں بھارتی
یہ دھماکہ کار بھارت کا تھا پہنچایا ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …