جمعرات , 19 ستمبر 2019

ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی جرات امریکہ نہیں رکھتا ۔ جنرل حسین سلامی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے اتوار کے دن مجلس شورائے اسلامی (ایرانی پارلیمنٹ) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امریکی بحری بیڑے کی روانگی صرف ایک نفسیاتی جنگ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا: ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور اپنے بیڑوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات کے پیش نظر امریکا ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی جرات اور توانائی نہیں رکھتا ہے۔

سپاہ پاسداران کے فضائی، خلائی سربراہ کمانڈر حاجی زادہ نے کہا ہے:وہ بحری بیڑا جس پر 40، 50 جنگی طیارے لدے ہوئے ہیں اور اس نے اپنے اوپر 6 ہزار فورسز کو بٹھارکھا ہے، وہ ماضی میں ہمارے لئے ایک بڑا خطرہ تھا، لیکن آج ایک سائیبل (نشانہ) ہے۔انہوں نے ایران کے اردگرد واقع امریکی اڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکیوں کی صورتحال ایسی ہے، جیسے ہمارے دانتوں کے نیچے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر وہ ہل جائیں گے تو ہم ان کو ہٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں میں شدت کے بعد علاقے میں سیاسی تناؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اسرائیلی لابی، بعض امریکی و عرب حلقے ایران پر امریکی حملے کا عندیہ ظاہر کررہے ہیں۔لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ زمینی حقائق کے پیش نظر جنگ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ادھر اطلاعات کے مطابق امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ابرہام لینکن خلیج فارس میں تعیناتی کی غرض سے آبنائے باب المندب سے گزرگیا ہے۔اس تناظر میں کہا جارہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتا ہے۔

اگرچہ امریکی وزیر پمپئیو نے کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔بعض مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کار بھی ایران کی عسکری دفاعی قابلیتوں، خاص طور پر اس کی پیشرفتہ میزائیلی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لئے ایران سے لڑنا آسان نہیں ہے اور مشرق وسطی، بالخصوص خلیج فارس کے بعض ساحلی ممالک اور ان میں قائم امریکی مراکز ایرانی میزائیلوں کی زد میں ہیں۔نیز جنگ کی صورت میں اسرائیل شدید خطرات سے دچار ہوگا، اس بات کا اندیشہ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے بھی کیا ہے۔ادھر ایرانی عسکری قائدین کہہ رہے ہیں کہ حالیہ امریکی اقدامات ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہے۔اور اس کی اہمیت نہیں ہے، کیوں کہ یہ سلسلہ گزشتہ 40 برسوں سے جاری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ارکان یورپی پارلیمنٹ کے کشمیر کی صورتحال پر بحث کیلئے 4 مطالبات پیش

اسٹراسبرگ(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہِ کشمیر بارہ سال زیرِ بحث آیا جس میں کشمیر …