جمعرات , 19 ستمبر 2019

حکومت نے پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروا دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ٹیکس ایمنسی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کالا دھن رکھنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈاکیومنٹیڈ کرنا ہے تاکہ معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا 30 جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور ریئل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھا جائے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے۔

اس موقع پر ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کے مطابق کسی پراپرٹی کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے تو اسے 15 لاکھ پر سفید کیا جائے گا اور اس پر ڈیڑھ فیصد ادا کرنا پڑے گا۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑے گا۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو گزشتہ اسکیموں سے مختلف بتاتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بے نامی قانون پاس ہوا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت اگر کوئی اثاثے ظاہر نہیں کرتا تو تمام اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں اور لوگ جیل بھی جاسکتے ہیں، لہٰذا یہاں بے نامی اکاؤنٹس اور جائیدادوں کو سفید کرنے کی مہلت دی جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور فی الحال اسٹاک لیول معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرے گا، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ممالک کو مدد فراہم کی جاسکے، ہم جو کرنے جارہے ہیں وہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی آمدن سے زائد اخراجات کررہے ہیں تو اس میں کمی پاکستان کے فائدے میں ہے، اگر ہمارے ریاستی ادارے مسلسل خسارے میں ہیں تو ان خساروں کو کم کرنا ملک کے لیے فائدے مند ہے، درآمدات و برآمدات کے فرق کو کم کرنے، قرضوں کے نظام کو بہتر کریں یہ تمام چیزیں پاکستان کے فائدے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے کچھ لوگوں کو قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، ہم نے 3 سے 4 بڑے فیصلے کیے ہیں، اگر بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر کوئی فرق نہیں پڑنے دیں گے اور اس کے لیے 216 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں اور اس سے 75 فیصد صارفین مستفید ہوں گے۔

گفتگو کے دوران مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح احساس پروگرام کے بجٹ کو دگنا کیا جارہا ہے اور اسے 100 ارب کے بجائے 180 ارب روپے کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے سے گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس میں بھی 40 فیصد ایسے صارفین جو کم گیس استعمال کرتے ہیں انہیں منفی اثرات سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملکی ترقیاتی پروگرام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سال یہ ساڑھے 500 یا 600 ارب روپے ہو جبکہ آئندہ برسوں میں اس کا بجٹ 7 سے 8 سو ارب روپے رکھی جارہی ہے، کوشش ہے کہ اس پروگرام کو آگے لےجایا جائے اور کمزور طبقے پر پڑنے والے منفی اثرات سے انہیں بچایا جائے۔

دوارن گفتگو ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری آمدن کی کارکردگی توقعات سے کم رہی، تاہم اس کی بہتری کے لیے فیصلے کیے جارہے ہیں اور یہ بجٹ میں سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ شبر زیدی کو مکمل اختیارات دیا گیا ہے کہ اگر کوئی پیسے والے لوگ تعاون نہ کریں اور کالا دھن رکھیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لہٰذا یہ آخری موقع ہے کہ ان مراعات سے فائدہ اٹھایا جائے۔

اب کوئی اکاؤنٹ منجمد نہیں ہوگا، شبر زیدی
اس موقعے پر وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے اعزازی چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آئی، اسٹیٹ بینک اور نادرا سمیت دیگر ارادوں کے باہم تعاون اور معلومات کے تبادلے سے سرمایہ کار کا ڈیٹا جمع کر کےانہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائےگا۔

موجودہ ٹیکس کنندگان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی ہدایت کی تھی کہ کسی کا بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں ہوگا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکس کنندگان کی جگہ پر چھاپہ نہیں مارا جائے گا‘۔

شبر زیدی نے کہا کہ ’پہلے مرحلے میں ٹیکس کنندگان کا زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گے اور پھر کثیر وسائل کی موجودگی کی صورت میں ان کے ٹیکس ریٹ میں کمی لائی جائے گی‘۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس کنندگان کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم مخالفت سے حمایت تک
واضح رہے کہ 16 اپریل کو کابینہ کے اجلاس میں وفاقی کابینہ کے کچھ وزرا کی جانب سے مخالفت اور تحفظات کے اظہار کے ساتھ ساتھ مزید وضاحت طلب کیے جانے پر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری ملتوی کردی گئی تھی۔

اس بارے میں اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ کابینہ کے کچھ اراکین نے اس اسکیم کے تحت مجوزہ 15 فیصد شرح ٹیکس پر اعتراض کیا تو کچھ اراکین نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ذرائع نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے پوچھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس مجوزہ ٹیکس اسکیم اور گزشتہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی اسی قسم کی ٹیکس اسکیم میں کیا فرق ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حامی اور مخالف رہے ہیں، انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادورا میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی کھل کر مخالفت کی تھی تاہم ان پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ 2000ء میں جب پرویز مشرف نے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تو عمران خان نے اس اسکیم کے تحت اپنا لندن کا فلیٹ ظاہر کردیا تھا جو کہ انہوں نے 1997 میں خریدا تھا لیکن ظاہر نہیں کیا تھا۔اسی طرح 10 مارچ 2013ء کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم منظور کی گئی تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

جنوری 2016ء کو نواز شریف دور میں پی ٹی آئی چئیرمین نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حکمران اپنے مفادات کے لیے جاری کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ٹیکس چوروں کو اپنا کالا دھن سفید کرنے کا موقع دینے کے لیے ہے۔اس کے بعد 6 اپریل 2018ء کو عمران خان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی بھی بھرپور مخالفت کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ماہرین کا نمرتا چندانی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل شعبے کے ماہرین اور حکام نے …