منگل , 16 جولائی 2019

’سوشل میڈیا لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کو زیادہ متاثر کررہا ہے‘تحقیق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کے استعمال کی بات کی جائے تو اس کا کردار ٹین ایج لڑکے اور لڑکیوں میں تسکینِ زندگی سے متعلق خیالات کو کم کرنے میں محدود ہے، لیکن اس کے اثرات لڑکوں کی نسبت لڑکیوں پر زیادہ مرتب ہوتے ہیں، یہ نتیجہ 12 ہزار برٹش ٹین ایج لڑکوں اور لڑکیوں پر کی جانے والی تحقیق سے حاصل ہوا۔

تحقیق کے مطابق ایسا حالیہ رجحانات میں دیکھا گیا ہے کہ تسکینِ زندگی کی کمی سوشل میڈیا کے استعمال اور اس سے متعلقہ دیگر مشاغل کی طرف راغب کرتی ہے لیکن اس کے اثرات لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں میں زیادہ متواتر کے ساتھ پائے گئے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر انڈریو پرزیبیلسکی نے بتایا کہ ’حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے پیش نظر آپسی رابطوں کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کس طرح ہماری خوشحال زندگی پر اثرات مرتب کرتا ہے، یہ ایک نہایت اہم سوال بن چکا ہے۔‘

نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے جریدے پراسیڈنگز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کے اثرات یکطرفہ نہیں ہوتے بلکہ یہ امتیازی فرق رکھنے والے، دو طرفہ، ممکنہ طور پر صنف پر بھی منحصر ہوتے ہیں۔13 سے 19 سال کے لڑکے لڑکیاں نارمل اسکول کے دنوں میں کتنا وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اور ان کی طمانیت (satisfaction) کی ریٹنگز کو سمجھنے کے لیے تحقیق کاروں نے برطانوی گھرانوں کا 8 سالہ سروے استعمال کیا۔

تحقیق کاروں کی تحقیق کا مقصد نہ صرف یہ جاننا تھا کہ آیا وہ لڑکے یا لڑکیاں جنہوں نے بتایا کہ وہ زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان کی تسکینِ زندگی میں کمی واقع ہوئی یا نہیں بلکہ یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ سوشل میڈیا کے کم استعمال سے تسکینِ زندگی کا متاثر نہ ہونا سچ ہے یا نہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایمی آربن کا کہنا ہے کہ ’جہاں ہماری تحقیق اس شعبے میں روبسٹ سائنس کی جانب ایک امید افزا قدم ہے اور یہ اس جانب واحد پہلا قدم ہے وہیں اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ کس طرح سوشل میڈیا کا مختلف طریقوں سے استعمال ٹین ایجرز کو متاثر کرتا ہے، ہمیں انڈسٹری ڈیٹا درکار ہے۔‘

یہ بھی دیکھیں

غاصب صہیونی فوج کو فلسطینی بچوں کے قتل عام کا نشہ ہو چکا: فلسطین

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطینی حکومت نے قابض صہیونی ریاست کی طرف سے نہتے اور …