جمعرات , 20 جون 2019

آئی ایم ایف پروگرام، امیدیں اور پریشانیاں دونوں ایک ساتھ؟

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا حالیہ پروگرام جہاں ایک طرف صنعتی حلقوں کے اہم حصوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے وہیں بڑے کاروباری افراد اسے طویل عرصے میں ایک امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ یہ پروگرام معیشت میں طویل عدم توازن کو کچھ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اُس ایڈجسٹمنٹ کے پیمانے جو حکومت نے طے کیے ہیں، تفصیلات ان سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والا اعلامیہ ایسی زبان پر مشتمل ہے، جس کے بہت سے معنیٰ نکل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ آئی ایم ایف اعلامیہ اس تمام معاملے پر جاری ہونا والا واحد باضابطہ بیان ہے۔اس حوالے سے جب سابق وزیر خزانہ اور واشنگٹن میں اسد عمر کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے آخری راؤنڈ کے مذاکرات کرنے والے وفد میں شامل ڈاکٹر حفیظ پاشا سے پوچھا گیا کہ ’اس کا کیا مطلب ہے کہ جب فنڈ کہے گا تو پروگرام پر عملدرآمد صرف بین الاقوامی شراکت داروں کے ’مالی وعدوں‘ کی تصدیق کے بعد ہوگا‘۔

جس پر وہ کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی پریشان کن ہے‘، ’کیا وہ یہ کہہ رہے کہ ادائیگیوں کے توازن کی حمایت کے لیے دیگر ممالک کی جانب سے جمع ذخائر کو پروگرام کی شرط کے حصے کے طور پر لازمی طور پر ختم کرنا چاہیے؟

انہوں نے کہا کہ فنڈ پروگرامز ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کے توازن کے تحفظ کے لیے سمجھا جاتا ہے نا کہ بین الاقوامی قرض دہندگان کے لیے شرائط پر اصرار کرنے کے طور پر۔انہوں نے اس بیان کے علاوہ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کیا فنڈ پروگرام اب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے کلیئرنس کے تابع ہونے جارہا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی منتقلیوں پر استعمال کی گئی زبان تشویش کا باعث ہے، آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق ’آنے والے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تناظر میں حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ موجودہ معاملات کے توازن کی کوشش کرے گی‘۔حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ ’یہ ایک آئینی معاملہ ہے‘، ’18 ویں ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ کم نہیں ہوسکتا، لہٰذا حکومت کو اس پر اتفاق نہیں کرنا چاہیے‘۔

اسی طرح ایک اور جگہ جہاں اس طرح کی زبان استعمال ہوتی نظر آئی وہ تجارت تھی، انہوں نے نقطہ اٹھایا کہ ’بیان میں تجارتی سہولیات سے متعلق متعلق بات کی گئی‘،’اس کا مطلب یہ لگتا ہے کہ حکومت کو درآمدات کو کم کرنے سمیت برآمدات میں مراعات کے لیے اعلان کیے گئے مختلف اقدامات سے پیچھے ہٹنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر یہ پروگرام حکومت کو صرف ایک آلے کے ساتھ چھوڑ دے گا، جس سے وہ بین الاقوامی تجارت کو فروغ دے گی اور وہ ایکسچینج ریٹ ہوگا۔ان تمام خدشات کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ’بنیادی خسارے کی مد میں جی ڈی پی میں 1.6 فیصد کی کمی کا تخمینے کا ہدف بہت چیلنجنگ ہوگا لیکن مجھے خاص طور پر اس حوالے سے تشویش ہے کہ اس سب کے باعث دفاعی اخراجات پر بھی دباؤ موجود ہے‘۔

دوسری جانب فیصل آباد ایوان صنعت و تجارت کے صدر ضیا علمدار کہتے ہیں کہ پنجاب میں برآمدی صنعت اس سمت سے متعلق بہت فکرمند نظر آتی ہے، ’ہمارے 2 تحفظات ہیں جو آگے بڑھانے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’سیلز ٹیکس پر زیرو ریٹنگ کو واپس نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے معیشت کا برآمدی شعبہ فائدہ حاصل کر رہا ‘ جبکہ ’گیس اور بجلی کی قیمتوں پر دی گئی مراعات کو بھی واپس نہیں لینا چاہیے‘۔

ادھر پاکستان کے تمام بڑے بزنس ہاؤسز کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ پاکستان بزنس کونسل کے احسان ملک کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ فوری طور پر نگلنے کے لیے ایک کڑوی گولی ہوگی لیکن یہ پروگرام ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ وہ چیز تھی جسے فوری طور پر کرنا چاہیے‘ کیونکہ وقت سے کھیلنے کی حکومتی حکمت عملی کا فائدہ نہیں ہوگا۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام ایک ’مذاق‘ ہے کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی پروڈکٹ ہے جس میں حکومت نے بطور تماشائی آئی ایم ایف سے بات کی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ ’کیوں حفیظ شیخ اور ان کے ساتھیوں نے اس طرح کے کوئی اقدام اپنے سابقہ دور میں کیوں نہیں اٹھائے‘۔قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ بہرحال ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹیم یہاں صرف ایک مقصد کے لیے ہے اور وہ ریاست کی کمپنیوں کو پرائیویٹائز کرنا ہے‘۔

یہ بھی دیکھیں

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 5 ارب 24 کروڑ ڈالر کی کمی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی …